مودی پر تنقید کرنے والے مظاہرین کے خلاف بھارت کا کریک ڈاؤن

[post-views]
[post-views]

نئی دہلی — بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے شرکا کے خلاف پولیس مقدمات، سوشل میڈیا پوسٹس ہٹانے اور آن لائن ہراسانی کا سلسلہ جاری ہے، حالانکہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے مظاہرین کو “گمراہ نوجوان” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انہیں معاف کرتے ہیں۔

مودی نے کہا کہ ان طلبہ کو سزا دینے کے بجائے انہیں “صحیح راستہ دکھانے” کی ضرورت ہے۔ تاہم، الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ان کے اس بیان کے باوجود مودی کے حامی سوشل میڈیا پر مظاہرین کی ذاتی معلومات (ڈوکسنگ) شیئر کرنے اور انہیں ہراساں کرنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے زیرِ حکومت کئی ریاستوں میں سیکڑوں نوجوانوں، جن میں بعض کم عمر بھی شامل ہیں، کو گرفتار کرکے سنگین مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ایک مقدمے میں بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق ایف آئی آر اس الزام پر درج کی گئی کہ سوشل میڈیا پر آئینی عہدے داروں کے خلاف “توہین آمیز، بدنیتی پر مبنی اور ہتک آمیز مواد” پھیلایا جا رہا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کا یہ ردعمل ایک طرف محدود پیمانے پر کریک ڈاؤن ہے تو دوسری طرف نوجوان ووٹروں کی حمایت دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش بھی، کیونکہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران مودی کے بارہ سالہ دورِ حکومت کے خلاف سب سے بڑے احتجاج اختتام پذیر ہوئے ہیں۔

یہ تحریک مئی میں ایک طنزیہ آن لائن مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، مگر قومی سطح کے میڈیکل داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہونے اور بیس لاکھ سے زائد طلبہ کو دوبارہ امتحان دینے پر مجبور کیے جانے کے بعد یہ ملک گیر احتجاجی تحریک میں تبدیل ہوگئی۔

پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین پر پولیس کی آنسو گیس اور لاٹھی چارج کے بعد احتجاج میں مزید شدت آگئی۔ دہلی پولیس کے مطابق ان جھڑپوں میں تقریباً 180 افراد زخمی ہوئے، جن میں 118 پولیس اہلکار اور 60 مظاہرین شامل تھے۔

یہ بحران بالآخر مودی کی تیسری حکومت کے لیے سب سے بڑا سیاسی چیلنج بن گیا۔ 25 جولائی کو وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور حکومت کی جانب سے تحریک کے بنیادی مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد احتجاج ختم ہوا۔ ان مطالبات میں پرچہ لیک ہونے کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہلِ خانہ کو معاوضہ دینا اور آئندہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے سے روکنے کی ضمانت شامل تھی۔

تاہم احتجاج کے خاتمے کے باوجود اس تحریک میں حصہ لینے والے بہت سے نوجوان اب بھی قانونی کارروائیوں اور سماجی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، حالانکہ یہی تحریک مودی حکومت کو اپنے بارہ سالہ اقتدار میں پہلی مرتبہ نمایاں پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کرنے میں کامیاب رہی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]