شی جن پنگ کی تطہیری کارروائیاں جماعتی کنٹرول مضبوط کر سکتی ہیں، مگر جانشینی کا مسئلہ بدستور حل طلب ہے
تقریباً دو دہائیوں تک ماہرین کا عمومی خیال تھا کہ چین میں کمیونسٹ اقتدار کے برقرار رہنے کی بنیادی وجہ وہ مضبوط ادارے ہیں جو ماؤ زے تنگ کے دور کے بعد قائم کیے گئے۔ یورپ کی کمیونسٹ حکومتوں کے برعکس، جو بالآخر ختم ہو گئیں، چینی کمیونسٹ پارٹی نے سیاسی قیادت کو زیادہ منظم اور قابلِ پیش گوئی بنانے کے لیے مختلف طریقۂ کار اختیار کیے۔ قیادت کے لیے مدت کی حدود، اجتماعی قیادت اور اہلیت کی بنیاد پر عہدیداروں کی ترقی کو جماعت کے استحکام کی اہم بنیادیں سمجھا جاتا تھا۔
تاہم شی جن پنگ کی قیادت نے اس روایتی تصور کو بڑی حد تک تبدیل کر دیا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران انہوں نے ماؤ کے بعد قائم ہونے والے کئی ادارہ جاتی انتظامات کو ختم یا کمزور کیا۔ 2018 میں صدر کے عہدے کی مدت کی حد ختم کر دی گئی، اجتماعی قیادت کا کردار محدود ہوا اور کوئی واضح جانشین بھی سامنے نہیں آیا۔ اس کے ساتھ شی جن پنگ کے دور میں وسیع پیمانے پر تادیبی کارروائیاں کی گئی ہیں، جن میں پیپلز لبریشن آرمی کے اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف تحقیقات اور برطرفیاں بھی شامل ہیں۔ 2022 کے بعد درجنوں اعلیٰ فوجی افسران کو باضابطہ طور پر عہدوں سے ہٹایا گیا یا وہ عوامی منظرنامے سے غائب ہوئے۔
واشنگٹن میں بعض مبصرین ان کارروائیوں کو چین کی سیاسی کمزوری کی علامت سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ ایک ایسے طاقتور رہنما کی تصویر پیش کرتی ہیں جو اپنے اردگرد موجود عہدیداروں پر شکوک رکھتا ہے اور اپنی ذاتی گرفت مضبوط کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ اگر چین کا سیاسی استحکام واقعی ماؤ کے بعد قائم کیے گئے اداروں پر منحصر تھا تو ان اداروں کی کمزوری اور مسلسل تطہیری کارروائیوں کو نظام کی بڑھتی ہوئی کمزوری کی علامت سمجھا جا سکتا ہے۔
اس کے باوجود چینی کمیونسٹ پارٹی میں ادارہ جاتی ٹوٹ پھوٹ کے نمایاں آثار دکھائی نہیں دیتے۔ اس کے برعکس، یہ دلیل پیش کی جاتی ہے کہ جماعت کا یہی تادیبی نظام اس کی طویل سیاسی بقا کی ایک اہم وجہ ہو سکتا ہے۔ تطہیری کارروائیوں کو محض کمزوری کی علامت سمجھنے کے بجائے انہیں ایک ایسے دیرینہ نظام کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جس کے ذریعے جماعت اپنے عہدیداروں کی نگرانی کرتی، فرمانبرداری یقینی بناتی اور داخلی نظم و ضبط کو مسلسل برقرار رکھتی ہے۔
خاتمے کے بجائے اصلاح
چینی کمیونسٹ پارٹی کی تاریخ میں سیاسی تطہیر کا عمل عوامی جمہوریہ چین کے 1949 میں قیام سے بھی پہلے موجود تھا۔ بعض ادوار میں پارٹی نے اپنے مخالف سمجھے جانے والے افراد کے خلاف انتہائی سخت اور پرتشدد اقدامات بھی کیے۔
