اہم مرحلے پر پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت سنبھال لی

[post-views]
[post-views]

پاکستان نے علاقائی سیاست اور معاشی انضمام کے ایک اہم مرحلے پر شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت سنبھال لی ہے، جس سے اسلام آباد کو یوریشیا میں رابطوں، تجارت اور باہمی تعاون کو فروغ دینے

کا ایک اہم موقع میسر آیا ہے۔

تنظیم کے سربراہ کی حیثیت سے پاکستان کی ترجیحات میں علاقائی رابطوں کا فروغ نمایاں رہنے کی توقع ہے، خصوصاً ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے منسلک نقل و حمل اور تجارتی راہداریوں کی ترقی۔ ایسے راستے پاکستان کو جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور وسیع تر خطے کے درمیان ایک اہم پل بنانے کے ساتھ رکن ممالک کو علاقائی اور عالمی منڈیوں تک بہتر رسائی فراہم کرسکتے ہیں۔

بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ملاقات بھی پاکستان کے علاقائی رابطوں کے منصوبوں میں ایران کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی عکاسی کرتی ہے۔

پاکستان نے یہ صدارت ایسے وقت میں سنبھالی ہے جب بڑی جغرافیائی و سیاسی تبدیلیوں کے درمیان تنظیم کے رکن ممالک زیادہ گہرے معاشی تعاون کے خواہاں ہیں۔ اسلام آباد کے لیے اصل چیلنج اپنے جغرافیائی محل وقوع کو عملی معاشی مواقع میں تبدیل کرنا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے، علاقائی تجارت، توانائی تعاون اور وسطی ایشیا کے ساتھ معاشی روابط کو مضبوط بنانا اہم ہوگا۔

یہ صدارت پاکستان کو ایک اہم سفارتی پلیٹ فارم بھی فراہم کرتی ہے، جس کے ذریعے وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط اور تنظیم کی بڑی ریاستوں کے درمیان سیاسی اختلافات کے باوجود عملی تعاون کو آگے بڑھا سکتا ہے۔

بالآخر پاکستان کی صدارت کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اسلام آباد سفارتی اعلانات سے آگے بڑھ کر قابلِ عمل علاقائی منصوبوں کو کس حد تک فروغ دیتا ہے۔ ایران اور وسطی ایشیا کے ذریعے علاقائی رابطے پاکستان کے لیے اپنی تزویراتی جغرافیائی حیثیت کو حقیقی معاشی فائدے میں تبدیل کرنے کا ایک اہم ذریعہ بن سکتے ہیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]