ریپبلک پالیسی | قومی امور | 30 اکتوبر 2026ء
اسلام آباد: وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنماؤں نے ماضی میں حکومت سے رابطہ کرکے خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کی درخواست کی تھی۔ بدھ کو سینیٹ کے اجلاس میں ان کے اس بیان پر اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کیا اور ایوان میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔
یہ الزام اس وقت سامنے آیا جب محسن نقوی جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے ان کے حالیہ دورۂ ایران اور علاقائی صورتِ حال سے متعلق حکومتی پالیسی پر کی جانے والی تنقید کا جواب دے رہے تھے۔
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹرز سے مخاطب ہوتے ہوئے وزیرِ داخلہ نے دعویٰ کیا کہ جے یو آئی (ف) کے نمائندوں نے نجی ملاقاتوں میں وفاقی حکومت کو خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کی ترغیب دی تھی، حالاں کہ جماعت کا عوامی سیاسی مؤقف اس سے مختلف تھا۔
پی ٹی آئی کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر کا نام لیتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ جے یو آئی (ف) کے رہنماؤں نے حکومتی عہدیداروں سے رابطہ کیا اور ان پر زور دیا کہ گورنر راج کے ذریعے صوبے کی موجودہ حکومت کو ہٹایا جائے۔
اس بیان پر جے یو آئی (ف) کے سینیٹرز نے فوری احتجاج کیا۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے وزیرِ داخلہ کے مؤقف پر اعتراض اٹھایا۔ سینیٹ کے چیئرمین کو بار بار مداخلت کرنا پڑی اور انہوں نے ارکان سے نظم و ضبط برقرار رکھنے، ایک دوسرے کی بات نہ کاٹنے اور وزیرِ داخلہ کو اپنا بیان مکمل کرنے کا موقع دینے کی درخواست کی۔
محسن نقوی نے اس دوران مبینہ رابطوں میں شامل جے یو آئی (ف) کے رہنماؤں کے نام ظاہر نہیں کیے اور نہ ہی اپنے دعوے کے حق میں کوئی دستاویزی ثبوت پیش کیا۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا معاملہ
وزیرِ داخلہ کے اس دعوے نے پہلے سے کشیدہ پارلیمانی بحث میں ایک اہم آئینی معاملہ بھی شامل کر دیا۔ پاکستان میں گورنر راج ایک غیر معمولی آئینی انتظام ہے، جس کے تحت مخصوص حالات میں صوبائی حکومت کے معمول کے اختیارات وفاقی مداخلت سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس کے لیے آئین میں مقررہ شرائط اور طریقۂ کار کی پابندی ضروری ہے۔
آئین کا آرٹیکل 234 اس صورت میں صدرِ مملکت کو کارروائی کا اختیار دیتا ہے جب کسی صوبے کا نظامِ حکومت آئینی دفعات کے مطابق نہ چلایا جا سکے۔ تاہم، اس اختیار کے استعمال کے لیے آئینی طریقۂ کار اور پارلیمانی نگرانی سے متعلق شرائط بھی موجود ہیں۔
خیبر پختونخوا میں وفاقی مداخلت کا امکان سیاسی طور پر حساس رہا ہے، کیونکہ صوبے میں پی ٹی آئی اور اس کے اتحادیوں کی حکومت ہے اور صوبائی قیادت کے وفاقی حکومت کے ساتھ تعلقات میں اکثر کشیدگی دیکھی گئی ہے۔
محسن نقوی کے بیان سے یہ تاثر سامنے آیا کہ جے یو آئی (ف) اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی اختلافات محض عوامی تنقید تک محدود نہیں رہے بلکہ مبینہ طور پر صوبے کے حکومتی ڈھانچے میں تبدیلی کے امکانات پر بھی بات چیت ہوئی۔
تاہم، وزیرِ داخلہ کا یہ مؤقف فی الحال ایک الزام ہی ہے۔ سینیٹ میں ہونے والی بحث سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ جے یو آئی (ف) کے کسی رہنما نے باضابطہ طور پر گورنر راج نافذ کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ اس تبادلۂ خیال نے صوبائی خودمختاری کی اہمیت اور اس اصول کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا کہ آئینی طریقۂ کار کو سیاسی اختلافات سے الگ رکھا جائے۔
دورۂ ایران بھی تنازع کا سبب بن گیا
یہ تلخ کلامی مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے محسن نقوی کے حالیہ دورۂ ایران پر تنقید کے بعد ہوئی۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے اس دورے کے مقصد پر سوال اٹھاتے ہوئے یہ بھی دریافت کیا تھا کہ آیا پاکستانی حکام تہران میں کسی دفاعی معاہدے پر مذاکرات کے لیے گئے تھے۔
محسن نقوی نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا دورہ ایران اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی سے پیدا ہونے والی علاقائی صورتِ حال کے تناظر میں تھا۔
ان کے مطابق، وزیرِاعظم شہباز شریف نے انہیں اس بحران سے متعلق بعض ذمہ داریاں ذاتی طور پر سونپی تھیں اور انہوں نے سرکاری حیثیت میں یہ دورہ کیا۔
وزیرِ داخلہ نے واضح کیا کہ ان کا دورہ کسی دفاعی معاہدے پر مذاکرات کے لیے نہیں تھا۔ تاہم، انہوں نے وزیرِاعظم کی جانب سے سونپی گئی مخصوص سفارتی ذمہ داریوں کی تفصیل نہیں بتائی۔
یہ تنازع علاقائی ہنگامی صورتِ حال کے دوران حکومتی سفارتی سرگرمیوں اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے کردار سے متعلق وسیع تر سیاسی اختلافات کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
محسن نقوی کی جے یو آئی (ف) پر سیاسی مفاد پرستی کی تنقید
بحث میں شدت آنے کے بعد محسن نقوی نے جے یو آئی (ف) کی قیادت کے سیاسی طرزِعمل اور ریاستی اداروں کے ساتھ اس کے رویے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ جماعت کے رہنما مذہب کو اپنے سیاسی اور ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں اور حکومتی عہدوں سے فائدہ حاصل ہونے یا نہ ہونے کے مطابق ریاست کے بارے میں اپنا رویہ تبدیل کرتے ہیں۔
وزیرِ داخلہ نے کہا کہ وہ پہلے ذاتی طور پر مولانا فضل الرحمٰن کا احترام کرتے تھے، لیکن ان کے حالیہ بیانات نے اس تعلق کو نقصان پہنچایا ہے۔
محسن نقوی نے خبردار کیا کہ وہ ایسے بیانات کا جواب دیں گے جنہیں وہ نامناسب سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی گفتگو میں قابلِ قبول حدود بارہا عبور کی گئی ہیں۔
جے یو آئی (ف) کے ارکان نے ان الزامات اور وزیرِ داخلہ کے لب و لہجے کو مسترد کیا اور ان کی تقریر کے دوران احتجاج جاری رکھا۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے خاص طور پر وزیرِ داخلہ کے بیان کو چیلنج کیا، جبکہ سینیٹ کے چیئرمین بار بار مداخلت کرکے ایوان کا نظم بحال کرنے کی کوشش کرتے رہے۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں کامران مرتضیٰ نے ایوان میں محسن نقوی کے طرزِعمل پر سوال اٹھائے اور اپنی جماعت کے خلاف عائد کیے گئے الزامات کو بھی چیلنج کیا۔
خیبر پختونخوا میں وفاقی مداخلت کے آئینی سوالات
یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وفاقی حکومت کی جانب سے 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں ہنگامی اقدامات اور گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
حکومت نے صوبے میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتِ حال اور صوبائی انتظامیہ سے تعاون حاصل کرنے میں مشکلات کو ان اقدامات کی وجہ قرار دیتے ہوئے آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت کارروائی کا اعلان کیا تھا۔
وفاقی وزرا کا مؤقف تھا کہ یہ مداخلت آئینی طور پر جائز اور سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ضروری تھی۔ تاہم، اپوزیشن ارکان نے ان اقدامات کی قانونی حیثیت اور جواز پر سوالات اٹھائے، جس کے بعد صوبائی خودمختاری سیاسی اختلافات کا ایک مرکزی موضوع بن گئی۔
حکومت کی جانب سے اعلان کردہ انتظامات کے تحت گورنر نے وہ انتظامی ذمہ داریاں سنبھال لیں جو اس سے پہلے صوبائی حکومت انجام دے رہی تھی، جبکہ حکومتی امور میں معاونت کے لیے ایک مشاورتی کونسل بھی قائم کی گئی۔
ان اقدامات کے آئینی اور سیاسی اثرات بدستور متنازع ہیں۔
سینیٹ میں تلخ جملوں کا تبادلہ سیاسی تقسیم کا عکاس
محسن نقوی اور جے یو آئی (ف) کے درمیان ہونے والی یہ کشیدگی صوبائی حکمرانی، وفاقی اختیارات اور پارلیمانی بحث کے طریقۂ کار پر سیاسی جماعتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کرتی ہے۔
جے یو آئی (ف) کی جانب سے گورنر راج کی مبینہ حمایت کے بارے میں وزیرِ داخلہ کا دعویٰ تاحال آزادانہ طور پر ثابت نہیں ہوا۔ سینیٹ کی کارروائی میں بھی ایسے افراد کی شناخت یا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا جنہوں نے مبینہ طور پر یہ درخواست کی تھی۔
محسن نقوی کے دورۂ ایران پر اختلاف ایک الگ معاملہ ہے، جس کا تعلق سفارتی ذمہ داریوں اور علاقائی پیش رفت کے بارے میں حکومت کے ردِعمل سے ہے۔ تاہم، سینیٹ کے اجلاس میں دونوں تنازعات ایک دوسرے کے ساتھ جڑ گئے اور حکومتی فیصلوں پر پارلیمانی نگرانی کے بجائے سیاسی رہنماؤں کے باہمی الزامات توجہ کا مرکز بن گئے۔
یہ کارروائی اس مشکل کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ جب سیاسی اختلافات پالیسی کے معاملات سے آگے بڑھ کر ذاتی تنقید اور سیاسی مقاصد سے متعلق الزامات کی شکل اختیار کر لیں تو ایوان میں بامقصد اور منظم بحث جاری رکھنا کتنا دشوار ہو جاتا ہے۔
پارلیمان وزرا سے سوال کرنے، حکومتی فیصلوں کا جائزہ لینے اور سرکاری عہدیداروں کو جواب دہ بنانے کا آئینی فورم ہے۔ اس ادارے کی مؤثریت کا انحصار ٹھوس جوابات، قابلِ تصدیق دعووں اور پارلیمانی قواعد و ضوابط کے احترام پر ہوتا ہے۔
فی الحال محسن نقوی کے الزامات نے خیبر پختونخوا سے متعلق سیاسی تنازع میں ایک اور پہلو کا اضافہ کر دیا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا جے یو آئی (ف) کی جانب سے گورنر راج کی مبینہ درخواست کے دعوے کو شواہد سے ثابت کیا جا سکتا ہے، جبکہ اس کے ساتھ ہی صوبے میں وفاقی مداخلت کی آئینی بنیاد اور سیاسی نتائج پر بحث بھی جاری ہے۔








