ریپبلک پالیسی | بین الاقوامی امور | 30 اکتوبر 2026ء
یروشلم: اسرائیل کے وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو کے لیے اقتدار برقرار رکھنا غیر یقینی ہو گیا ہے، کیونکہ منگل کو ہونے والے عام انتخابات میں ان کا سیاسی اتحاد پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ دوسری جانب عرب قیادت میں قائم سیاسی جماعتوں نے پارلیمان میں غیر معمولی نمائندگی حاصل کر لی ہے اور وہ نئی حکومت کی تشکیل کے لیے ہونے والے مذاکرات میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔
اسرائیل کے مرکزی انتخابی کمیشن کی جانب سے جمعے کی صبح جاری کردہ نتائج کے مطابق، نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحاد نے 120 رکنی کنیسٹ میں 53 نشستیں حاصل کیں، جو حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں سے آٹھ کم ہیں۔ سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں حزبِ اختلاف کے اتحاد کو 48 نشستیں ملیں، جبکہ باقی 19 نشستیں عرب قیادت میں قائم جماعتوں کے حصے میں آئیں۔
نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ 27 نشستوں کے ساتھ انفرادی طور پر سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی۔ تاہم، ان کے حکومتی اتحاد کی مجموعی نشستیں سبک دوش ہونے والی پارلیمان میں حاصل 68 نشستوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہو گئی ہیں۔
انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح 77.9 فیصد رہی اور 57 لاکھ سے زیادہ ووٹ ڈالے گئے۔ انتخابی نتائج باضابطہ طور پر 4 نومبر کو صدر اسحاق ہرزوگ کے سامنے پیش کیے جانے ہیں۔ موجودہ صورتِ حال میں دونوں بڑے سیاسی اتحادوں میں سے کوئی بھی تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں، جس کے باعث حکومت سازی کے لیے پیچیدہ مذاکرات متوقع ہیں۔
لیکوڈ کی جانب سے انتخابی مداخلت کے الزامات
انتخابات کے بعد سیاسی کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب لیکوڈ نے دعویٰ کیا کہ غیر ملکی مداخلت اور عرب قیادت میں قائم جماعتوں سے متعلق بے ضابطگیوں کے ذریعے انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی۔
جمعرات کو جاری کردہ بیان میں نیتن یاہو کی جماعت نے الزام لگایا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی اور بیرونی معاونت کے ذریعے ووٹنگ کے رجحانات کو اس انداز میں متاثر کیا گیا جس سے حکمران اتحاد کمزور ہوا۔
ان الزامات میں یہ دعویٰ بھی شامل تھا کہ قطر نے عرب سیاسی جماعتوں کی حمایت بڑھانے کے لیے سرگرمیوں کی مالی معاونت کی۔ قطر اور متعلقہ جماعتوں نے ان الزامات کو مسترد کر دیا۔
تاحال کوئی ایسا قابلِ تصدیق عوامی ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے یہ ثابت ہو کہ مبینہ مداخلت نے انتخابی نتائج کو تبدیل کیا۔
آئزن کوٹ نے نیتن یاہو کے سیاسی حلقے پر الزام لگایا کہ پارلیمانی اکثریت کھونے کے بعد وہ انتخابی عمل پر عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس تنازع نے اسرائیل کے عرب شہریوں کے ساتھ برتاؤ سے متعلق خدشات کو بھی نمایاں کیا ہے۔ عرب شہری اسرائیل کی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ ہیں اور ان میں اکثریت فلسطینی النسل ہے۔ عرب سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انتخابی نتائج پر شکوک پیدا کرنے والے یہ الزامات ایک پوری برادری کو بلاجواز مشکوک بنا رہے ہیں، حالاں کہ اس نے اپنے جمہوری حقِ رائے دہی کا استعمال کیا ہے۔
انتخابی حکام کی جانب سے تحقیقات کا حکم
مرکزی انتخابی کمیشن کے سربراہ اور سپریم کورٹ کے جسٹس نوعام سولبرگ نے غیر ملکی مداخلت کے ممکنہ شواہد سے متعلق شبہات اسرائیل کے داخلی سلامتی کے ادارے شِن بیت کو بھجوا دیے۔
سولبرگ نے تسلیم کیا کہ الزامات کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم ان کے مطابق معاملہ تحقیقات کا متقاضی ہے۔
شِن بیت نے مشتبہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کی تصدیق کی، لیکن اس بات پر زور دیا کہ تحقیقات کو کسی پوری برادری کے خلاف الزام کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
دوسری جانب مرکزی انتخابی کمیشن نے ان دعوؤں کو مسترد کیا کہ بڑے پیمانے پر انتخابی خلاف ورزیوں نے ووٹنگ کے عمل کو مشکوک بنا دیا ہے۔ کمیشن کے مطابق، تحقیقات کے حوالے سے گردش کرنے والی بعض اطلاعات بے بنیاد ہیں اور اس عمل سے جاری کردہ انتخابی نتائج متاثر نہیں ہوں گے۔
صدر اسحاق ہرزوگ نے جامع تحقیقات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ جمہوری عمل میں قانونی طور پر حصہ لینے والے شہریوں کی ساکھ کو نقصان نہیں پہنچایا جانا چاہیے۔
اس تنازع میں ایک بنیادی فرق نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے: مخصوص الزامات کی تحقیقات کرنا ایک بات ہے، جبکہ ان کی بنیاد پر پورے انتخابی حلقے یا کسی پوری برادری کی ساکھ پر سوال اٹھانا دوسری بات ہے۔
عرب جماعتوں کو پارلیمان میں غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل
ان انتخابات کے نتیجے میں عرب قیادت میں قائم سیاسی جماعتوں کی پارلیمانی نمائندگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جوائنٹ لسٹ نے 11 نشستیں حاصل کیں، جبکہ رعام کے حصے میں آٹھ نشستیں آئیں۔ یوں دونوں جماعتوں کی مجموعی نشستیں 19 ہو گئی ہیں۔
یہ صورتِ حال آئزن کوٹ کی حزبِ اختلاف کے لیے حکومت سازی کا ایک اہم امکان پیدا کرتی ہے۔ اگر اسے تمام 19 عرب ارکانِ پارلیمان کی حمایت حاصل ہو جائے تو اس کی مجموعی تعداد 67 نشستوں تک پہنچ سکتی ہے، جو حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں سے زیادہ ہے۔
تاہم، اس تعاون کی راہ میں سیاسی رکاوٹیں موجود ہیں۔ حزبِ اختلاف کے اتحاد میں شامل بعض جماعتوں نے عرب قیادت میں قائم سیاسی تنظیموں کے ساتھ اتحاد بنانے پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ آئزن کوٹ نے تعاون کے امکان کو مسترد نہیں کیا، لیکن کسی ممکنہ حکومتی اتحاد کی حتمی شکل ابھی واضح نہیں۔
عرب جماعتیں باضابطہ طور پر حکومت میں شامل ہوئے بغیر بھی پارلیمانی فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہیں، جن میں کنیسٹ کی قیادت کے انتخاب اور حکومت پر اعتماد سے متعلق ووٹنگ شامل ہے۔ جوائنٹ لسٹ کے سینئر رہنما احمد طیبی کے مطابق، حزبِ اختلاف کے نمائندوں نے ان سے کنیسٹ کے اسپیکر کی تبدیلی کے معاملے پر رابطہ کیا ہے۔
عرب جماعتوں کی بڑھتی ہوئی نمائندگی عرب ووٹروں کی بھرپور شرکت کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ اسرائیل کے پارلیمانی نظام میں سیاسی تقسیم کے باعث اس برادری کے سیاسی اثر و رسوخ کو تاریخی طور پر کئی رکاوٹوں کا سامنا رہا ہے۔
