چین کے نائب وزیر خارجہ سن ویڈونگ اور پاکستان کی اعلیٰ قیادت کے درمیان اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے سلسلے میں، چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی کامیابی کے لیے دونوں ممالک کے پائیدار عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔ حالیہ ملاقاتوں نے نہ صرف سی پیک کی اہمیت کو ظاہر کیا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع میدان کو بھی اجاگر کیا، جو کہ اقتصادی شراکت داری سے آگے بڑھتا ہے۔ چینی وزیر خارجہ اور صدر عارف علوی، نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر اور وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی کے درمیان ہونے والی بات چیت میں پاکستان کی ترقی میں سی پیک کی تزویراتی اہمیت پر زور دیا گیا۔
صدر علوی نے چین کی غیر متزلزل حمایت کو تسلیم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ کس طرح سی پیک منصوبوں نے پاکستان کی اقتصادی ترقی اور توانائی کی ضروریات میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، صنعتی ترقی کے اگلے مرحلے میں چینی تعاون کے اہم کردار کو تسلیم کرتے ہوئے وزیر اعظم کاکڑ نے صدر کے عزم کی بازگشت کرتے ہوئے جاری سی پیک منصوبوں کی بروقت تکمیل کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ یہ منصوبے پاکستان کے معاشی استحکام اور ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کا دائرہ معاشیات سے آگے بڑھا جایا رہاہے، جیسا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت اور انسانی وسائل کی ترقی پر بات چیت میں نمایاں کیا گیا ہے۔ دونوں ممالک نے اپنے باہمی فائدے کے لیے ان شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ یہ جامع نقطہ نظر طویل مدتی، کثیر جہتی شراکت داری کے عزم کی عکاسی کرتا ہے جو اقتصادی تعاون کی روایتی حدوں سے باہر ہے۔
Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.
مزید برآں، دونوں ممالک کے درمیان ہمہ موسمی تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کا اعادہ ان کے دوطرفہ تعلقات کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ نائب وزیر خارجہ سن نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل منیر سے ملاقات کے دوران سی پیک منصوبوں کے لیے حفاظتی انتظامات پر چین کے اطمینان کا اظہار کیا۔
جیسے جیسے ہم آگے بڑھتے ہیں، دونوں ممالک کے لیے اعتماد اور تعاون کی بنیاد استوار کرنا ضروری ہے۔ سی پیک منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوششوں کے ساتھ ساتھ متنوع شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر توجہ مرکوز کرنے سے پاکستان اور چین کے درمیان مضبوط تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ سی پیک کی کامیابی صرف ایک مشترکہ اقتصادی مقصد نہیں ہے بلکہ ان دونوں ممالک کے درمیان پائیدار دوستی اور اسٹرٹیجک شراکت داری کا ثبوت ہے، جو ترقی اور خوشحالی کے ان کے وژن کی عکاسی کرتی ہے۔