تاہم چینی نظام نے نظم و ضبط کا ایک مختلف طریقہ بھی تشکیل دیا جسے اصلاحی تطہیر کہا جا سکتا ہے۔ روایتی سیاسی تطہیر میں مخالفین کو قید، جلاوطنی یا موت کے ذریعے نظام سے نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے، جبکہ اصلاحی عمل کا مقصد اکثر عہدیدار کو جماعت کے اندر رکھتے ہوئے اس کے رویے کو تبدیل کرنا اور ضرورت پڑنے پر اس کی حیثیت محدود کرنا ہوتا ہے۔
اس فرق کی خاص اہمیت ہے۔ مقصد ہمیشہ سیاسی طور پر مشکوک عہدیدار کو مکمل طور پر ختم کرنا نہیں ہوتا بلکہ اسے اپنی غلطیاں تسلیم کرنے، جماعت سے وفاداری ظاہر کرنے اور مسلسل نگرانی قبول کرنے پر مجبور کرنا بھی ہوتا ہے۔
یہ طریقہ جماعت کی ابتدائی تاریخ میں ہی سامنے آ گیا تھا۔ 1929 میں ماؤ زے تنگ نے جماعت کے اندر غلط نظریات کی اصلاح سے متعلق اپنی قرارداد میں فکری اور سیاسی انحراف کو ایسے مسائل کے طور پر پیش کیا جنہیں تنقید اور خود تنقیدی عمل کے ذریعے درست کیا جا سکتا تھا۔
1942 سے 1945 کے درمیان یانان میں چلنے والی اصلاحی تحریک کے دوران یہ نظام زیادہ منظم شکل اختیار کر گیا۔ کمیونسٹ پارٹی کی رکنیت میں تیزی سے اضافے کے باعث قیادت کو بڑی تعداد میں نئے کارکنوں اور عہدیداروں کی جانچ کا مسئلہ درپیش تھا۔ پارٹی ارکان کو اپنی ذاتی تاریخ لکھنے، اپنے طرزِ عمل کا جائزہ لینے، ساتھیوں کے سامنے اپنی خامیوں کا اعتراف کرنے اور جماعتی حکام کی باقاعدہ جانچ سے گزرنے کا پابند بنایا گیا۔
اس نظام کا بنیادی اصول یہ تھا کہ فرد کو نظم و ضبط کا پابند بنایا جائے، نامناسب رویے کی اصلاح کی جائے اور جہاں ممکن ہو، اسے مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے جماعت کے اندر برقرار رکھا جائے۔
کئی دہائیوں سے قائم تادیبی نظام
ماؤ کے دور کے بعد چین میں غیر معمولی تبدیلیاں آئیں، لیکن جماعت کے تادیبی نظام کا بنیادی طریقۂ کار بڑی حد تک برقرار رہا۔
سیاسی یا انتظامی کوتاہی کے الزام کا سامنا کرنے والے عہدیدار سے اپنے طرزِ عمل کی تحریری وضاحت طلب کی جا سکتی ہے۔ اس وضاحت کا موازنہ ساتھی عہدیداروں کے بیانات اور اس کے سرکاری ریکارڈ میں پہلے سے موجود معلومات سے کیا جاتا ہے۔ نتائج کی بنیاد پر تنبیہ، آزمائشی مدت یا جماعت سے اخراج تک مختلف سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ اس تمام کارروائی کے دوران تیار ہونے والی دستاویزات متعلقہ عہدیدار کے مستقل سرکاری ریکارڈ کا حصہ بن جاتی ہیں۔ اگر کوئی عہدیدار تادیبی کارروائی کے باوجود جماعت میں برقرار بھی رہتا ہے تو اس کے خلاف ہونے والی تحقیقات کا ریکارڈ مستقبل میں جماعتی قیادت کے لیے دستیاب رہتا ہے۔