اس سے قبل 2021ء میں رعام ایک حکومتی اتحاد کا حصہ بن چکی ہے۔ یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ عرب قیادت میں قائم جماعتوں اور بنیادی طور پر یہودی سیاسی اتحادوں کے درمیان تعاون ممکن ہے، اگرچہ اس حوالے سے سیاسی اختلافات اور تنازعات بھی موجود ہیں۔
حکومت سازی کے مذاکرات اسرائیلی سیاسی نظام کا امتحان
نئی حکومت کی تشکیل کے لیے مذاکرات مکمل ہونے تک نیتن یاہو وزیرِاعظم کے عہدے پر برقرار رہیں گے۔ انتخابی نتائج باضابطہ طور پر پیش کیے جانے کے بعد صدر ہرزوگ پارلیمانی جماعتوں سے مشاورت کریں گے اور کسی ایک امیدوار کو حکومت بنانے کی دعوت دیں گے۔
اس امیدوار کو پارلیمان میں اتنی حمایت حاصل کرنا ہوگی کہ وہ حکومت قائم کر سکے اور اعتماد کے ووٹوں میں اسے برقرار رکھ سکے۔
ممکنہ راستوں میں حزبِ اختلاف اور عرب جماعتوں کے درمیان تعاون، مختلف سیاسی اتحادوں سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کے مابین مذاکرات، یا متبادل حکومتی معاہدے شامل ہیں۔ تاہم، ہر راستے میں اہم سیاسی اختلافات موجود ہیں، جو مذاکرات کو مشکل بنا سکتے ہیں۔
اگر مسلسل کوششوں کے باوجود کوئی جماعت حکومت بنانے میں کامیاب نہ ہوئی تو اسرائیل کو ایک اور عام انتخاب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے سیاسی غیر یقینی کی صورتِ حال مزید طویل ہو جائے گی۔
ان نتائج کے نیتن یاہو کی ذاتی سیاسی صورتِ حال پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ انہیں بدعنوانی کے مقدمات کا سامنا ہے اور 7 اکتوبر 2023ء کو حماس کی قیادت میں ہونے والے حملے سے متعلق سکیورٹی ناکامیوں کی تحقیقات کے مطالبات بھی جاری ہیں۔
جمہوری ساکھ اور سیاسی نمائندگی کا امتحان
اقتدار کی فوری کشمکش سے آگے بڑھ کر یہ انتخابات سیاسی نمائندگی، اتحادی حکومتوں کی تشکیل اور جمہوری اداروں پر عوامی اعتماد سے متعلق وسیع تر سوالات اٹھاتے ہیں۔
پارلیمان میں نشستوں کی تقسیم واضح کرتی ہے کہ کسی سیاسی اتحاد کا سب سے زیادہ نشستیں حاصل کر لینا بذاتِ خود حکومت بنانے کا اختیار نہیں دیتا۔ منقسم پارلیمان میں حکومت کی تشکیل کا انحصار اتحادی معاہدوں اور مختلف جماعتوں کے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون پر آمادگی پر ہوتا ہے۔
عرب ووٹروں سے متعلق تنازع اس صورتِ حال میں ایک اور اہم پہلو کا اضافہ کرتا ہے۔ انتخابی عمل میں حصہ لینا بنیادی جمہوری حق ہے، اور انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات کی بنیاد قابلِ اعتماد شواہد اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہیے، نہ کہ کسی پوری برادری کے خلاف اجتماعی شبہات۔
اسرائیل کے لیے فوری چیلنج یہ ہے کہ انتخابی نتائج کو ایک فعال حکومت کی تشکیل میں تبدیل کیا جائے اور ساتھ ہی انتخابی عمل کی شفافیت و دیانت پر عوامی اعتماد برقرار رکھا جائے۔
نیتن یاہو اقتدار میں رہتے ہیں یا کوئی متبادل اتحاد حکومت بناتا ہے، اس کا فیصلہ صرف دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کی نشستوں سے نہیں بلکہ کنیسٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے ہونے والے مذاکرات سے ہوگا۔
یوں اسرائیل کے سامنے دو باہم مربوط سوالات ہیں: کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے اکثریت کون حاصل کر سکتا ہے، اور کیا ملک کے سیاسی ادارے اقتدار کی منتقلی کے اس مرحلے کو عوامی اعتماد کو مزید نقصان پہنچائے بغیر سنبھال سکتے ہیں؟








