اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ایک بار پھر ملک کی دونوں بڑی گیس کمپنیوں، سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (SSGCL)، کو تقسیم کرکے پانچ نئی کمپنیوں کے قیام کی منصوبہ بندی کو حتمی شکل دینا شروع کر دی ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت ایک قومی ٹرانسمیشن کمپنی اور چار صوبائی گیس تقسیم کار کمپنیاں قائم کی جائیں گی، جس کی طرز پر ماضی میں واپڈا کو تقسیم کر کے متعدد بجلی پیدا کرنے، ترسیل اور تقسیم کار کمپنیاں بنائی گئی تھیں۔
اس اصلاحاتی منصوبے پر منگل کو وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک اور پاکستان میں ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار کے درمیان ہونے والے اجلاس میں غور کیا گیا۔
اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ اصلاحاتی فریم ورک کے تحت سوئی کمپنیوں کے ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن اور توانائی کے کاروبار کو الگ کیا جائے گا، جبکہ گیس کے شعبے میں نجی شعبے کی شمولیت کے مزید مواقع بھی پیدا کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق کئی بڑے کاروباری گروپ نجکاری کے ذریعے ٹرانسمیشن کمپنی میں دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں، تاہم گیس کی تقسیم کا شعبہ نسبتاً زیادہ پیچیدہ ہے، جہاں ٹرانسفر پرائسنگ، کراس سبسڈی اور مختلف صوبوں میں گیس کے نقصانات کے باوجود یکساں قومی گیس نرخ جیسے مسائل موجود ہیں۔ گیس کے سب سے زیادہ نقصانات بلوچستان میں، اس کے بعد خیبرپختونخوا، سندھ اور پنجاب میں ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔
ماضی میں کے پی ایم جی اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے مالی اور تکنیکی بنیادوں پر اس ماڈل کی مخالفت کرتے ہوئے صوبوں اور نجی شیئر ہولڈرز سے مزید مشاورت کی سفارش کی تھی، جس کے باعث یہ منصوبہ 2020 میں مؤخر کر دیا گیا تھا۔
اب ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم ڈویژن اس عمل کو تیز کرتے ہوئے رواں ماہ وزیراعظم سے اس کی منظوری حاصل کرنا چاہتا ہے۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں پاکستان کے گیس سیکٹر میں اصلاحات کی مجموعی حکمتِ عملی کی توثیق کی گئی، جبکہ وزیرِ پیٹرولیم نے ہدایت دی کہ اگست 2026 کے اختتام تک وزیراعظم کی منظوری کے لیے ایک جامع روڈ میپ تیار کیا جائے۔
وزیراعظم کی منظوری کے بعد پیٹرولیم ڈویژن تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے ساتھ مرحلہ وار اصلاحاتی پروگرام نافذ کرے گا تاکہ گیس کے شعبے کو جدید، مسابقتی اور مالی طور پر مستحکم بنایا جا سکے۔
اس مقصد کے لیے پیٹرولیم ڈویژن جلد از جلد ایک ٹرانزیکشن ایڈوائزر مقرر کرے گا، جو دونوں سوئی کمپنیوں کو تقسیم کرکے پانچ نئی کمپنیوں کے قیام کا طریقہ کار تیار کرے گا۔ اس مشیر کی خدمات کے اخراجات یا تو ورلڈ بینک برداشت کرے گا یا پھر دونوں گیس کمپنیاں مساوی طور پر ادا کریں گی، جسے بعد ازاں صارفین سے وصول کیے جانے والے ٹیرف میں شامل کیا جائے گا۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ دونوں گیس کمپنیاں اور ان کے شیئر ہولڈرز اس منصوبے کے مخالف ہیں، کیونکہ اس کے نتیجے میں موجودہ کمپنیوں کا وجود ختم ہو جائے گا، اسی لیے وہ اس منصوبے کی مالی معاونت پر بھی آمادہ نہیں۔
مجوزہ منصوبے کے مطابق ایک نیشنل گیس ٹرانسمیشن کمپنی قائم کی جائے گی، جو دونوں سوئی کمپنیوں کے ٹرانسمیشن نیٹ ورک اور آپریشنز سنبھالے گی۔ یہ کمپنی بجلی کے شعبے میں سابقہ نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی ، جو اب نیشنل گرڈ کمپنی کہلاتی ہے، کی طرز پر کام کرے گی۔
اس کمپنی کے ذریعے نجی اداروں کو بھی گیس نیٹ ورک تک رسائی حاصل ہوگی، جبکہ یہ خود گیس کی خرید و فروخت کے بجائے صرف ترسیل کرے گی اور سپلائرز و خریداروں سے وہیلنگ چارجز وصول کرے گی۔ ذرائع کے مطابق پالیسی سازی سے وابستہ بعض بااثر کاروباری گروپ اس نئی ٹرانسمیشن کمپنی میں حصص خریدنے میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔
بعد ازاں دونوں سوئی کمپنیوں کے ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کو تقسیم کر کے متعدد علاقائی گیس تقسیم کار کمپنیاں قائم کی جائیں گی، جن کی تشکیل آبادی، نیٹ ورک کی کثافت، گیس کی طلب، کام کے حجم، نگرانی اور آپریشنل کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جائے گی تاکہ طویل المدتی بنیادوں پر ان کی پائیداری یقینی بنائی جا سکے۔
اس منصوبے کے تحت گیس کی فروخت کے لیے وزنی اوسط قیمت یا اس سے ملتا جلتا کوئی قیمتوں کا نظام بھی متعارف کرانا ہوگا۔
تاہم پیٹرولیم ڈویژن کے بعض حکام کا مؤقف ہے کہ کسی بھی مشیر کی تقرری سے قبل اس معاملے پر تمام متعلقہ فریقوں، صوبائی حکومتوں اور کونسل آف کامن انٹرسٹس سے مشاورت اور منظوری ضروری ہے، کیونکہ ٹرانزیکشن ایڈوائزر کی ذمہ داریاں اسی قیمتوں کے نظام پر منحصر ہوں گی جس پر اتفاق کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ بعض حلقے اس بات کے بھی مخالف ہیں کہ ٹرانزیکشن ایڈوائزر کی مکمل فزیبلٹی رپورٹ سے پہلے ہی دونوں سوئی کمپنیوں کو پانچ یا اس سے زیادہ اداروں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کر لیا جائے۔









