نیپال کی نوجوان سیاسی قیادت اور ماحولیاتی کارکن دنیا کی بڑی معیشتوں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث ملک کو پہنچنے والے نقصانات کا معاوضہ ادا کریں۔ عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں نیپال کا حصہ نہایت کم ہے، لیکن ہمالیہ کے پگھلتے گلیشیئرز اور تباہ کن سیلابوں کے سنگین نتائج اسے بھگتنا پڑ رہے ہیں۔
چھبیس سالہ ماحولیاتی کارکن تاشی لہازوم کے لیے یہ بحران محض ایک عالمی مسئلہ نہیں بلکہ ان کی اپنی زندگی کا تلخ تجربہ ہے۔
جب وہ گیارہ برس کی تھیں تو ایک برفانی جھیل کا پانی کناروں سے باہر نکل آیا اور ہمالیہ کی ایک بلند وادی میں واقع ان کے گھر کو سیلاب نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس تباہی میں ان کے خاندان کے سینکڑوں یاک میں سے صرف دو زندہ بچ سکے۔
سنہ ۲۰۲۵ میں ایک اور اچانک آنے والے سیلاب نے ان کے گاؤں کو متاثر کیا۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ سیلاب بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کے باعث مستقل طور پر منجمد زمین کے پگھلنے کا نتیجہ تھا۔
ان واقعات نے تاشی لہازوم کی سیاسی اور ماحولیاتی شعور کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ ایک سال قبل جب نیپال کے نوجوان سڑکوں پر نکلے تو وہ بھی دیگر ماحولیاتی کارکنوں کے ساتھ نئی نسل کی احتجاجی تحریک میں شامل ہو گئیں۔ اس تحریک کے نتیجے میں بالآخر مارچ میں نوجوانوں کی اکثریت پر مشتمل حکومت قائم ہوئی۔
گزشتہ ماہ ہمالیہ میں ایک گلیشیئر کے ٹوٹنے سے پیدا ہونے والی پانی کی شدید لہر نے نیپال اور تبت کی متعدد وادیوں میں تباہی مچا دی۔ اس آفت میں آٹھ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک یا لاپتا ہوئے۔
اس سانحے کے بعد تاشی لہازوم نے ایک بار پھر دنیا کے سب سے زیادہ آلودگی پھیلانے والے ممالک سے مالی معاوضے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے نیپال کی صورت حال کو قومی سطح کی ماحولیاتی ہنگامی حالت قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی امداد کی زبان چھوڑ کر موسمیاتی نقصانات کے معاوضے اور تلافی کی بات کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ نیپال کے عوام نے موسمیاتی تبدیلی کا یہ بحران پیدا نہیں کیا، لیکن اس کی تباہ کن قیمت انہیں ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
نیپال کی نوجوان ماحولیاتی تحریک کا بنیادی مطالبہ یہی ہے کہ عالمی حدت میں معمولی حصہ ڈالنے والے ممالک کو اس کے سنگین ترین نتائج تنہا برداشت کرنے کے لیے نہ چھوڑا جائے۔









