بارسٹر نوید قاضی
حکومتیں جب انسانی حقوق سے متعلق رپورٹس اور جائزوں کا سامنا کرتی ہیں تو اکثر ایک خاص قسم کا دفاعی رویہ اختیار کر لیتی ہیں۔ عموماً بیرونی یا تنقیدی آراء کو سیاسی حملہ قرار دیا جاتا ہے، رپورٹ تیار کرنے والوں کے ارادوں پر سوال اٹھائے جاتے ہیں اور ناخوشگوار حقائق کو مبالغہ آرائی یا جانبداری کہہ کر رد کر دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی حکومتی ادارے اس رویے سے مکمل طور پر الگ نہیں رہے۔ لیکن یہ طرزِ عمل اگرچہ سیاسی طور پر قابلِ فہم ہو سکتا ہے، مگر فکری اور عملی طور پر نقصان دہ ہے۔ کوئی بھی ملک ان مسائل کو درست نہیں کر سکتا جن کا وہ دیانت داری سے جائزہ لینے سے انکار کرے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی تازہ رپورٹ “اسٹیٹ آف ہیومن رائٹس 2025” ایک سنجیدہ اور مستقل توجہ کی متقاضی ہے، نہ کہ دفاعی ردِعمل کی۔
ایچ آر سی پی کوئی غیر ملکی ادارہ نہیں بلکہ پاکستانیوں پر مشتمل ایک قومی ادارہ ہے جو ملک کے مستقبل سے گہری وابستگی رکھتا ہے۔ اس کی سالانہ رپورٹس دستاویزی شواہد، زمینی مشاہدات اور کئی دہائیوں کے تجربے پر مبنی ہوتی ہیں۔ جب ایسا ادارہ تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کرے تو حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ رپورٹ کو سنجیدگی سے پڑھے، اس کے نکات پر غور کرے اور مسائل کے حل کے لیے اقدامات کرے۔ اس سے کم رویہ عوامی ذمہ داری سے غفلت تصور ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق 2025 کا سال شہری آزادیوں میں کمی، عدالتی خودمختاری میں کمزوری اور عوامی زندگی میں بڑھتے ہوئے عدم تحفظ کا سال رہا۔ شہری آزادیوں میں کمی کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے لیے اظہارِ رائے، احتجاج، تنظیم سازی اور عوامی معاملات میں حصہ لینا پہلے سے زیادہ مشکل اور خوفناک ہوتا جا رہا ہے۔ عدالتی خودمختاری میں کمی اس بات کی علامت ہے کہ عدالتیں، جو عام شہری کے لیے انصاف کی آخری امید سمجھی جاتی ہیں، اپنی غیر جانبداری کھوتی جا رہی ہیں۔ اسی طرح عدم تحفظ میں اضافہ عوام کی روزمرہ زندگی میں خوف اور بے یقینی کے بڑھنے کو ظاہر کرتا ہے۔
رپورٹ میں اظہارِ رائے کی آزادی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون میں کی گئی ترامیم نے ایک ایسے قانون کو، جو بظاہر سائبر جرائم روکنے کے لیے بنایا گیا تھا، اختلافِ رائے دبانے کے ایک ممکنہ ذریعہ میں تبدیل کر دیا ہے۔ صحافتی تنظیموں کے مطابق اس قانون نے میڈیا کے ماحول میں خوف پیدا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں صحافی اور ادارے خود سنسرشپ پر مجبور ہو رہے ہیں۔ رپورٹرز اور ایڈیٹرز یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ وہ کیا کہہ سکتے ہیں اور کیا نہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوام تک حقیقت کا مکمل عکس نہیں پہنچ پاتا۔ کوئی بھی جمہوری نظام اس وقت درست طور پر کام نہیں کر سکتا جب معلومات کا نظام خوف کے زیرِ اثر ہو۔
انسدادِ دہشت گردی قانون میں وفاقی سطح اور بلوچستان میں کی گئی ترامیم بھی تشویش کا باعث ہیں۔ بغیر فردِ جرم کے طویل حراست کی اجازت دینا ریاست کو ایک ایسا اختیار دینا ہے جس کے غلط استعمال کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ ابتدا میں یہ اختیارات غیر معمولی خطرات کے لیے دیے جاتے ہیں، مگر تاریخ گواہ ہے کہ وقت کے ساتھ یہی قوانین سیاسی مخالفین، صحافیوں اور عام شہریوں کے خلاف بھی استعمال ہونے لگتے ہیں۔ قانون کی بنیادی روح یہ ہے کہ اگر ریاست کسی شہری کی آزادی محدود کرے تو اسے جلد اور شفاف انداز میں عدالت کے سامنے اس کی وجہ پیش کرنا چاہیے۔ جب یہ اصول کمزور پڑ جائے تو انسانی حقوق کا پورا نظام متاثر ہوتا ہے۔
رپورٹ میں کچھ مثبت پیش رفت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اقلیتوں کے قومی کمیشن سے متعلق قانون کی منظوری پاکستان میں غیر مسلم شہریوں کے لیے ایک اہم قدم ہے، جو طویل عرصے سے تحفظ کے مسائل کا سامنا کرتے آئے ہیں۔ اسی طرح اسلام آباد اور بلوچستان میں کم عمری کی شادیوں کے خلاف قانون سازی بھی ایک مثبت اشارہ ہے، جو کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے۔ یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ اگر سیاسی عزم موجود ہو تو بہتری ممکن ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ یہی عزم تمام بنیادی حقوق کے معاملے میں یکساں طور پر کیوں نظر نہیں آتا۔
گزشتہ برس پاکستان نے عالمی سطح پر اپنی سفارتی حیثیت بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ ایران اور امریکا جیسے پیچیدہ تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کرنا پاکستان کی سفارتی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ایک اہم کامیابی ہے جس کے لیے اعتماد، مہارت اور متوازن خارجہ پالیسی درکار ہوتی ہے۔
تاہم کسی ملک کی بین الاقوامی ساکھ اس کے اندرونی حالات سے ہمیشہ الگ نہیں رہ سکتی۔ اگر ایک ریاست عالمی سطح پر ذمہ دار کردار ادا کرنے کا دعویٰ کرے لیکن اندرونِ ملک شہری آزادیوں کو محدود کرے، عدالتی خودمختاری کو کمزور بنائے اور اختلافِ رائے دبانے کے لیے قوانین استعمال کرے تو اس کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ دنیا بھی اس تضاد کو دیکھتی ہے اور خود پاکستان کے شہری بھی۔
پاکستان کو ایک حقیقی فلاحی ریاست بنانے کا خواب بانیانِ پاکستان نے واضح انداز میں پیش کیا تھا۔ ایسی ریاست جہاں کمزور اور غریب طبقات کا تحفظ کیا جائے۔ مگر یہ مقصد صرف نعروں سے حاصل نہیں ہوگا۔ اس کے لیے مؤثر قوانین، جوابدہ ادارے اور ایسی سیاسی سوچ درکار ہے جو انسانی حقوق کو دباؤ کے تحت دی جانے والی رعایت نہیں بلکہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری سمجھے۔
شہری تنظیموں، سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو ان اصولوں کے لیے آواز بلند کرتے رہنا چاہیے، لیکن پہلا قدم ریاست کو اٹھانا ہوگا۔ حکومت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ مسائل موجود ہیں، ان پر مبنی رپورٹس دشمنی نہیں بلکہ اصلاح کا موقع ہیں، اور بہتری کے عمل کو مزید مؤخر نہیں کیا جا سکتا۔ اصلاحات کے لیے موجودہ وقت سے بہتر کوئی وقت نہیں۔








