ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ کسی بھی جامع جنگ بندی کو اس وقت تک قبول نہیں کیا جا سکتا جب تک سمندری راستوں کی ناکہ بندی ختم نہ کی جائے۔
انہوں نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ اگر جنگ بندی کی شرائط کی کھلی خلاف ورزی کی گئی تو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا عمل ممکن نہیں رہے گا۔
قالیباف کا کہنا تھا کہ حقیقی اور مؤثر جنگ بندی وہی ہو سکتی ہے جو بحری ناکہ بندی اور عالمی معیشت کو متاثر کرنے والی پابندیوں جیسے اقدامات سے پاک ہو۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات جنگ بندی کے بنیادی تصور کو متاثر کرتے ہیں۔
انہوں نے دوبارہ اس مؤقف کو دہرایا کہ کسی بھی معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں آبنائے ہرمز کی بحالی ایک پیچیدہ اور مشکل عمل بن جائے گا۔







