اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ہفتے کے روز وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم میں متعدد تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔ ان میں مفت ایس ایم ایس رجسٹریشن اور موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگ چی استعمال کرنے والوں کے لیے فیول ٹوکن کے قواعد میں تبدیلی شامل ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔
میڈیا بریفنگ کے دوران وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے فی ٹوکن 500 روپے کی حد ختم کر دی گئی ہے۔ اہل صارفین اب ہر ماہ چار ریلیف ٹوکن حاصل کر سکیں گے، جن میں سے ہر ٹوکن پر 500 روپے کی سبسڈی فراہم کی جائے گی۔
نئے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر دو لیٹر پیٹرول کی قیمت 780 روپے ہو تو 500 روپے کا ریلیف ٹوکن استعمال کرنے والے مستحق شخص کو صرف 280 روپے ادا کرنا ہوں گے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اسکیم میں شامل تمام افراد کے لیے ایس ایم ایس چارجز بھی ختم کر دیے گئے ہیں، خواہ وہ 800 سی سی گاڑی کے مالک ہوں یا دو اور تین پہیوں والی گاڑیاں استعمال کرتے ہوں۔
شزا فاطمہ خواجہ کے مطابق ہفتے کے روز سہ پہر تین بجے تک 17 لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد اسکیم میں رجسٹریشن کروا چکے تھے، جبکہ تقریباً 15 لاکھ فیول ریلیف ٹوکن جاری کیے جا چکے تھے۔
انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم پیٹرول پمپوں پر ایس ایم ایس کے ذریعے ٹوکن استعمال کرنے کی منظوری
دوسری جانب نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت فیول سبسڈی سے متعلق قومی اسٹیئرنگ کمیٹی نے ایسے پیٹرول پمپوں پر ایس ایم ایس کے ذریعے ریلیف ٹوکن استعمال کرنے کا طریقہ کار منظور کر لیا ہے جہاں انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب نہیں۔
کمیٹی نے صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم پیٹرول پمپوں کی فہرستیں فراہم کی جائیں تاکہ انہیں بلا تاخیر اسکیم میں شامل کیا جا سکے۔
ملک بھر میں اسکیم کے لیے رجسٹریشن کا عمل جاری ہے اور شہری 9771 پر ایس ایم ایس بھیج کر رجسٹریشن کروا سکتے ہیں۔
اجلاس میں پیٹرولیم، اقتصادی امور، اطلاعات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے وفاقی وزرا کے علاوہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر، اوگرا کے چیئرمین، پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے چیئرمین، سیکریٹری پیٹرولیم اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔









