بھارت میں حالیہ طبی داخلہ امتحان کے پرچے افشا ہونے کے بعد ملک گیر طلبہ احتجاج نے صرف ایک امتحانی بحران کو بے نقاب نہیں کیا بلکہ ریاستی اداروں، حکمرانی اور انصاف کے نظام پر عوامی اعتماد کے گہرے بحران کو بھی نمایاں کر دیا۔ اس پس منظر میں بھارتی سپریم کورٹ کی مداخلت ایک اہم آئینی پیش رفت کے طور پر سامنے آئی ہے۔ عدالت نے گرفتار کم عمر طلبہ کی رہائی، احتجاجی مقامات کی نگرانی کی ویڈیوز محفوظ رکھنے، مظاہرین کے ڈیجیٹل ڈیٹا کے تحفظ اور پولیس کے مبینہ تشدد کی تحقیقات کے احکامات جاری کیے۔ یہ فیصلے محض عدالتی احکامات نہیں بلکہ اس اصول کی یاد دہانی ہیں کہ قانون کی حکمرانی کو سیاسی مصلحتوں یا انتظامی سہولت کی خاطر قربان نہیں کیا جا سکتا۔
اس پورے بحران کی سنگینی کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ طبی تعلیم کے لیے تقریباً تئیس لاکھ امیدواروں نے صرف ایک لاکھ تیس ہزار نشستوں پر مقابلہ کیا۔ ان نوجوانوں نے برسوں کی محنت، مالی وسائل اور اپنی زندگی کی بہترین توانائیاں اس امید پر صرف کی تھیں کہ ان کی کامیابی کا فیصلہ صرف قابلیت اور محنت کی بنیاد پر ہوگا۔ لیکن جب امتحانی پرچوں کے افشا ہونے اور بے ضابطگیوں کے شواہد سامنے آئے تو لاکھوں طلبہ کا اعتماد یکسر ٹوٹ گیا۔ حکومت کو امتحان دوبارہ کرانے کا اعلان کرنا پڑا، مگر اس وقت تک بے شمار طلبہ شدید ذہنی دباؤ، غیر یقینی صورتحال اور مایوسی کا شکار ہو چکے تھے۔ مختلف اطلاعات کے مطابق اس بحران کے بعد کم از کم ایک درجن نوجوانوں نے اپنی جانیں بھی لے لیں، جو اس حقیقت کا دردناک ثبوت ہے کہ سخت مقابلے، غیر منصفانہ نظام اور غیر یقینی مستقبل نے بھارت کے نوجوانوں کی ذہنی صحت کو کس حد تک متاثر کیا ہے۔
تاہم یہ معاملہ صرف امتحانی پرچے لیک ہونے تک محدود نہیں رہا۔ اصل بحران اس وقت پیدا ہوا جب حکومتی اداروں نے طلبہ کے جائز تحفظات کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے ابتدا میں انہیں معمولی مسئلہ قرار دینے کی کوشش کی۔ امتحانی بے ضابطگیوں، بدانتظامی اور عوامی غصے کو کم اہمیت دینا حکومت کے لیے مہنگا ثابت ہوا۔ نوجوانوں کو محسوس ہوا کہ ریاست نہ صرف ان کے مستقبل کے تحفظ میں ناکام رہی ہے بلکہ ان کی آواز سننے کے لیے بھی تیار نہیں۔
صورتحال مزید اس وقت بگڑ گئی جب بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت سے منسوب وہ ریمارکس منظرعام پر آئے جن میں بے روزگار نوجوانوں کو ’’طفیلی‘‘ اور ’’کاکروچ‘‘ جیسے الفاظ سے تشبیہ دی گئی۔ اگرچہ ان بیانات پر مختلف قانونی اور سیاسی حلقوں میں بحث ہوئی، لیکن نوجوانوں نے انہیں اپنی تضحیک اور انسانی وقار کی نفی کے طور پر محسوس کیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ انہوں نے اس توہین کا جواب غصے کے بجائے طنز اور سیاسی شعور سے دیا اور ’’کاکروچز جنتا پارٹی‘‘ کے نام سے ایک علامتی اور طنزیہ مہم شروع کر دی۔ یہ محض ایک احتجاجی نعرہ نہیں تھا بلکہ اس بڑھتے ہوئے فاصلے کی علامت تھا جو حکمران طبقے اور نئی نسل کے درمیان پیدا ہو چکا ہے۔
احتجاج کا دائرہ وسیع ہونے کے بعد حکومت کو بالآخر پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ مظاہرین کے اہم مطالبات میں سے ایک، یعنی وزیرِ تعلیم کے استعفے، کو قبول کیا گیا اور امتحانی پرچے افشا کرنے والوں کے لیے سخت سزاؤں، طویل قید اور بھاری جرمانوں کی تجاویز بھی پیش کی گئیں۔ تاہم اس تحریک کی اصل اہمیت ان انتظامی اقدامات سے کہیں زیادہ ہے۔ اس نے یہ حقیقت آشکار کر دی کہ جب روایتی اپوزیشن جماعتیں حکومت کو مؤثر انداز میں چیلنج کرنے میں ناکام رہیں تو ملک کے نوجوان اور طلبہ جمہوری آواز بن کر سامنے آئے۔ ان کا احتجاج صرف امتحانی شفافیت کے لیے نہیں تھا بلکہ وہ عزت، انصاف، شفاف حکمرانی اور جواب دہ ریاست کا مطالبہ کر رہے تھے۔
