افغانستان کے عوام اور طالبان کی حقیقت

[post-views]
[post-views]

ادارتی تجزیہ

طالبان افغانستان میں کسی عوامی ووٹ کے ذریعے اقتدار میں نہیں آئے۔ نہ کسی انتخاب نے انہیں حکومت دی اور نہ ہی کسی عوامی رائے شماری نے ان کی پالیسیوں یا سخت طرزِ حکمرانی کی تائید کی۔ وہ بندوق کے زور پر کابل میں داخل ہوئے اور اقتدار سنبھال لیا۔ اس کے بعد سے عام افغان شہری، چاہے وہ کسان ہو، طالبہ ہو یا دکاندار، سب اس صورتحال کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ گزشتہ پچاس برسوں کی مسلسل جنگ، عدم استحکام اور محرومی کو عوامی رضامندی قرار نہیں دیا جا سکتا، یہ دراصل ایک طویل قید کی کیفیت ہے جس میں پورا معاشرہ جکڑا ہوا ہے۔

دنیا کو یہ بنیادی فرق سمجھنا ہوگا کہ طالبان کی حکمرانی اور افغان عوام کی مرضی دو الگ حقیقتیں ہیں۔ افغانستان کے لوگ اپنے ہی ملک میں گویا یرغمال بنے ہوئے ہیں۔ انہیں ان حکمرانوں کا حامی سمجھنا حقیقت کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ کوئی بھی بین الاقوامی یا علاقائی پالیسی جو طالبان حکومت کو افغانستان کے عوام کا حقیقی نمائندہ قرار دے، دراصل ان لاکھوں افغانوں کی توہین ہے جنہوں نے اپنی بیٹیوں کے خواب ٹوٹتے دیکھے یا اپنے بیٹوں کو قید خانوں میں غائب ہوتے دیکھا۔

پاکستان کے لیے یہ ایک اہم موڑ ہے۔ ماضی میں افغانستان کو پراکسی طاقتوں اور محدود مفادات کے ذریعے سنبھالنے کی کوشش کی گئی، مگر یہ حکمتِ عملی کامیاب نہیں ہوئی۔ اس کے نتیجے میں دہشت گردی، بداعتمادی اور عدم استحکام نے جنم لیا، جس نے خود پاکستان کو بھی نقصان پہنچایا۔ اب زیادہ دانشمندانہ راستہ یہ ہے کہ توجہ طالبان کی بقا کے بجائے افغان عوام کے مستقبل پر مرکوز کی جائے۔

اسلام آباد کو چاہیے کہ وہ افغان معاشرے کے تعمیری عناصر کی حمایت کرے۔ تعلیم، روزگار اور سماجی ترقی کے منصوبوں میں تعاون بڑھائے تاکہ افغان عوام خود اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے قابل بن سکیں۔ ایک مستحکم اور نمائندہ افغانستان پاکستان کے لیے خطرہ نہیں بلکہ ایک اہم تزویراتی موقع ہے۔

جب افغان عوام اپنی مرضی کی حکومت قائم کرتے ہیں تو پورے خطے کا ماحول بدل جاتا ہے۔ تجارت کو فروغ ملتا ہے، شدت پسندی کم ہوتی ہے اور سرحدیں تنازع کی بجائے تعاون کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ پاکستان کے پاس اب انتخاب ہے کہ وہ ماضی کی ناکام حکمتِ عملی کو جاری رکھے یا ایک ایسے افغانستان کے ساتھ حقیقی شراکت داری قائم کرے جو اپنے عوام کی نمائندگی کرتا ہو۔ یہی راستہ دونوں ممالک کے لیے دیرپا امن اور ترقی کی ضمانت بن سکتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos