جیسے جیسے آبادی بڑھتی جا رہی ہے۔ لوگوں کا ہجوم روزگار کے بہتر مواقعوں کی تلاش میں شہروں کی طرف آتا جا رہا ہے۔ لوگوں کو اپنے روزمرہ کاروبار اور ملازمت کی جگہوں پرجانے کے لیے سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ جس کی وجہ سے ٹریفک کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ ویسے تو ٹریفک بڑے شہروں میں ہر وقت ہی بہت زیادہ ہوتی ہے لیکن صبح اور شام کے اوقات میں تو بہت ہی زیادہ ہو جاتی ہے۔
بین الاقوامی ممالک میں ٹریفک کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے بڑے شہروں میں ٹریفک کےماڈل متعارف کیے جاتے ہیں۔ جن میں تمام شہریوں کے حقوق کا خیال رکھا جاتا ہے۔ ٹریفک کےنظام میں سب سے پہلے پیدل چلنے والوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔ پیدل چلنے والوں کے لیے فٹ پاتھ بنائے جاتے ہیں۔ دوسرا نمبر سائیکل چلانے والوں کا آتا ہے۔ اُن کے لیے سائیکل ٹریک بنائے جاتے ہیں۔ تیسر ا نمبر موٹر سائیکل اور پھر کاروں ، بسوں اورٹرکوں کے حساب سے بالترتیب سڑکیں بنائی جاتی ہیں۔
مزید پڑھیں: https://republicpolicy.com/insani-haqooq-ka-almi-din-aur-pakistan-ma-insani/
عمومی طور پر معاشرے میں پیدل اور سائیکل چلانے والوں کو غریب سمجھا جاتا ہے۔یہ طبقہ ا پنی روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے انتھک محنت کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو بہت کمزور سمجھے جاتے ہیں۔ بین الاقوامی دنیا میں ان کے حقوق کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔
پاکستان میں بھی کچھ حد تک ٹریفک کے بہاؤ کے لیے بین الاقوامی ماڈل کو مدنظر رکھا جاتا ہے لیکن یہ ماڈل صرف دکھاوے کے طور پر ہی ہے۔ پاکستان کا ٹریفک ماڈل ایلیٹ کلاس پر مبنی ہے۔ بین الاقوامی شہروں کے ماڈل کے برعکس یہاں پر امیروں کے حقوق کا خیال رکھا جاتا ہے۔ کاروں کی ایک بہت بڑی تعداد سڑکوں پر نظر آتی ہے۔ جس کی وجہ سے ٹریفک کے بہاؤ پر ایک مستقل پریشر ہے۔
دنیا کے کچھ ممالک میں بڑے شہروں میں گاڑیوں کا داخلہ ممنو ع ہے۔ لیکن پاکستان میں بظاہر یہ ناممکن نظر آتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں تقریباً ہر شہری کے پاس اپنی سواری ہے اور پبلک ٹرانسپورٹ کا فقدان ہے جس کی وجہ سے لاکھوں کی تعداد میں گاڑیا ں سڑکوں پر ہوتی ہے اور ٹریفک کی فراوانی میں خلل ڈالتی ہیں۔
مزید پڑھیں: https://republicpolicy.com/pakistan-me-insani-haqooq-ka-nifaz/
پیدل چلنے والو ں کے لیے فٹ پاتھ تو بنائے گئے ہیں لیکن ان فٹ پاتھ پر لوگ قبضہ کیے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں لوگ قوانین پر عمل درآمد کم ہی کرتے ہیں جس کی وجہ ٹریفک کا نظام متاثر ہوتا ہے۔
ٹریفک کے اس دباؤ کو کم کرنے کے لیے گورنمنٹ کو پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولیات کوبڑھانا ہو گا۔ ٹریفک کے قوانین سختی سے نافذ کرنا ہوں گے ۔ غلط پارکنگ اور ان جیسے دوسرے قانون شکن عوامل کے لیے سخت اقدامات کرنا ہوں گے۔













