حماس کے زیرِانتظام غزہ کی وزارت داخلہ کے ترجمان ایاد البوزوم نے انسانی اور ماحولیاتی بحران کا انتباہ دیتے ہوئے آج ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
اسرائیل نے 7 اکتوبر کو حماس کی جانب سے ایک غیر معمولی حملے کے جواب میں 23 لاکھ آبادی پر مشتمل غزہ تک خوراک اور ایندھن پہنچنے سے روکنے کے لیے علاقے کا مکمل محاصرہ کر رکھا ہے، اسرائیلی حکام کے مطابق ان جھڑپوں کے دوران اب تک 1300 اسرائیلی ہلاک ہوچکے ہیں۔
اسرائیل نے اپنی تاریخ کے مہلک ترین راکٹ حملے کا سامنا کرنے کے بعد غزہ کی پٹی پر مسلسل بمباری شروع کردی اور تقریباً 2 ہزار 750 افراد مار ڈالے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے، وزارت صحت کے مطابق حملوں میں 9 ہزار 700 فلسطینی زخمی ہوئے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے غزہ میں جنگ بندی کی خبروں کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا جارہا تھا کہ حماس کے ساتھ تصادم کے 10 روز بعد امداد پہنچانے اور غیر ملکیوں کو مصر فرار ہونے میں مدد ملے گی۔
نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ غیر ملکیوں کو نکالنے کے بدلے غزہ میں فی الحال کوئی جنگ بندی نہیں کی جارہی اور نہ ہی انسانی امداد کی اجازت دی جارہی ہے۔
Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.
نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے غزہ میں فوری جنگ بندی کرنے اور ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسرائیل کے مظالم کو عالمی قوانین کی صریحاَ خلاف ورزی قرار دے دیا۔
وزیراعظم آفس کے آفیشل ’ایکس‘ اکاؤنٹ سے جاری بیان کے مطابق انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستان کو غزہ میں جاری تشدد اور جانی نقصان پر گہری تشویش ہے، ہم فلسطین کے مظلوم عوام سے یکجہتی کے لیے ساتھ کھڑے ہیں اور غزہ میں فوری جنگ بندی کرنے اور ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
نگران وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل کا غزہ میں شہریوں کو بلاجواز نشانہ بنانا تہذیب کے تمام اصولوں کے خلاف اور عالمی قوانین کی صریحاَ خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تشدد کے خاتمے کو فلسطینی سرزمین پر برسوں کے غاصبانہ اور غیر قانونی قبضے اور اس کے عوام کے خلاف جابرانہ پالیسیوں کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو محصور غزہ تک فوری طور پر درکار امدادی سامان کی نقل و حمل کے لیے محفوظ اور غیر محدود انسانی راہداری کھولنے کے لیے کارروائی کرنی چاہیے۔
انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستان، غزہ کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال پر او آئی سی اور اس کے رکن ممالک کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی 18 اکتوبر کو او آئی سی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں شرکت کریں گے اور غزہ کے لوگوں کی تکالیف کو دور کرنے کے لیے فوری اقدامات پر زور دیں گے۔