اس لیے اس نظام کا مقصد ضروری نہیں کہ کسی عہدیدار کے سیاسی نظریات کو حقیقی طور پر تبدیل کرنا ہو۔ عہدیدار یہ سیکھ سکتے ہیں کہ خود تنقیدی عمل کے دوران ان سے کیا کہنے کی توقع کی جاتی ہے اور مہم ختم ہونے کے بعد وہ دوبارہ اپنے سابقہ رویے اختیار کر سکتے ہیں۔
تاہم نظریاتی تبدیلی شاید اس نظام کا بنیادی مقصد ہی نہیں۔ زیادہ اہم نتیجہ ایک ایسا مستقل ریکارڈ تیار کرنا ہے جس میں کسی عہدیدار کی تاریخ، سیاسی کمزوریاں، تعلقات اور سابقہ تادیبی معاملات محفوظ رہیں۔
یہ ریکارڈ قیادت کو کنٹرول کا ایک مؤثر ذریعہ فراہم کرتا ہے۔ عہدیدار جانتے ہیں کہ ان کی فائلیں مستقبل میں دوبارہ کھولی اور ان کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں۔ یوں کسی مخصوص تادیبی مہم کے خاتمے کے بعد بھی مستقبل میں تحقیقات کا امکان عہدیداروں کو جماعتی نظم و ضبط کا پابند رکھنے میں کردار ادا کرتا ہے۔
مرکزی کنٹرول کے ایک ذریعے کے طور پر نظم و ضبط
یہ تادیبی نظام بیجنگ کو وسیع اور پیچیدہ جماعتی و ریاستی ڈھانچے کو منظم کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ چین میں متعدد سرکاری ادارے، علاقائی طاقت کے مراکز اور انتظامی تنظیمیں موجود ہیں جن کے اپنے مفادات اور ترجیحات ہو سکتی ہیں۔
اصلاحی مہمات ان ادارہ جاتی تقسیمات سے بالاتر ہو کر کام کر سکتی ہیں۔ جب مرکزی قیادت کسی تادیبی مہم کو ترجیح قرار دیتی ہے تو پورے نظام کے عہدیدار سمجھتے ہیں کہ اس کی تعمیل ضروری ہے۔
اس عمل میں ترغیب اور سزا دونوں شامل ہیں۔ مطلوبہ رویہ اختیار کرنے والے عہدیداروں کے ساتھ نرمی برتی جا سکتی ہے، جبکہ مزاحمت کرنے والوں کو پیشہ ورانہ تنزلی، عہدے سے برطرفی یا قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس طرح تادیبی مہمات مرکزی قیادت کو ایک پیچیدہ انتظامی نظام پر مشترکہ ترجیحات نافذ کرنے کا ذریعہ فراہم کرتی ہیں۔
شی جن پنگ اور ’’خود انقلاب‘‘ کا تصور
شی جن پنگ نے اس تاریخی روایت کو ’’خود انقلاب‘‘ کے تصور میں شامل کیا ہے۔ اس تصور کے مطابق کمیونسٹ پارٹی کو اپنی داخلی کمزوریوں کی مسلسل نشاندہی اور اصلاح کرتے رہنا چاہیے تاکہ وہ ان سیاسی نظاموں کے انجام سے بچ سکے جو بالآخر منہدم ہو گئے۔
یہ سوچ سوویت یونین کے خاتمے کے بارے میں شی جن پنگ کے تصور سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ ان کے نزدیک سوویت کمیونسٹ پارٹی نے اپنے داخلی نظم و ضبط کو کمزور ہونے دیا، جس نے بالآخر پورے سیاسی نظام کے زوال میں کردار ادا کیا۔
اس نقطۂ نظر کے تحت مستقل داخلی نگرانی محض بدعنوانی کے خلاف ایک عارضی مہم نہیں رہتی بلکہ جماعت کی سیاسی بقا کی مستقل حکمتِ عملی بن جاتی ہے۔
