تجزیہ
جمہوری اقدار جمہوریت کی ضامن ہیں۔ اکثریت جمہوریت کی بنیادی قدر ہے اور عوامی مینڈیٹ کو طاقت یا لالچ سے بدلنا غیر جمہوری ہے۔ پھر جمہوری اقدار اور روایات مقامی حکومت کے نظام میں اور بھی زیادہ اہم ہو جاتی ہیں کیونکہ مقامی حکومت براہ راست عوامی شمولیت پر قائم ہوتی ہے۔
کراچی میں میئر کے الیکشن میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے اتحاد نے واضح برتری حاصل کر لی ہے۔ اب اس واضح برتری کے برعکس نتائج کا آنا جمہوریت اور جمہوری اقدار کی نفی ہو گی۔ جمہوریت میں اراکین کو خوف و لالچ کے بغیر رائے دہی کا حق حاصل ہونا چاہیے اور جو سیاسی جماعتیں اس بنیادی حق کو دھوکا سے بدلنے کی کوشش کرتی ہیں، وہ کسی بھی لحاظ سے جمہوری اقدار کی حامل نہیں ہیں۔
تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے اتحاد کے پاس میئر کے الیکشن کے لیے 366 کے ہاؤس میں سے 193 نشستیں ہیں جبکہ پیپلز پارٹی، ن لیگ ، جمعیت علمائے اسلام ف اور دیگر کے پاس 175 نشستیں ہیں۔ یوں واضح طور پر تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے پاس 18 نشستوں کی برتری ہے۔ لہذا یہ جماعت اسلامی کا بنیادی حق ہے کہ اسکے امیدوار کو ہاؤس منتخب کرے ۔ کراچی میں براہ راست یونین کونسلز کی تعداد 246 ہے اور باقی اراکین مخصوص نشستوں پر منتخب ہوئے ہیں۔
اگر جمہوریت میں جمہوری جماعتیں ہی عددی اکثریت اور مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کریں گی اور طاقت اور لالچ سے وفاداریاں بدلیں گی تو جمہوریت مضبوط نہیں ہو گی۔ کراچی کے عوام کے مینڈیٹ کو اگر طاقت یا لالچ کے بل بوتے پر مینج کیا جاتا ہے تو اس سے مراد کراچی کی عوام کے حق حاکمیت کے بنیادی حق کو تسلیم نہ کرنا ہو گا۔

آخر میں مقامی حکومت جمہوریت کا مرکز اور اقتدار کی عوامی سطح تک تقسیم کرنے کا باعث ہے۔ مقامی حکومت صوبائی اور وفاقی حکومت کے برعکس آپریشنل حکومت ہوتی ہے کیونکہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بنیادی طور پر رابطہ کاری کی بنیاد پر قائم ہوتی ہیں۔ مقامی حکومت میں عوامی شمولیت اور کردار ذیادہ اہم ہوتا ہے، اس لیے عوامی جذبات اور مینڈیٹ کا خیال رکھا جانا ذیادہ اہم ہوتا ہے۔ آخر میں کراچی میں عوامی مینڈیٹ اور جمہوری اقدار کی روایات کا خیال رکھنا ہو گا۔
ٹیم ریپبلک پالیسی









