پاکستان میں بظاہر آمدنی پر ٹیکس کا نظام موجود ہے، لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔ عملی طور پر یہاں ایسا مالیاتی ڈھانچہ قائم ہو چکا ہے جس میں آمدنی سے زیادہ ہر مالی لین دین کو ٹیکس کی زد میں لایا جاتا ہے۔ بینک کے ذریعے رقم کی منتقلی ہو، بجلی یا گیس کا بل ادا کیا جائے، جائیداد خریدی یا فروخت کی جائے، کوئی معاہدہ کیا جائے یا روزمرہ کی کوئی مالی سرگرمی انجام دی جائے، ریاست فوری طور پر اپنا حصہ وصول کر لیتی ہے، خواہ متعلقہ فرد یا ادارے نے کوئی منافع کمایا ہو یا نہیں۔
ماہر معاشیات ندیم الحق نے اسی بنیادی خرابی کی نشاندہی کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ موجودہ ودہولڈنگ ٹیکس کا نظام اپنی اصل روح سے ہٹ چکا ہے۔ اس کا مقصد آمدنی پر ٹیکس عائد کرنا نہیں بلکہ ہر ایسی سرگرمی سے رقم وصول کرنا بن گیا ہے جو سرکاری ریکارڈ میں نظر آتی ہو۔ یوں ٹیکس کا تعلق حقیقی آمدنی سے کم اور معاشی سرگرمی کی ظاہری موجودگی سے زیادہ ہو گیا ہے۔
اس طرزِ عمل نے ملکی معیشت پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ جو افراد اور ادارے بینکاری نظام استعمال کرتے ہیں، باقاعدہ رسیدیں جاری کرتے ہیں، قانونی معاہدے کرتے ہیں اور کاروبار کو دستاویزی شکل دیتے ہیں، وہ مسلسل اضافی مالی بوجھ کا شکار رہتے ہیں۔ اس کے برعکس غیر رسمی معیشت میں کام کرنے والوں پر یہ دباؤ نسبتاً کم ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں معیشت کو مزید غیر دستاویزی بنانے کی ترغیب ملتی ہے۔
اگرچہ حکومت ودہولڈنگ ٹیکس کو قابلِ ایڈجسٹ قرار دیتی ہے، لیکن عملی صورت حال اس دعوے کی تائید نہیں کرتی۔ ٹیکس دہندگان کی بڑی تعداد کو اپنی رقوم کی واپسی کے لیے طویل انتظار، پیچیدہ دفتری کارروائیوں اور غیر یقینی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اکثر اوقات یہ رقوم واپس ہی نہیں ملتیں، جس کے باعث کاروباری ادارے انہیں مستقل مالی لاگت سمجھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ نتیجتاً ان کے پاس سرمایہ کاری، توسیع اور روزگار پیدا کرنے کے لیے دستیاب نقد سرمایہ کم ہو جاتا ہے۔
یہ نظام دراصل مؤثر ٹیکس انتظامیہ کا متبادل نہیں بن سکتا۔ اس میں نہ حقیقی آمدنی کا درست تعین کیا جاتا ہے، نہ منافع کا منصفانہ جائزہ لیا جاتا ہے اور نہ ہی مؤثر نگرانی اور احتساب کا مضبوط نظام قائم کیا جاتا ہے۔ آسان راستہ اختیار کرتے ہوئے صرف ان سرگرمیوں سے محصولات اکٹھے کیے جاتے ہیں جو ریاست کی نظروں کے سامنے ہوں، جبکہ اصل ٹیکس استعداد بڑی حد تک غیر رسمی معیشت میں پوشیدہ رہتی ہے۔
اس پالیسی کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں زیرِ زمین منتقل ہوتی ہیں، دستاویزی معیشت کمزور پڑتی ہے، سرمایہ کاری کی رفتار متاثر ہوتی ہے اور ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا رشتہ مزید کمزور ہوتا جاتا ہے۔ جب دیانت داری، دستاویزات اور قانونی کاروبار اضافی مالی بوجھ کا سبب بن جائیں تو معیشت کا غیر رسمی سمت میں جانا ایک فطری ردعمل بن جاتا ہے۔
اگر پاکستان واقعی ٹیکس اصلاحات کا خواہاں ہے تو اسے بنیادی اصولوں کی طرف واپس آنا ہوگا۔ ٹیکس کا محور آمدنی ہونی چاہیے، محض مالی سرگرمی نہیں۔ ودہولڈنگ ٹیکس کو صرف ان محدود معاملات تک رکھا جائے جہاں وہ ٹیکس تعمیل کو بہتر بنانے کا مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتا ہو۔ اسی طرح قابلِ واپسی ٹیکس کی ادائیگی کو خودکار، شفاف اور بروقت بنایا جائے تاکہ ٹیکس دہندگان کو اپنی ہی رقم کے حصول کے لیے طویل جدوجہد نہ کرنا پڑے۔
جب تک یہ بنیادی تبدیلیاں نہیں کی جاتیں، پاکستان کا ٹیکس نظام نام تو آمدنی پر ٹیکس کا لیتا رہے گا، مگر عملی طور پر وہ جدید معاشی زندگی کے ہر رسمی قدم پر محصول وصول کرنے والا ایک ایسا نظام ہی رہے گا جو دیانت دار اور دستاویزی معیشت کو فروغ دینے کے بجائے اسے مسلسل سزا دیتا ہے۔
ری پبلک پالیسی تھنک ٹینک کی گورننس اصلاحات پر مبنی شہرۂ آفاق کتاب دی بیوروکریٹک کو سمیت اس کی دیگر اہم کتابیں وینگارڈ بکس، لبرٹی بکس، ریڈنگز، کتاب سرائے، سنگِ میل، سعید بک بینک اسلام آباد، نیشنل بک فاؤنڈیشن اور پاکستان بھر کے دیگر معروف کتب فروشوں پر دستیاب ہیں۔
گھر بیٹھے کتابیں منگوانے کے لیے رابطہ کریں: ۰۳۰۰۹۵۵۲۵۴۲