اس کا علامتی اظہار بھی واضح رہا ہے۔ شی جن پنگ نے موجودہ تادیبی مہمات کو کمیونسٹ پارٹی کی تاریخی اصلاحی تحریکوں کے اہم مقامات، بالخصوص گوتیان اور یانان، سے جوڑا ہے۔ اس طرح یہ پیغام دیا گیا ہے کہ موجودہ جماعتی نظم و ضبط کی جڑیں پارٹی کی تاریخی روایت میں موجود ہیں۔
سیاسی نظم و ضبط کی قیمت
تاہم اس نظام کی ایک قیمت بھی ہے۔
مسلسل تحقیقات اور اعلیٰ عہدیداروں کی برطرفیاں اہم اداروں، خصوصاً فوج، کی عملی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اعلیٰ فوجی عہدے خالی رہ سکتے ہیں، تجربہ کار افسر قیادت سے باہر ہو سکتے ہیں اور مستقبل کے افسر یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ زیادہ ذمہ داری لینے کے بجائے محدود کردار اختیار کرنا ان کے پیشہ ورانہ مستقبل کے لیے زیادہ محفوظ ہے۔
یوں سیاسی کنٹرول اور عملی کارکردگی کے درمیان ایک کشمکش پیدا ہوتی ہے۔ چینی کمیونسٹ پارٹی کی تاریخ میں جب دونوں میں سے کسی ایک کو ترجیح دینا ضروری ہوا تو سیاسی وفاداری اور کنٹرول کو زیادہ اہمیت دی گئی۔
وہ مسئلہ جسے یہ نظام حل نہیں کر سکتا: جانشینی
اس نظام کی زیادہ بنیادی کمزوری جانشینی کے سوال میں سامنے آتی ہے۔ اصلاحی نظام عہدیداروں کو نظم و ضبط میں رکھ سکتا ہے، منظم داخلی مخالفت کو محدود کر سکتا ہے اور مرکزی قیادت کی طاقت مضبوط بنا سکتا ہے، لیکن یہ اس سوال کا جواب نہیں دیتا کہ موجودہ اعلیٰ رہنما کے بعد اقتدار کس کے پاس جائے گا۔
بلکہ یہی نظام جانشینی کو مزید مشکل بھی بنا سکتا ہے۔ جب اعلیٰ عہدیداروں کو آزاد سیاسی حیثیت بنانے سے مسلسل روکا جائے تو کسی واضح اور قابلِ قبول جانشین کے ابھرنے کے امکانات بھی محدود ہو جاتے ہیں۔
ماضی میں چینی قیادت کے پاس اس مسئلے سے نمٹنے کے مختلف ذرائع موجود تھے۔ ماؤ زے تنگ اور ڈینگ شیاؤ پنگ اپنی انقلابی حیثیت سے سیاسی اختیار حاصل کرتے تھے، جبکہ بعد کی قیادت نے مدتِ اقتدار کی حدود، اجتماعی قیادت اور نسبتاً منظم جانشینی جیسے ادارہ جاتی طریقوں پر زیادہ انحصار کیا۔
شی جن پنگ کی صورتحال مختلف ہے۔ انہیں ماؤ یا ڈینگ جیسی انقلابی حیثیت حاصل نہیں، جبکہ قیادت کی جانشینی کو منظم کرنے والے کئی سابقہ ادارہ جاتی انتظامات بھی ان کے دور میں کمزور ہوئے ہیں۔
اس لیے چین کے سیاسی مستقبل سے متعلق بنیادی غیر یقینی صورتحال عہدیداروں یا جرنیلوں کے خلاف کارروائیوں کی تعداد نہیں بلکہ شی جن پنگ کی جانشینی کا سوال ہے۔
چین کا تادیبی نظام داخلی سیاسی کنٹرول کو بدستور مضبوط رکھ سکتا ہے، لیکن یہی نظام اس وقت اقتدار کی منظم منتقلی کا کوئی واضح طریقہ فراہم نہیں کرتا جب موجودہ رہنما بالآخر منصب چھوڑیں گے۔ چین کے طویل مدتی سیاسی استحکام کے لیے یہی حل طلب سوال موجودہ تطہیری کارروائیوں سے کہیں زیادہ اہم ثابت ہو سکتا ہے









