عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سربراہ سینیٹر ایمل ولی خان نے وفاقی بجٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ واضح نہیں کہ بجٹ پاکستان نے بنایا ہے یا آئی ایم ایف نے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ مکمل طور پر آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق تیار کیا گیا ہے اور اس میں تبدیلی کی گنجائش نہیں۔
سینیٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو اقتدار ملتے ہی اس کے رویے بدل جاتے ہیں، جبکہ بعض اہم حکومتی شخصیات کا جماعت سے سیاسی تعلق بھی واضح نہیں۔
ایمل ولی خان نے دعویٰ کیا کہ پی ڈی ایم دور میں مسلم لیگ (ن) نے اتحادی جماعتوں کا اعتماد مجروح کیا۔ انہوں نے موجودہ حکومت کو کمزور قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی پالیسیاں عوامی توقعات کی عکاسی نہیں کرتیں۔
بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے اے این پی سربراہ نے کہا کہ اس میں عوامی ریلیف کے بجائے ٹیکسوں اور قرضوں پر انحصار بڑھایا گیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ خیبر پختونخوا کے لیے بجٹ میں کیا رکھا گیا ہے اور متعدد کاروباری شعبوں کو اب تک ٹیکس نیٹ میں کیوں شامل نہیں کیا گیا۔









