پاکستان میں مہنگائی ایک بار پھر تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اعداد و شمار اس صورتحال کو واضح طور پر ظاہر کر رہے ہیں۔ اپریل 2026 میں مجموعی مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جو گزشتہ 21 ماہ کی بلند ترین سطح ہے، جبکہ بنیادی مہنگائی 8.2 فیصد تک جا پہنچی جو 13 ماہ کی بلند ترین شرح سمجھی جا رہی ہے۔ صرف ایک ماہ کے دوران قیمتوں میں 2.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس اضافے کی بڑی وجہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہے، جس کے باعث ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور جلد خراب ہونے والی اشیائے خور و نوش کی قیمتیں فوری طور پر بڑھ گئیں۔
تاہم یہ صرف آغاز ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات مکمل طور پر معیشت میں ظاہر ہونے میں کچھ وقت لیتے ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مئی اور جون میں مجموعی مہنگائی 14 سے 15 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ ایسے حالات میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے شرح سود میں 100 بنیادی پوائنٹس کا اضافہ نہ صرف درست بلکہ ضروری اقدام دکھائی دیتا ہے۔
اس مہنگائی کی ایک اہم بات یہ ہے کہ اس کا زیادہ اثر شہری علاقوں پر پڑ رہا ہے۔ شہری علاقوں میں ماہانہ مہنگائی 2.7 فیصد بڑھی جبکہ دیہی علاقوں میں یہ اضافہ 2.1 فیصد رہا۔ بنیادی مہنگائی میں بھی فرق نمایاں ہے، جہاں شہروں میں قیمتیں 1.9 فیصد بڑھیں جبکہ دیہات میں یہ اضافہ 1.1 فیصد رہا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ شہر زرعی علاقوں اور ایندھن کی ترسیل کے مراکز سے نسبتاً دور ہوتے ہیں، اس لیے قیمتوں کے جھٹکے وہاں زیادہ شدت سے محسوس کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر شہروں میں ٹماٹر کی قیمتوں میں 57 فیصد اضافہ ہوا جبکہ دیہی علاقوں میں یہ اضافہ 45 فیصد رہا۔ اسی طرح شہری ٹرانسپورٹ کے اخراجات 28 فیصد تک بڑھ گئے جبکہ دیہی علاقوں میں یہ اضافہ صرف 8 فیصد تھا۔
خوراک کی مہنگائی میں صرف ایک ماہ میں 1.8 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جلد خراب ہونے والی اشیاء کی قیمتیں 15.3 فیصد تک بڑھ گئیں۔ تازہ دودھ، تعلیمی اخراجات اور سبزیوں کی قیمتیں بھی مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ گندم کی پیداوار مقررہ ہدف سے کم رہ سکتی ہے، جس سے اناج کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
مالی سال 2026 کے دوران اوسط مہنگائی 7 سے 8 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، جو اسٹیٹ بینک کے درمیانی مدت کے ہدف 5 سے 7 فیصد سے کچھ زیادہ ہے۔ مہنگائی کا دباؤ حقیقی ہے اور عام پاکستانی شہری اس کے اثرات پہلے ہی محسوس کر رہے ہیں۔









