پاکستان کرکٹ اب محض عارضی خراب کارکردگی کے دور سے نہیں گزر رہی۔ مسلسل شکستیں، بار بار تبدیلیاں اور قومی ٹیم کے گرد بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورت حال ایک گہرے ادارہ جاتی زوال کی نشاندہی کر رہی ہے۔
اس کی تازہ مثال جاری ٹیسٹ سیریز میں سامنے آئی۔ ابتدائی دو میچوں میں بھاری شکستوں کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے آخری ٹیسٹ سے قبل ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کر دیں۔ سات کھلاڑیوں کو تبدیل کیا گیا، جبکہ بلائے گئے کھلاڑیوں میں پانچ ایسے تھے جنہوں نے اس سے قبل بین الاقوامی سطح پر کوئی میچ نہیں کھیلا تھا۔ باہر کیے جانے والے بعض کھلاڑیوں نے حالیہ عرصے میں مناسب کارکردگی بھی دکھائی تھی، جس کے باعث ان تبدیلیوں کا وقت اور حجم مزید سوالات پیدا کرتا ہے۔
لیکن پاکستان کرکٹ کا بنیادی مسئلہ صرف کھلاڑیوں کا انتخاب نہیں۔
ملک کی نمائندگی کرنے والے بیشتر کھلاڑی دستیاب بہترین کھلاڑیوں میں شامل ہیں۔ کسی بھی کھلاڑی کے انتخاب یا اخراج پر اختلاف ہوسکتا ہے، لیکن اصل تشویش ایک ایسی انتظامی ثقافت ہے جو طویل مدتی منصوبہ بندی کے بجائے فوری ردعمل پر قائم دکھائی دیتی ہے۔
مسلسل غیر یقینی صورت حال میں مضبوط ٹیمیں تشکیل نہیں دی جاسکتیں۔ کھلاڑیوں کو اعتماد، کوچز کو وقت اور سلیکٹرز کو واضح حکمت عملی درکار ہوتی ہے۔ ہر شکست کو انتظامی بحران بنا کر کھلاڑی تبدیل کرنا اور نیا منصوبہ پیش کرنا کسی پائیدار نظام کی بنیاد نہیں بن سکتا۔
اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات پاکستان کرکٹ کی طویل مدتی تنظیم نو کے کسی مؤثر منصوبے کا نظر نہ آنا ہے۔ ایک مستحکم ملکی کرکٹ نظام، جدید تربیت، کھیلوں کی سائنس، اعداد و شمار کا تجزیہ، کھلاڑیوں کی منظم تربیت اور قیادت میں تسلسل عالمی سطح پر مسابقتی ٹیم تیار کرنے کے لیے ضروری ہیں۔
کرکٹ کا انتظام بھی خصوصی مہارت کا تقاضا کرتا ہے۔ کرکٹ بورڈ کو کسی سرکاری محکمے کی طرح نہیں چلایا جاسکتا جہاں اختیار کو مہارت کا متبادل سمجھ لیا جائے۔ بورڈ کی بنیادی ذمہ داری ایسے ادارے اور نظام قائم کرنا ہونی چاہیے جن میں کھلاڑی اور کوچز بہتر کارکردگی دکھا سکیں، نہ کہ ٹیم کے معاملات میں مسلسل مداخلت کی جائے۔
مسلسل زوال کے نتائج صرف شکستوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ کمزور پاکستان بڑی بین الاقوامی ٹیموں کے لیے نسبتاً کم پُرکشش حریف بن سکتا ہے۔ بڑی سیریز میں کمی سے عالمی سطح پر مواقع اور تجارتی اہمیت کم ہوگی، جس کے نتیجے میں ملکی کرکٹ اور نئے کھلاڑیوں کی تیاری کا نظام مزید متاثر ہوسکتا ہے۔
پاکستان کرکٹ کبھی غیر یقینی نتائج اور غیر معمولی صلاحیت کا امتزاج ہوا کرتی تھی۔ غیر یقینی صورت حال آج بھی موجود ہے، لیکن غیر معمولی کارکردگی اب تیزی سے نایاب ہوتی جا رہی ہے۔
پاکستان کرکٹ کو کسی نئے نعرے، نئی کمیٹی یا اچانک بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی ضرورت نہیں۔ اسے ایک جامع ادارہ جاتی اصلاح کی ضرورت ہے جس کی بنیاد مستحکم ملکی کرکٹ، میرٹ پر انتخاب، کھلاڑیوں کی پیشہ ورانہ تربیت، جدید کوچنگ، واضح کارکردگی کے معیار اور قیادت کے تسلسل پر ہو۔
نتائج بہتر ہونے میں وقت لگ سکتا ہے اور اسے قبول کیا جانا چاہیے۔
لیکن ایک ہی انتظامی غلطیوں کو بار بار دہرانا اور پھر پاکستان کرکٹ کی بحالی کی امید رکھنا قابل قبول نہیں۔








