نئے صوبوں کی تشکیل کے بارے میں ریپبلک پالیسی کا مؤقف واضح مگر تنقیدی ہے۔ ہمارے نزدیک پاکستان ایک وفاقی جمہوریہ ہے، اس لیے نئے صوبوں کی بحث کو محض انتظامی تقسیم کے بجائے نئی وفاقی اکائیوں کی تشکیل کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ وفاقی اکائی صرف انتظامی سہولت کے لیے قائم ہونے والا علاقہ نہیں، بلکہ وفاقی نظام کے اندر ایک آئینی، سیاسی اور مالیاتی اکائی ہوتی ہے۔
ریپبلک پالیسی نے اپنی حالیہ کتاب Beyond Four Provinces: Why Pakistan Needs Federal Units, Not Administrative Units میں یہی بنیادی مقدمہ پیش کیا ہے کہ پاکستان کو نئی وفاقی اکائیوں کی ضرورت ہے، جبکہ انتظامی کارکردگی اور عوام تک خدمات کی مؤثر فراہمی کا تعلق بنیادی طور پر مضبوط اور بااختیار مقامی حکومتوں سے ہے۔ مقامی حکومت محض انتظامی ڈھانچہ نہیں، بلکہ گورننس کو شہریوں کی دہلیز تک پہنچانے کا بنیادی ادارہ ہے۔
کتاب میں نئے صوبوں کی تشکیل کے آئینی اور سیاسی طریقۂ کار کا تفصیلی جائزہ لینے کے ساتھ ان کی مالیاتی پائیداری، وسائل کی تقسیم، انتظامی ساخت اور وفاق کے ساتھ تعلق کو بھی زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ مقصد محض صوبوں کی تعداد میں اضافہ تجویز کرنا نہیں، بلکہ یہ واضح کرنا ہے کہ نئی وفاقی اکائیاں کس طرح آئینی طور پر تشکیل دی جاسکتی ہیں اور انہیں مالی و انتظامی طور پر قابلِ عمل کیسے بنایا جاسکتا ہے۔
ریپبلک پالیسی کی یہ نئی کتاب اب مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ کتاب حاصل کرنے کے لیے ریپبلک پالیسی سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔









