Arshad Mahmood Awan
کئی برسوں تک بھارت کی مسلم اقلیت کے خلاف منظم امتیاز کے الزامات کو دنیا کے متعدد ممالک نے یا تو داخلی سیاسی کشمکش قرار دیا یا پاکستان اور بھارت کے باہمی تنازعے کا حصہ سمجھ کر نظرانداز کیا۔ یہ تاثر غالب تھا کہ مذہبی اقلیتوں سے متعلق شکایات زیادہ تر سیاسی بیانیے کا حصہ ہیں اور ان کا تعلق بین الاقوامی انسانی حقوق کے بجائے داخلی سیاست سے ہے۔ تاہم اب حالات میں نمایاں تبدیلی آ رہی ہے۔ جب اقوام متحدہ کے آزاد انسانی حقوق کے ماہرین خود انتخابی عمل، شہریت، سیاسی نمائندگی اور بنیادی حقوق کے حوالے سے سنگین خدشات کا اظہار کریں تو معاملہ محض دو ریاستوں کے درمیان سفارتی اختلاف نہیں رہتا بلکہ عالمی انسانی حقوق اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے دائرے میں داخل ہو جاتا ہے۔
حالیہ بحث کی بنیاد مغربی بنگال میں انتخابی فہرستوں کی بڑے پیمانے پر نظرثانی ہے، جہاں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں نے لاکھوں ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج کیے جانے پر تشویش ظاہر کی۔ ماہرین کے مطابق دستیاب معلومات سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اس عمل کے اثرات غیر متناسب طور پر مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں پر مرتب ہوئے۔ بعض حلقوں میں حذف کیے گئے ووٹروں کی اکثریت کا تعلق مسلم برادری سے بتایا گیا، حالانکہ ان علاقوں میں مسلمانوں کا آبادی میں تناسب اس قدر زیادہ نہیں تھا۔ اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو انتخابی عمل کی غیرجانبداری، مساوی سیاسی نمائندگی اور جمہوری شفافیت پر سنجیدہ سوالات جنم لیتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے ایک اور اہم پہلو کی جانب بھی توجہ دلائی، یعنی انتخابی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال۔ جدید ٹیکنالوجی انتظامی کارکردگی میں بہتری کا ذریعہ بن سکتی ہے، لیکن اگر الگورتھمز کی تشکیل، ڈیٹا کے ذرائع اور نگرانی کا نظام شفاف نہ ہو تو یہی ٹیکنالوجی پہلے سے موجود سماجی اور ادارہ جاتی تعصبات کو مزید تقویت دے سکتی ہے۔ دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر یہی بنیادی بحث جاری ہے کہ ٹیکنالوجی صرف اسی صورت منصفانہ نتائج دے سکتی ہے جب اس کی نگرانی، احتساب اور جانچ کے مضبوط نظام موجود ہوں۔ بصورت دیگر خودکار فیصلے کمزور طبقات کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔
اس سے بھی زیادہ تشویش ناک پہلو بعض اعلیٰ بھارتی حکام کی جانب سے استعمال کی گئی زبان ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے اس بات پر اعتراض کیا کہ “غیرقانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن” کی شناخت اور “شناخت کرو، حذف کرو اور ملک بدر کرو” جیسے نعرے عوامی سطح پر ایسے ماحول کو جنم دے سکتے ہیں جس میں بھارتی مسلمان شہریوں کو غیرملکی افراد کے ساتھ جوڑا جانے لگے۔ ریاستی عہدے داروں کی زبان صرف سیاسی بیانات تک محدود نہیں رہتی بلکہ وہ معاشرتی رویوں، سرکاری اداروں کی ترجیحات اور عوامی ذہن سازی پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ جب شہریت اور قومی شناخت کو مذہب یا نسلی وابستگی کی بنیاد پر دیکھا جانے لگے تو ریاستی اداروں کی غیرجانبداری متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
یہ تمام پیش رفت کسی ایک واقعے تک محدود نہیں۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران متعدد ایسے اقدامات سامنے آئے ہیں جنہوں نے عالمی سطح پر بھارت میں مذہبی آزادی، مساوی شہریت اور اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں سوالات کو تقویت دی ہے۔ شہریت ترمیمی قانون، قومی رجسٹر برائے شہری، مسلم آبادی سے متعلق مختلف پابندیاں، مذہبی انتہا پسند گروہوں کے حملے، مسلم اکثریتی علاقوں میں انہدامی کارروائیاں اور فرقہ وارانہ بیانات ایک ایسے سلسلے کی کڑیاں معلوم ہوتے ہیں جس نے بین الاقوامی مبصرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ اگرچہ ہر اقدام کے لیے حکومت اپنی انتظامی یا قانونی توجیہات پیش کرتی ہے، لیکن ان تمام واقعات کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایک ایسا رجحان سامنے آتا ہے جس پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
پاکستان طویل عرصے سے مختلف عالمی فورمز پر بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق سے متعلق خدشات کا اظہار کرتا رہا ہے۔ ماضی میں ان مؤقف کو اکثر دونوں ممالک کی سیاسی رقابت کا حصہ قرار دے کر مسترد کیا جاتا تھا، لیکن جب اقوام متحدہ کے آزاد ماہرین بھی اسی نوعیت کے سوالات اٹھائیں تو بحث کا زاویہ تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس مرحلے پر معاملہ صرف دو ہمسایہ ممالک کے بیانات کا نہیں رہتا بلکہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی ان بین الاقوامی ذمہ داریوں کا بن جاتا ہے جنہیں انہوں نے عالمی انسانی حقوق کے معاہدوں اور اصولوں کے تحت قبول کیا ہے۔
بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیتا ہے، اور اس دعوے کے ساتھ غیرمعمولی ذمہ داریاں بھی وابستہ ہیں۔ جمہوریت کی اصل روح صرف انتخابات کے انعقاد میں نہیں بلکہ اس امر میں مضمر ہے کہ ہر شہری کو مساوی حیثیت، قانون کی یکساں حفاظت اور سیاسی عمل میں بلاامتیاز شرکت کا حق حاصل ہو۔ آزاد عدلیہ، غیرجانبدار انتخابی ادارے، شفاف انتظامیہ اور بنیادی حقوق کا مؤثر تحفظ جمہوری نظام کے بنیادی ستون ہیں۔ اگر کسی معاشرے کے بڑے طبقے کو یہ احساس پیدا ہو جائے کہ ریاستی طریقۂ کار اس کے خلاف امتیازی انداز میں استعمال ہو رہا ہے تو انتخابی نظام پر عوامی اعتماد کمزور پڑنے لگتا ہے، اور یہی کسی بھی جمہوری ریاست کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہوتا ہے۔
جنوبی ایشیا کی سیاسی اور سماجی ساخت اس معاملے کو مزید حساس بنا دیتی ہے۔ اس خطے میں مذہبی کشیدگی صرف داخلی مسئلہ نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات سرحدوں سے باہر بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔ اقلیتوں کے خلاف امتیازی پالیسیوں کا تاثر ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات، علاقائی استحکام، سفارتی ماحول اور سماجی ہم آہنگی کو متاثر کر سکتا ہے۔ ایسے حالات میں داخلی فیصلے بھی بین الاقوامی مضمرات اختیار کر لیتے ہیں، خصوصاً جب ان کا تعلق انسانی حقوق، مذہبی آزادی اور سیاسی شمولیت جیسے بنیادی اصولوں سے ہو۔
اقوام متحدہ کے ماہرین کی حالیہ مداخلت کی اہمیت فوری قانونی نتائج سے زیادہ اس علامتی پیغام میں پوشیدہ ہے جو عالمی برادری کو دیا گیا ہے۔ بین الاقوامی ادارے عموماً انتہائی احتیاط کے ساتھ اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہیں، اس لیے ان کے بیانات کو محض سیاسی ردعمل سمجھ کر نظرانداز کرنا مناسب نہیں۔ اس کے برعکس، شفاف تحقیقات، آزادانہ نگرانی، مؤثر احتساب اور واضح وضاحتیں ہی ایسے خدشات کا بہترین جواب فراہم کر سکتی ہیں۔
بھارت کا آئین مذہبی آزادی، مساوی شہریت، قانون کی حکمرانی اور جمہوری اقدار کی مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ کسی بھی جمہوری معاشرے کی اصل طاقت اس وقت نمایاں ہوتی ہے جب اکثریت کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کے حقوق بھی یکساں عزم کے ساتھ محفوظ کیے جائیں۔ موجودہ صورتحال بھارت کے لیے ایک اہم موقع ہے کہ وہ اپنی آئینی روایات، جمہوری اصولوں اور عالمی انسانی حقوق سے وابستگی کو عملی اقدامات کے ذریعے ثابت کرے۔ اگر عالمی اداروں کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کو سنجیدگی سے لیا جائے، شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور انتخابی عمل پر عوامی اعتماد کو مضبوط بنایا جائے تو نہ صرف داخلی جمہوریت مستحکم ہوگی بلکہ عالمی سطح پر بھی بھارت کی جمہوری ساکھ کو تقویت ملے گی۔ اس کے برعکس، ان خدشات کو مسلسل نظرانداز کرنا ان ہی اعتراضات کو مزید مضبوط کرے گا جو اب علاقائی بحث سے نکل کر بین الاقوامی احتساب کا حصہ بن چکے ہیں۔