یہ تحریک جنوبی ایشیا میں ابھرنے والی ان نئی عوامی تحریکوں کا حصہ معلوم ہوتی ہے جن میں نوجوان نسل بدعنوانی، اقربا پروری، غیر شفاف فیصلوں اور ادارہ جاتی بے حسی کو اپنی تقدیر ماننے سے انکار کر رہی ہے۔ آج کا نوجوان صرف روزگار یا تعلیمی مواقع نہیں چاہتا بلکہ وہ ایسا نظام چاہتا ہے جہاں قابلیت، دیانت داری اور محنت کو ترجیح دی جائے، نہ کہ سیاسی وابستگی، ذاتی تعلقات یا طاقتور حلقوں کی سفارش کو۔
بھارت کے اس واقعے نے ایک اور اہم حقیقت بھی واضح کی ہے کہ ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد صرف آئینی ڈھانچوں سے قائم نہیں رہتا بلکہ اس کے لیے شفافیت، غیر جانبداری اور بروقت انصاف ناگزیر ہوتے ہیں۔ اگر نوجوان یہ محسوس کریں کہ ان کے مستقبل کے فیصلے غیر منصفانہ طریقے سے کیے جا رہے ہیں تو صرف قانونی اصلاحات کافی نہیں ہوتیں، بلکہ پورے نظام کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ اعتماد ایک ایسا سرمایہ ہے جو برسوں میں بنتا ہے لیکن چند غلط فیصلوں سے ٹوٹ سکتا ہے۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہ حکومتیں زیادہ دیر تک مستحکم نہیں رہتیں جو نوجوانوں کی امنگوں، مسائل اور توقعات کو نظر انداز کرتی ہیں۔ نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے متحرک، تعلیم یافتہ اور پرجوش طبقہ ہوتے ہیں۔ اگر یہی طبقہ ریاستی اداروں سے مایوس ہو جائے تو اس کے اثرات صرف سیاست تک محدود نہیں رہتے بلکہ معیشت، سماجی استحکام اور قومی ترقی بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے نوجوانوں کے اعتماد کی بحالی ہر حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہونی چاہیے۔
پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے لیے بھی اس واقعے میں کئی اہم اسباق موجود ہیں۔ ہمارے خطے کو بھی امتحانی شفافیت، میرٹ، نوجوانوں کی بے روزگاری، ادارہ جاتی احتساب اور انصاف کے مسائل کا سامنا ہے۔ اگر ریاستی ادارے بروقت اصلاحات نہ کریں، شفافیت کو فروغ نہ دیں اور نوجوانوں کی آواز کو سنجیدگی سے نہ لیں تو ایسے بحران کسی بھی ملک میں جنم لے سکتے ہیں۔ جمہوریت صرف انتخابات کے انعقاد کا نام نہیں بلکہ یہ ایسے اداروں کا تقاضا کرتی ہے جو عوام کے سامنے جواب دہ ہوں، قانون کے مطابق فیصلے کریں اور ہر شہری کو مساوی مواقع فراہم کریں۔
بھارت کے نوجوانوں کی حالیہ تحریک اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ انصاف، شفافیت اور ادارہ جاتی احتساب کا مطالبہ کبھی فرسودہ نہیں ہوتا۔ جب نوجوان اپنے حقوق، اپنی عزت اور اپنے مستقبل کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو وہ صرف ایک مسئلے کے خلاف احتجاج نہیں کرتے بلکہ پورے معاشرے کو بہتر حکمرانی، مضبوط اداروں اور حقیقی جمہوریت کی طرف بڑھنے کا راستہ دکھاتے ہیں۔ یہی وہ سبق ہے جسے جنوبی ایشیا کے تمام ممالک کو سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ری پبلک پالیسی تھنک ٹینک کی شہرۂ آفاق کتاب دی بیوروکریٹک کو سمیت دیگر مقبول ترین کتابیں وینگارڈ بکس، لبرٹی بکس، ریڈنگز، کتاب سرائے، سنگِ میل، سعید بک بینک اسلام آباد، نیشنل بک فاؤنڈیشن اور پاکستان بھر کے دیگر معروف کتب فروشوں پر دستیاب ہیں۔ گھر بیٹھے کتاب منگوانے کے لیے رابطہ کریں: 0300-9552542۔









