آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، پندرہ سو جہاز اور بیس ہزار ملاح پھنس گئے

[post-views]
[post-views]

پاناما: اقوامِ متحدہ کے بحری ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کے باعث خلیجی علاقے میں تقریباً پندرہ سو جہاز اور بیس ہزار کے قریب ملاح پھنس کر رہ گئے ہیں، جس سے عالمی تجارت شدید متاثر ہو رہی ہے۔

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا، جس کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی محدود کر دی۔ یہ گزرگاہ دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

بحری ادارے کے سربراہ آرسینیو ڈومنگیز نے میری ٹائم کنونشن آف دی امریکاز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پھنسے ہوئے ملاح بے گناہ لوگ ہیں جو مختلف ممالک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں، مگر سیاسی تنازعات نے انہیں مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں استعمال ہونے والی اسی فیصد سے زائد اشیا سمندری راستوں کے ذریعے منتقل کی جاتی ہیں، اس لیے موجودہ بحران عالمی معیشت پر گہرے اثرات ڈال رہا ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ بھی دیکھا جا رہا ہے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پھنسے ہوئے جہازوں کو محفوظ راستہ دینے کے لیے بحری کارروائی کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد میں یہ منصوبہ روک دیا گیا۔

امریکا اب جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق تجاویز پر ایران کے جواب کا منتظر ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos