انتظامی بیوروکریٹس کی تنخواہوں میں حالیہ اضافہ

[post-views]
[post-views]

نگراں حکومت کا انتظامی بیوروکریٹس کی تنخواہوں میں حالیہ 45 فیصد اضافے کا فیصلہ ملک کی موجودہ معاشی صلاحیت کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔ یہ جواز کہ یہ بیوروکریٹس پرائیویٹ سیکٹر میں اعلیٰ مہارت رکھتے ہیں اور انہیں بین الاقوامی مارکیٹ میں مسابقتی تنخواہوں کی ضرورت ہے یہ ملک کے پاس اس وقت موجود معمولی وسائل کے اوپر ایک اضافی بوجھ ہے۔ صرف ایک دن پہلے، اسی حکومت نے ایندھن کی قیمتوں میں مزید کمی نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور یہ فیصلہ حکومت کی ترجیحات کا موازنہ کرتا ہے ۔

ایندھن کی قیمتیں شہریوں اور ان کی روزمرہ زندگی کے انتخاب اور فیصلوں پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہیں۔ لیکن قیمتوں کو وہیں رکھ کر زیادہ آمدنی حاصل کرنے کی کوشش کرنا اور اسی قومی بچت کو انتظامیہ بیوروکریٹس کی طرف سے حاصل کردہ مراعات میں مزید اضافہ کرنے پر لاپرواہی سے خرچ کرنا ایک ایسا فیصلہ ہے جس پر نظر ثانی کی جانی چاہیے۔ اس طرح کے فیصلے ملک کے بعض معاشی طبقات کے درمیان موجود تقسیم کو ہی بڑھاتے ہیں۔ ایسے وقت میں جب حکومت کو اس واضح فرق کو پر کرنا چاہیے، وہ اس کے برعکس کر رہی ہے۔

Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.

ملک کو یقینی طور پر ایک فعال انتظامی بیوروکریسی کی ضرورت ہے لیکن تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے سے متعلق فیصلوں پر متوازن جانچ پڑتال ہونی چاہیے۔ جب ملک پہلے ہی ایک بین الاقوامی مالیاتی فنڈ  پروگرام سے دوسرے پروگرام میں چل رہا ہو تو غیر ضروری مراعات کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔بیوروکریسی کی تنخواہیں اور مراعات پہلے ہی معقول ہیں۔ اس طرح کے فیصلے  دیگر محکموں میں کام کرنے والے ملازمین، غیر بیوروکریٹک اسامیوں پر کام کرنے والے ملازمین کے لیے انتہائی مایوس کن ہوتے ہیں۔ سرکاری محکموں میں صرف ایک طبقے کو خوش کرنا انصاف کے منافی ہے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے، اس طرح کے فیصلے اُن پر اضافی بوجھ ڈالتے ہیں۔ یہ فیصلہ بذت خود بتا رہا ہے کہ حکومت کسی ایک خاص طبقے کو اپنے مفادات کوحاصل کرنے کے لیے خوش کر رہی ہے۔

ابھی حال ہی میں ریلوے ملازمین اپنی واجب الادا تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر احتجاج کر رہے تھے۔ ان حالات میں حکومت کا اس طرح کے غیر منصفانہ اقدام انتہائی تشویشناک ہے۔ حکومت کی پالیسیوں کو تمام سرکاری ملازمین کے لیے زیادہ آمدنی کے برابر اور منصفانہ ماحول بنانے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ عام شہری تو پہلے ہی اپنا پیٹ بھرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ حکومت کے ایسے شاہانہ فیصلے معاشرے کے بڑے طبقے کے مصائب اور مشکلات میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ اگر کچھ ہے تو، ایسے فیصلوں کا اچھی طرح سے جائزہ لیا جانا چاہیے اور اس کی چھان بین کی جانی چاہیے۔ پہلے سے محروم آبادی کو مزید محروم نہ کیا جائے اور یہ وقت ہے کہ بیوروکریٹک اسراف کو ختم کیا جائے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos