نیشنل بک ریڈنگ موومنٹ: پاکستان میں کتاب بینی کی ثقافت کی بحالی کی قومی تحریک

[post-views]
[post-views]

Zafar Iqbal

کسی بھی قوم کی فکری، سائنسی اور تہذیبی ترقی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ اس کے شہری علم سے کس قدر وابستہ ہیں۔ علم تک رسائی کے بے شمار ذرائع موجود ہیں، مگر کتاب آج بھی انسانی فکر، تحقیق اور دانش کا سب سے معتبر وسیلہ ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں کتاب بینی کی روایت مسلسل کمزور ہو رہی ہے۔ مطالعہ زیادہ تر نصابی کتابوں تک محدود ہو چکا ہے اور تعلیم مکمل ہوتے ہی کتاب سے تعلق بھی ختم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں تنقیدی سوچ، تحقیق، اختراع اور فکری مکالمے کا دائرہ سکڑتا جا رہا ہے۔

اسی تشویشناک صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے ری پبلک پالیسی تھنک ٹینک نے نیشنل بک ریڈنگ موومنٹ کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس قومی تحریک کی افتتاحی تقریب 5 اگست 2026ء کو قائداعظم لائبریری، باغِ جناح، لاہور میں منعقد ہوگی۔ یہ صرف ایک تقریب نہیں بلکہ پاکستان میں کتاب بینی کی ثقافت کو دوبارہ زندہ کرنے کی ایک منظم اور طویل المدتی قومی مہم کا آغاز ہے۔

یہ منصوبہ دو سے تین برس تک جاری رہے گا اور اس کا دائرۂ کار پاکستان کے ہر ضلع اور ہر تحصیل تک پھیلایا جائے گا۔ ری پبلک پالیسی تھنک ٹینک طلبہ و طالبات، نوجوانوں، اساتذہ، جامعات، سرکاری افسران، سیاست دانوں، دانشوروں، مصنفین، صحافیوں، وکلا، سماجی تنظیموں اور نجی شعبے کو اس تحریک میں شریک کرے گا تاکہ معاشرے میں یہ شعور پیدا کیا جا سکے کہ کتاب پڑھنا صرف تعلیم حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ بہتر انسان اور بہتر شہری بننے کی بنیاد ہے۔

اگر دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ وہاں کتابیں روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ یورپ اور شمالی امریکہ میں عوامی لائبریریاں ہمیشہ آباد رہتی ہیں۔ بچے کم عمری سے ہی کہانیاں، ادب، سائنس اور تاریخ کی کتابیں پڑھنے کے عادی بنائے جاتے ہیں۔ اسکولوں میں نصاب کے ساتھ آزاد مطالعے کی بھی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جبکہ حکومتیں اور نجی ادارے اشاعت، لائبریریوں اور ادبی سرگرمیوں پر مسلسل سرمایہ کاری کرتے ہیں۔

جنوبی ایشیا میں بھی پاکستان اس حوالے سے پیچھے رہ گیا ہے۔ بھارت کی اشاعتی صنعت دنیا کی بڑی صنعتوں میں شمار ہوتی ہے اور وہاں ہر سال سیکڑوں کتاب میلے منعقد ہوتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں ادبی میلوں اور کتابوں کی نمائشوں کو قومی اہمیت حاصل ہے۔ سری لنکا نے بھی عوامی لائبریریوں کے مضبوط نظام کے ذریعے مطالعے کی روایت کو برقرار رکھا ہے۔ ان ممالک نے یہ حقیقت تسلیم کر لی ہے کہ کتابیں صرف علم کا ذریعہ نہیں بلکہ قومی ترقی کی بنیاد ہیں۔

پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ ہمارے ہاں طلبہ زیادہ تر امتحانات کی تیاری کے لیے نصابی کتابیں، گائیڈز اور نوٹس پڑھتے ہیں۔ جیسے ہی امتحانات ختم ہوتے ہیں، کتابوں سے تعلق بھی ختم ہو جاتا ہے۔ ادب، فلسفہ، تاریخ، سیاسیات، معیشت، بین الاقوامی تعلقات، سائنس، تحقیق، ٹیکنالوجی، نفسیات اور سماجی علوم جیسے موضوعات پر مطالعہ کرنے والوں کی تعداد نہایت محدود ہے۔ مذہبی کتابوں کا مطالعہ بھی ایک مخصوص حلقے تک محدود رہ گیا ہے، جبکہ دیگر علمی شعبوں میں دلچسپی مسلسل کم ہو رہی ہے۔

یہ رجحان صرف تعلیمی مسئلہ نہیں بلکہ قومی ترقی کا بھی مسئلہ ہے۔ جو قومیں زیادہ پڑھتی ہیں، وہی تحقیق میں آگے بڑھتی ہیں، نئی ایجادات کرتی ہیں، مضبوط ادارے قائم کرتی ہیں اور بہتر قیادت پیدا کرتی ہیں۔ کتاب انسان کے ذہن کو وسعت دیتی ہے، مختلف نظریات سے روشناس کراتی ہے، اختلافِ رائے کو برداشت کرنا سکھاتی ہے اور مسائل کو جذبات کے بجائے دلیل اور علم کی بنیاد پر حل کرنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔

بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ڈیجیٹل دور میں کتاب کی اہمیت ختم ہو چکی ہے کیونکہ موبائل فون، انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے ہر معلومات چند لمحوں میں دستیاب ہو جاتی ہے۔ یہ بات جزوی طور پر درست ہے کہ ڈیجیٹل ذرائع نے معلومات تک رسائی آسان بنا دی ہے، مگر معلومات اور علم میں بنیادی فرق ہے۔ سوشل میڈیا کی مختصر تحریریں، ویڈیوز یا فوری معلومات کسی کتاب کی گہرائی، تسلسل اور فکری استدلال کا متبادل نہیں بن سکتیں۔ کتاب قاری کو سوچنے، سوال کرنے، غور و فکر کرنے اور اپنی رائے تشکیل دینے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

خاص طور پر کاغذی کتاب کی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔ کتاب کو ہاتھ میں پکڑ کر پڑھنا، اس پر نشان لگانا، بار بار کسی صفحے کی طرف رجوع کرنا اور مطالعے کے دوران ذہنی یکسوئی حاصل کرنا ایک منفرد علمی تجربہ ہے۔ ڈیجیٹل ذرائع کو کتاب کا معاون ہونا چاہیے، اس کا متبادل نہیں۔

پاکستان میں لائبریریوں کی حالت بھی تشویشناک ہے۔ متعدد عوامی اور تعلیمی لائبریریاں ویران ہو چکی ہیں۔ ان میں نئی کتابوں کی کمی ہے، مطالعے کا ماحول کمزور ہے اور نوجوانوں کی آمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ لائبریریوں کو دوبارہ علمی مراکز بنایا جائے جہاں صرف کتابیں ہی نہ ہوں بلکہ مطالعے کے حلقے، مذاکرے، مصنفین سے ملاقاتیں، تحقیقی نشستیں اور فکری مباحث بھی منعقد ہوں۔

نیشنل بک ریڈنگ موومنٹ اسی مقصد کے لیے تشکیل دی گئی ہے۔ ری پبلک پالیسی تھنک ٹینک ملک بھر میں آگاہی مہم، سیمینارز، کتاب بینی کے حلقے، تعلیمی اداروں کے دورے، لائبریریوں کے ساتھ اشتراک، مطالعاتی مقابلے اور مختلف سماجی سرگرمیوں کے ذریعے ہر عمر کے افراد کو کتاب سے دوبارہ جوڑنے کی کوشش کرے گا۔ اس تحریک کا پیغام واضح ہے کہ کتابیں صرف امتحان پاس کرنے کے لیے نہیں بلکہ زندگی کو سمجھنے، معاشرے کو بہتر بنانے اور مستقبل کی تعمیر کے لیے پڑھی جاتی ہیں۔

اس تحریک کا سب سے اہم ہدف نوجوان نسل ہے۔ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اگر یہی نسل کتابوں سے دوبارہ جڑ جائے تو ملک میں تحقیق، اختراع، معیشت، حکمرانی، جمہوریت اور سماجی ترقی کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔ مطالعہ بہتر قائدین، بہتر منتظمین، بہتر اساتذہ، بہتر سائنس دان اور بہتر شہری پیدا کرتا ہے۔

5 اگست 2026ء کو قائداعظم لائبریری، باغِ جناح، لاہور میں ہونے والی افتتاحی تقریب دراصل ایک نئے فکری سفر کا آغاز ہے۔ یہ صرف ری پبلک پالیسی تھنک ٹینک کا منصوبہ نہیں بلکہ پاکستان کے روشن مستقبل کی ایک قومی دعوت ہے۔ اساتذہ، والدین، طلبہ، سرکاری افسران، سیاست دان، صحافی، مصنفین، دانشور اور ہر وہ شخص جو علم اور پاکستان سے محبت رکھتا ہے، اسے اس تحریک کا حصہ بننا چاہیے۔

پاکستان کو ترقی یافتہ، باشعور اور باوقار ریاست بنانے کے لیے صرف سڑکیں، عمارتیں اور ٹیکنالوجی کافی نہیں۔ قوموں کی اصل طاقت ان کے خیالات، تحقیق، علم اور مطالعے میں ہوتی ہے، اور یہ سب کتابوں سے جنم لیتے ہیں۔

نیشنل بک ریڈنگ موومنٹ دراصل کتاب پڑھنے کی ایک مہم نہیں بلکہ ایک فکری انقلاب کی بنیاد ہے۔ اگر ہم پاکستان کو مضبوط، روشن خیال، تحقیق دوست اور علم پر مبنی معاشرہ بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں دوبارہ کتاب کی طرف لوٹنا ہوگا۔ ہر پڑھی جانے والی کتاب ایک بہتر فرد پیدا کرتی ہے، اور بہتر افراد ہی ایک عظیم قوم کی تعمیر کرتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان میں کتاب کو دوبارہ عزت، اہمیت اور مرکزیت دی جائے، کیونکہ کتاب ہی ترقی، شعور اور قومی بیداری کا سب سے مضبوط راستہ ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]