عام طور پرنفرت انگیز تقریر سے مراد موروثی خصوصیات (مثلاً نسل، مذہب یا جنس) کی بنیاد پر کسی گروہ یا فرد کو نشانہ بنانے والی جارحانہ گفتگو ہے جو سماجی امن کے لیے خطرہ ہو سکتی ہے۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تحت نفرت انگیز تقریر کی کوئی عالمی تعریف نہیں ہے۔نفرت انگیز تقریر اور اظہار رائے کی آزادی میں ایک اہم فرق ہے۔ آزادی اظہار رائے کا مطلب ہے اپنے خیالات کا اظہار کرنا، جبکہ نفرت انگیز تقریر کا مقصد تضادات اور تشدد پیدا کرنا ہے۔
نفرت انگیز تقریر کورونا جیسی وبائی امراض کے دوران مزید بڑھ گیاہے۔ عالمی طور پر یہ ایک سنگین مسلہ بن چکا ہے۔ اگرچہ نفرت انگیز تقریر ہمیشہ سے موجود رہی ہے، لیکن ڈیجیٹل دور کے ذریعے اس کا بڑھتا ہوا اثر ان لوگوں اور کمیونٹیز کو تباہ کر سکتا ہے جن کو ہدف بنایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: https://republicpolicy.com/why-is-the-freedom-of-speech-the-most-critical-human-right/
نفرت انگیز تقریر رواداری اور انسانی حقوق کے اصولوں کے جوہر سے انکار کرتی ہے۔ یہ امتیازی سلوک، بدسلوکی، تشدد، اور سماجی اور اقتصادی اخراج کا نشانہ بننے والوں کو بے نقاب کر سکتی ہے۔ جب اسے آزاد چھوڑ دیا جائے تو نفرت کے اظہار سے معاشروں، امن اور ترقی کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے، کیونکہ یہ تنازعات، تناؤ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بنیاد رکھتی ہے۔
نفرت انگیز تقاریر کا سدباب اور مقابلہ کرنا ایک ضرورت ہے۔ اس کے لیے ایک جامع نقطہ نظر کی ضرورت ہے ۔ تمام افراد اور تنظیموں بشمول حکومتیں، نجی شعبہ، میڈیا، انٹرنیٹ کارپوریشنز، مذہبی رہنما، ماہرین تعلیم، نوجوان اور سول سوسائٹی کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ نفرت انگیز تقریر کے خلاف آواز اٹھائیں اور اس کے خلاف مقابلہ کرنے میں اہم کردار ادا کریں۔
اہم بات یہ ہے کہ نفرت انگیز تقریر کا مقابلہ کرنے کے لیے اس کے محرکات کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے نگرانی اور تجزیہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ نفرت انگیز بیان بازی کا پھیلاؤ تشدد کی ابتدائی وارننگ ہو سکتا ۔ نفرت انگیز تقریر کی نگرانی اور تجزیہ کرنا اقوام متحدہ کے بہت سے اداروں کے لیے ایک ترجیح ہے۔ یونیسکو جو تعلیم، سائنس اور ثقافت کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی ایجنسی ہے اس کے محرکات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے تحقیق کی حمایت کرتی ہے۔ نفرت انگیز تقریر کی بین الاقوامی اور قومی محرکات ہوتے ہیں۔ یہ سماجی، ثقافتی، مذہبی اور سیاسی تنازعات کو جنم دیتا ہے جو قوموں میں اور قومی ریاستوں کی حدود میں نفرت اور تشدد کو بھڑکا سکتا ہے۔ نفرت انگیز تقریر معاشرے میں امن کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ لہذا، اقوام متحدہ، بین الاقوامی تنظیمیں اور قومی ریاستیں نفرت انگیز تقاریر کی حدود اور پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: https://republicpolicy.com/arrest-and-detention-must-follow-the-law-article-10-safeguards-human-dignity/
پاکستان کو نفرت انگیز تقاریر کے شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ ملک میں نفرت انگیز تقاریر کا سب سے بڑا چیلنج فرقہ واریت ہے۔ فرقہ وارانہ نفرت انگیز تقاریر ملک میں شدید فرقہ وارانہ مسائل پیدا کرتی ہیں اور اکثر یہ تقاریر تشدد اور مذہبی انتہا پسندی کا باعث بنتی ہیں۔ پاکستان کے سیاسی کلچر میں سیاسی نفرت انگیز تقاریر بھی عروج پر ہیں۔ سب سے بڑا چیلنج آن لائن نفرت انگیز تقریر کا پھیلاؤ ہے۔ اس لیے سائبر قوانین کے معیار کو بہتر بنانے اور ان پر عمل درآمد کی اشد ضرورت ہے۔
پاکستان میں نفرت انگیز تقاریر کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنا بہت ضروری ہے۔ اس کے لیے قوانین کی دوبارہ تشکیل اور پھر ان پر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں قوانین کا نفاذ بہت ضروری ہے۔ سماجی، سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کو نفرت انگیز تقاریر کی لعنت پر قابو پانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ تاہم، سخت سزاؤں کے ساتھ قانون کی حکمرانی اس مقصد کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس کے لیے تمام سماجی اور ثقافتی تنظیموں کے ساتھ مل کر نفرت انگیز تقاریر کی لعنت پر قابو پانے کے لیے انتظامی، قانون سازی اور عدالتی سرگرمی کی ضرورت ہے۔ پھر اصلاح کے عمل کے لیے سزائیں بھی اہم ہیں۔ نفرت انگیز تقریر جرم ہے اور جرم کے مطابق اس سے نمٹا جانا چاہیے۔ پاکستان کی ریاست اور قوم نفرت انگیز تقاریر کی اجازت نہیں دے سکتی۔ آخر میں، نفرت انگیز تقریر کرنے والے کو قانون اور سزا کا سامنا کرنا ہوگا۔









