امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ایران سے متعلق ممکنہ سفارتی پیش رفت پر اختلافات سامنے آگئے ہیں، جہاں دونوں رہنماؤں کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے ٹیلی فونک گفتگو میں بتایا کہ ثالث امریکا اور ایران کے درمیان ایک مجوزہ معاہدے کی دستاویز تیار کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دستاویز پر دستخط کے بعد ایک ماہ پر مشتمل مذاکراتی عمل شروع ہوسکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز میں بحری گزرگاہ کی بحالی سمیت اہم معاملات زیر غور آئیں گے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ منگل کو ہونے والی گفتگو کے بعد اسرائیلی وزیراعظم شدید ناراضی کا شکار دکھائی دیے۔ تاہم اس حوالے سے نہ وائٹ ہاؤس اور نہ ہی اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے کوئی باضابطہ تبصرہ کیا۔
اس سے پہلے صدر ٹرمپ میڈیا سے گفتگو میں یہ مؤقف اختیار کرچکے ہیں کہ ایران کے معاملے پر واشنگٹن اور تل ابیب ایک صفحے پر ہیں اور اسرائیل امریکی پالیسی کے مطابق آگے بڑھے گا۔








