پچھلے کچھ سالوں سے، عوامی شخصیات کی ریکارڈ کی گئی نجی گفتگو کو ان کی ساکھ کو نقصان پہنچاننے کے لیےمیڈیا پر جاری کیا گیا یا پھر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیا گیا۔ اس بدترین عمل کے متاثرین میں کھیلوں کی دنیا سے تعلق رکھنے والے لوگ، ججز اور سیاست دان بشمول وزرائے اعظم اور یہاں تک کہ ان کے رشتہ دار بھی شامل ہیں۔ کروڑوں روپے کا سوال یہ ہے کہ ذمہ دار کون ہے؟ اسلام آباد ہائی کورٹ نے غیر قانونی طور پر کی گئی ریکارڈنگ سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی۔ بدھ کو سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کے کیس کی سماعت کے دوران، اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آئی ایس آئی، ایف آئی اے اور آئی بی کو ”کسی بھی بات چیت کو ریکارڈ کرنے کی اجازت نہیں ہے“، انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی سرکاری ایجنسی اس عمل میں ملوث ہے تو وہ غیر قانونی طور پرایسا عمل کر رہی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کو مزید بتایا گیا کہ آئی ایس آئی آڈیو لیک کے ذریعہ کا پتہ نہیں لگا سکتی۔ آئی بی اور ایف آئی اے جیسی دیگر انٹیلی جنس ایجنسیاں بھی اس سے قبل اسی طرح کے لیکس کے ذرائع کے علم سے انکار کر چکی ہیں۔ تو اگر ملک کی اعلیٰ ایجنسیاں مجرموں کا سراغ نہیں لگا سکتیں تو کون کر سکتا ہے؟
دنیا بھر میں خفیہ ایجنسیوں کے لیے مشتبہ دشمن اور ملک کو نقصان پہنچانے کے ارادے رکھنے والے غیر ملکی ایجنٹوں کی نگرانی کرنا ایک عام رواج ہے۔ ایسا کرنا بلا شبہ ضروری ہے – معصوم لوگوں کے حقوق کی خلاف ورزی سے بچنے کے لیے ایس او پیزپر عمل کرتے ہوئے لیکن عوامی شخصیات اور نجی شہریوں کی ذاتی گفتگو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرنے کے لیے ان اختیارات میں توسیع کا جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ غیر قانونی طور پر ذاتی کالز یا پیغامات کو ریکارڈ کرکے، اور پھر ان کو جاری کرکے، میڈیا اور سائبر اسپیس میں تہلکہ مچانے سے قومی سلامتی کے کون سے مقاصد پورے ہوتے ہیں؟ درحقیقت، طاقتور حلقوں کی طرف سے عوامی شخصیات پر تلوار برقرار رکھنے، اور جب ضرورت ہو انہیں جاری کرنے کے عمل کا تسلسل ہے۔ جہاں تک اپنے مخالفین کی ریکارڈنگ یا ویڈیوز کو اس طرح کے ذرائع سے عوامی طور پر نشر کرنے پر خوشی سے ردعمل ظاہر کرنے والوں کا تعلق ہے، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ کسی وقت ان کے خلاف بھی یہی ہتھیار استعمال کیا جا سکتا ہے۔ عمران خان اور شہباز شریف دونوں ہی اس کی گواہی دے سکتے ہیں کیونکہ دونوں حضرات کی گفتگو اس وقت لیک ہو گئی تھی جب وہ وزیراعظم آفس میں تھے۔
Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.
اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ اگر ریاست لیکس کے بارے میں معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے تو وہ مقامی اور غیر ملکی ماہرین کا تقرر کر سکتی ہے۔ اس کا حل لیکس کے ماخذ کی تحقیقات کے لیے ایک بااختیار کمیشن کی تقرری میں مضمر ہے۔ فرانزک ماہرین کے ساتھ ساتھ وہ لوگ جو زیر بحث ٹیکنالوجی سے واقف ہیں، کو بورڈ میں لایا جا سکتا ہے تاکہ مجرموں کا سراغ لگایا جا سکے، اور اس خراب عمل کو ختم کرنے میں مدد ملے۔ غیر قانونی طور پر ذاتی گفتگو کو ریکارڈ کرنے اور جاری کرنے کی جمہوری سیاست میں کوئی جگہ نہیں ہے ۔ اگر ریاست ان مشکوک سرگرمیوں میں ملوث نہیں تو اسے لیکس کے ماخذ سے پردہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔









