مملکتی وزیر اور پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے میں نمایاں پیشرفت کی ہے اور چھ ماہ سے بھی کم عرصے میں ورچوئل اثاثوں کے لیے ایک جامع ریگولیٹری نظام قائم کر لیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے ورچوئل اثاثوں کا ریگولیٹری فریم ورک تیار کرنے کے لیے اپنے منظور شدہ بجٹ کا صرف اٹھائیس فیصد حصہ خرچ کیا، جبکہ ادارے نے اپنے مختص کردہ بجٹ کا بانوے فیصد حصہ قومی خزانے کو واپس لوٹا دیا۔ ادارے کے مطابق، بلال بن ثاقب نے ان خیالات کا اظہار ہانگ کانگ میں منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جہاں انہوں نے پاکستان کے تیز رفتار اور کم لاگت طرزِ حکمرانی کے ماڈل کو اجاگر کیا جسے بین الاقوامی سطح پر بھی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔
ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین نے مزید کہا کہ اس ریگولیٹری فریم ورک میں منی لانڈرنگ کی روک تھام، دہشت گردی کی مالی معاونت کے سدِباب، صارفین کے اثاثوں کے تحفظ اور سائبر سیکیورٹی سے متعلق ضروری تقاضوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی حکومت کی کامیابی کا اندازہ اس کے اخراجات سے نہیں بلکہ اس کے حاصل کردہ نتائج سے لگایا جانا چاہیے۔









