وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں چند افراد ایسے طرزِ عمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں جو بظاہر کسی مخصوص سوچ یا ایجنڈے کی عکاسی کرتا ہے، اور انہیں اپنے آئینی فرائض و ذمہ داریوں کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئین ہر شہری کو ریاست کے ساتھ مکمل وفاداری اور وابستگی کا پابند بناتا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے آئین کے آرٹیکل 5 کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ شق واضح طور پر شہریوں سے ریاست کے ساتھ غیر متزلزل وفاداری کا تقاضا کرتی ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ کسی بھی قسم کے سیاسی یا قومی معاملات پر مکالمے اور بات چیت کی بنیاد ریاست کے ساتھ وفاداری، آئین کی پاسداری اور قانونی نظم و ضبط کے احترام پر ہونی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ اختلافِ رائے کا حق اپنی جگہ موجود ہے، تاہم تمام سرگرمیوں اور مطالبات کو آئینی حدود اور قومی مفادات کے دائرے میں رہ کر آگے بڑھایا جانا چاہیے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ قومی یکجہتی اور ریاستی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام شہری آئین اور قانون کی بالادستی کو تسلیم کریں اور اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ ان کے مطابق ریاست کے ساتھ وفاداری ہی کسی بھی تعمیری گفتگو اور سیاسی عمل کا بنیادی نقطۂ آغاز ہے۔








