نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان میں غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانیوں اور پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث دہشت گردوں کو پاکستان کے حوالے کرے۔
اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ دوسری صورت میں؛ ہم توقع کرتے ہیں کہ افغان حکومت اپنی سرزمین پر تحریک طالبان پاکستان کے ٹھکانوں اور تربیتی کیمپوں کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ عبوری افغان حکومت کو یقینی بنانا چاہیے کہ دہشت گرد تنظیمیں اپنے مذموم عزائم کے لیے افغان سرزمین استعمال نہ کریں۔
انوار الحق کاکڑ نے افغان شہریوں سمیت غیر قانونی غیر ملکی شہریوں کو وطن واپس بھیجنے کے پاکستان کے فیصلے کے تناظر میں بعض افغان رہنماؤں کے دھمکی آمیز بیانات پر سخت افسوس کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ غیر ذمہ دارانہ اور گمراہ کن بیانات ماحول کو خراب کرنے میں معاون ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں میں تقریباً 2268 بے گناہ پاکستانی دہشت گردی کی کارروائیوں میں مارے جا چکے ہیں۔
Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو غیر قانونی غیر ملکی شہریوں کی وطن واپسی کا قانونی اور اخلاقی حق حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام ریاستی اداروں نے طورخم، چمن اور دیگر سرحدی علاقوں میں غیر قانونی افغان شہریوں کی باوقار واپسی کو یقینی بنانے کے لیے بہترین انتظامات کیے ہیں۔
وزیراعظم نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ رجسٹرڈ افغان مہاجرین پاکستان میں رہنے اور کاروبار کرنے کے لیے آزاد ہیں۔
انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستان کو عبوری افغان حکومت سے توقع تھی کہ وہ ٹی ٹی پی کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔
تاہم بدقسمتی سے عبوری افغان حکومت کے قیام کے بعد سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ساٹھ فیصد اضافہ ہوا ہے اور ان بزدلانہ حملوں کے پیچھے افغانستان سے کام کرنے والی ٹی ٹی پی کا ہاتھ ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ یقین دہانیوں کے باوجود عبوری افغان حکومت نے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ضروری اقدامات نہیں کیے بلکہ ان کی سہولت کاری کے واضح شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔








