مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور پاکستان۔سعودی دفاعی تعاون

[post-views]
[post-views]

ادارتی تجزیہ

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خطے کے ممالک کو ایک بار پھر مشکل سفارتی اور دفاعی فیصلوں کے سامنے کھڑا کر دیا ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ریاض میں ملاقات صرف ایک رسمی عسکری رابطہ نہیں بلکہ بدلتی ہوئی علاقائی سیاست کا اہم اشارہ بھی ہے۔

اس ملاقات میں ایران کی جانب سے سعودی عرب پر حالیہ حملوں، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون، اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک کے حکام نے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی امن اور استحکام کے لیے دانشمندی، احتیاط اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ سعودی وزیر دفاع نے بھی واضح کیا کہ ایران کی جانب سے ایسے حملے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں اور امید ظاہر کی کہ تہران آئندہ کسی غلط اندازے سے گریز کرے گا۔

گزشتہ برس پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا مشترکہ اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ اس تناظر میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ دونوں کے خلاف تصور کیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ایران۔اسرائیل۔امریکہ کشیدگی کے پس منظر میں اس معاہدے کا حوالہ بار بار سامنے آ رہا ہے۔

ادھر پاکستان کی سفارتی حکمت عملی بھی قابلِ غور ہے۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پارلیمان میں بتایا کہ پاکستان نے ایران کے مسئلے کو امریکہ کے سامنے اٹھایا اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ تنازع کو جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی آمادگی ظاہر کی تھی اور بات چیت مثبت سمت میں بڑھ رہی تھی، تاہم اس کے باوجود ایران پر حملہ کر دیا گیا۔

پاکستان ایک مشکل توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک طرف ایران ایک ہمسایہ اور قریبی دوست ملک ہے، جبکہ دوسری طرف سعودی عرب کے ساتھ اس کا دفاعی اور تزویراتی تعلق بھی گہرا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کے لیے دانشمندانہ راستہ یہی ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے، سفارت کاری کو فروغ دینے اور تمام فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے فعال کردار ادا کرے۔

مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ حالات یہ واضح کرتے ہیں کہ طاقت کے استعمال سے زیادہ دیرپا حل پیدا نہیں ہوتے۔ اصل ضرورت ایسی سفارت کاری کی ہے جو تنازع کو مزید پھیلنے سے روکے اور خطے کو ایک نئی تباہ کن جنگ سے محفوظ رکھ سکے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos