بیجنگ: ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں پر نئی خدماتی فیس عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین اور دیگر دوست ممالک کو اس معاملے میں خصوصی رعایت دی جائے گی، جبکہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والے عارضی معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد نئی پالیسی نافذ کی جائے گی۔
چین میں ایران کے سفیر عبدالرضا رحمانی فضلی نے ہفتہ کے روز بیجنگ میں منعقدہ عالمی امن فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران عمان کے تعاون سے آبنائے ہرمز کے انتظام اور نگرانی کے لیے ایک نیا نظام تشکیل دے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایران کی علاقائی سمندری حدود کا حصہ ہے، اس لیے ایران وہاں فراہم کی جانے والی خدمات کے عوض فیس وصول کرے گا، تاہم اس فیس کو گزرنے کا محصول قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ایرانی سفیر کے مطابق نئے انتظامات میں بحری آمدورفت کی حفاظت، جہازوں کی نقل و حرکت کی نگرانی اور بڑی تعداد میں بحری جہازوں کی آمدورفت سے پیدا ہونے والے ماحولیاتی اثرات سے نمٹنے کے اقدامات شامل ہوں گے۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ چین اور دیگر دوست ممالک کے لیے خدماتی فیس کی شرح اور نوعیت کے تعین میں خصوصی رعایت دی جائے گی۔
گزشتہ ماہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے لیے طے پانے والے ابتدائی معاہدے کے تحت تجارتی بحری جہازوں کو ساٹھ روز تک آبنائے ہرمز سے بغیر کسی فیس کے گزرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم اس مدت کے بعد نافذ ہونے والے مستقل انتظامات پر مذاکرات تاحال جاری ہیں۔
امریکہ پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ کسی بھی مستقل معاہدے کے تحت ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر لازمی محصول یا راہداری فیس عائد کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے معمول کے حالات میں دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ فروری کے آخر میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد یہ بحری راستہ تقریباً بند ہو گیا تھا، جس کے نتیجے میں عالمی توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔
جنگ کے دوران امریکہ نے اپریل میں ایران کی جنوبی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ بھی کر دیا تھا تاکہ ایرانی تیل کی برآمدات کو محدود کیا جا سکے۔
عبدالرضا رحمانی فضلی نے کہا کہ چار ماہ تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد آبنائے ہرمز محض ایک تجارتی گزرگاہ نہیں رہی بلکہ ایک اہم سلامتی کا معاملہ بن چکی ہے، اسی لیے اس کے انتظام کے لیے نئے طریقہ کار کی ضرورت پیش آئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایران اور عمان، جن کی سرحدیں آبنائے ہرمز کے دونوں اطراف واقع ہیں، نے اس اہم بحری گزرگاہ کے انتظام، سلامتی اور مستقبل کے طریقۂ کار کا تعین کرنے کے لیے مشترکہ کمیٹی قائم کر دی ہے۔
ری پبلک پالیسی تھنک ٹینک کی شہرۂ آفاق کتاب دی بیوروکریٹک کو سمیت دیگر مقبول ترین کتابیں وینگارڈ، لبرٹی بکس، ریڈنگز، کتاب سرائے، سنگِ میل، سعید بک بینک اسلام آباد، نیشنل بک فاؤنڈیشن، سعید بک سٹورز اور پاکستان بھر کے دیگر معروف کتب فروشوں کے پاس دستیاب ہیں۔ گھر بیٹھے کتابیں منگوانے کے لیے رابطہ کریں: 03009552542۔









