امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے جوہری پروگرام پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہوں تو یہ صورتحال پوری دنیا کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا تو آج عالمی حالات بالکل مختلف ہوتے۔ ان کے مطابق وہ آج بھی وہی سوچ رکھتے ہیں جو وہ کئی دہائیوں پہلے رکھتے تھے کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر ایران ایٹمی طاقت بن جاتا تو اس کے بعد مشرق وسطیٰ کے ساتھ ساتھ یورپ اور امریکا بھی خطرے کی زد میں آ سکتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی بحری، فضائی اور دفاعی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے اور ملک کی مجموعی صورتحال کمزور ہو چکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے بعض رہنما بھی موجود نہیں رہے اور زمینی حقائق میڈیا میں دکھائی جانے والی تصویر سے بالکل مختلف ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق بعض میڈیا ادارے غلط اور گمراہ کن رپورٹس کے ذریعے عوام کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اپنے بیان میں امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں بھی کردار ادا کیا اور دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ جنگ کو روکنے میں مدد دی۔







