امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق اردن میں موفق السلطی فضائی اڈے پر ایران کے حملوں کے دوران متعدد امریکی فوجی طیاروں کو نقصان پہنچا۔
رپورٹ کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب ہونے والے حملوں میں تقریباً آٹھ ایف-15 لڑاکا طیاروں کو معمولی نقصان پہنچا، تاہم بعد میں انہیں دوبارہ استعمال کے قابل بنا دیا گیا۔ اے-10 تھنڈربولٹ طیارہ، جسے عام طور پر وارتھوگ کہا جاتا ہے، بھی مبینہ طور پر حملے کی زد میں آیا اور اس کا ایک بازو تباہ ہوگیا۔ اردن میں ان حملوں کے نتیجے میں کسی امریکی اہلکار کی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔
یہ حملے واشنگٹن کے اس اعلان کے بعد ہوئے کہ امریکی افواج نے امریکی بحریہ کے ایک جہاز کو نشانہ بنانے کے جواب میں پانچ ایرانی آئل ٹینکروں پر حملہ کیا تھا۔ بعد ازاں ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے کہا کہ اس نے آٹھ ٹینکروں، دو جنگی جہازوں اور اردن میں امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی افواج نے اردن میں اڈے کے دفاع کے لیے 30 سے زائد پیٹریاٹ میزائل داغے۔ یہ صورت حال ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی حکام پیٹریاٹ میزائلوں اور دیگر درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں کے ذخائر میں تیزی سے کمی پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
یہ تازہ حملے امریکا اور ایران کے درمیان وسیع تر فوجی کشیدگی کا حصہ ہیں، جس کے اثرات اب مشرق وسطیٰ میں فوجی تنصیبات کے ساتھ اہم بحری تجارتی راستوں تک پھیل چکے ہیں۔
ڈیلاس میں ریپبلکن پارٹی کے وسط مدتی انتخابی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا جنگ جیت رہا ہے اور اب آبنائے ہرمز پر واشنگٹن کا کنٹرول ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ اس اہم آبی گزرگاہ کا نام بدل کر ’’ٹرمپ آبنائے‘‘ رکھ دیا جانا چاہیے۔
ٹرمپ نے ایران کو پک ایکس ماؤنٹین پر مزید سرگرمیوں کے خلاف بھی خبردار کیا۔ یہ ایک انتہائی محفوظ مقام ہے جو ایران کی متاثرہ نطنز یورینیم افزودگی تنصیب کے قریب واقع ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا وہاں ہونے والی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید فوجی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
یہ بیانات جون میں طے پانے والی اس مفاہمت کے باوجود سامنے آئے ہیں جس میں وسیع تر امن معاہدے کی جانب پیش رفت کے طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا تصور پیش کیا گیا تھا۔
اس اہم بحری راستے سے جہازوں کی آمدورفت اب بھی شدید متاثر ہے۔ ابتدائی نگرانی کے اعدادوشمار کے مطابق بدھ کو صرف سات جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد 12 اور گزشتہ 10 روز کی اوسط 14 تھی۔ سات جہازوں میں سے چار آبنائے سے باہر نکلے اور تین اندر داخل ہوئے۔ تاہم ایسے جہاز ان اعدادوشمار میں شامل نہیں جو اپنے شناختی آلات بند کرکے سفر کر رہے ہوں۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہیں توقع ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ختم ہوجائے گی۔ انہوں نے تہران پر امریکی انتخابات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ایران زیادہ دیر تک جنگ جاری رکھنے کی پوزیشن میں نہیں۔ تاہم ٹرمپ اس سے قبل بھی جنگ کے خاتمے کے لیے مختلف مدتیں بیان کرچکے ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو سمیت اعلیٰ امریکی حکام نے نجی طور پر ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ جنگ کہیں زیادہ طویل ہوسکتی ہے اور ممکنہ طور پر جنوری 2029 میں ان کی صدارت کے اختتام تک جاری رہ سکتی ہے۔ رائٹرز اس رپورٹ کی آزادانہ تصدیق نہیں کرسکا۔
امریکا اور اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق خدشات کے باعث فروری میں ایران کے خلاف فوجی حملوں کا آغاز کیا تھا۔ چھ ماہ بعد تنازع بحری جہازوں اور خطے میں فوجی اہداف پر مسلسل حملوں تک پھیل چکا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں معمول کی جہاز رانی بحال کرنے کی کوششوں کو بھی دھچکا لگا ہے۔
ایران نے کہا کہ بدھ کو اس نے آبنائے ہرمز کے قریب 10 جہازوں کو اس وقت نشانہ بنایا جب امریکا نے پانچ ایرانی آئل ٹینکر ڈبو دیے۔ نئی کشیدگی نے دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں سے ایک کو مزید متاثر کیا ہے۔ جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی رسد اسی راستے سے گزرتی تھی۔
بحیرہ احمر کے اطراف بھی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ یمن کے ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے ساتھ لڑائی میں شدت کے بعد سعودی حکام نے خمیس مشیط میں متعدد مرتبہ ہنگامی انتباہ جاری کیے۔ سعودی قیادت میں اتحاد کے مطابق جنوبی سعودی عرب کے چار شہروں پر حالیہ حوثی حملوں میں کم از کم 73 افراد زخمی ہوئے۔
حوثیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے خمیس مشیط میں ایک فضائی اڈے اور قریبی شہروں میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ اس پیش رفت نے مشرق وسطیٰ سے عالمی توانائی کی رسد کے لیے خطرات کا ایک اور محاذ کھول دیا ہے۔
آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں آمدورفت متاثر رہنے کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار ہے۔ جنگ اور اس کے نتیجے میں ایندھن کی بڑھتی قیمتیں نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ کے لیے ایک اہم داخلی سیاسی مسئلہ بھی بن چکی ہیں۔








