بٹگرام چیئر لفٹ آپریشن کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر

[post-views]
[post-views]

خیبر پختونخوا کے ضلع بٹگرام کی تحصیل الائی میں منگل کی صبح تقریباً 7 سے 8 بجے کے درمیان کیبل کار کی ایک رسی ٹوٹ گئی تھی جس کی وجہ سے 7 اسکول کے بچے اور ایک مقامی شخص 600 فٹ کی بلندی پرپھنس گئے تھے۔

نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے رات گئے ٹویٹ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ پاک فوج کے سپیشل سروسز گروپ نے تمام آٹھ مسافروں کو کامیابی سے بچا لیا ہے۔ جس میں سات اسکول کے بچے اور ایک مقامی شخص شامل تھا – جو ایک کیبل کار کی رسی ٹوٹنے کے بعد ہوا میں لٹک رہے تھے ۔

یہ جان کر خوشی ہوئی کہ الحمدللہ تمام بچوں کو کامیابی سے اور بحفاظت بچا لیا گیا ہے۔ فوج، امدادی محکموں، ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کی طرف سے زبردست ٹیم ورک۔ نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ

غروب آفتاب سے قبل فوج نے ہیلی کاپٹر کی مدد سے دو بچوں کو بچا لیا تھا تاہم اندھیرے اور تیز ہوا کے باعث ہیلی کاپٹر کے ذریعے آپریشن روک دیا گیا۔

فوج نے بعد میں ایک زمینی آپریشن شروع کیا – جس کی قیادت ایس ایس جی کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) کر رہے تھے – کیبل کار پر موجود باقی افراد کو متبادل ذرائع سے بحفاظت بچا لیا گیا۔

اس آپریشن کو کامیاب بنانے کے لیے مقامی کیبل کراسنگ ماہرین کی خدمات لی گئیں۔ ایک اور کیبل کار جس کا سائز چھوٹا تھا اور جس کو ڈولی کہاجاتا ہے کہ ذریعے کیبل کار میں پھنسے طلباء تک کھانا اور پانی پہنچا گیا۔


پاکستان آرمی ایوی ایشن اور پاک فضائیہ نے ایس ایس جی کے دستوں کے ساتھ امدادی کاروائیوں میں حصہ لیا۔ اس آپریشن میں ایس ایس جی کمانڈوز کو کئی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا جس میں تیز ہوا، رات کی تاریکی اور ہیلی کاپٹر کے روٹر بلیڈ کا خطرہ لفٹ کو مزید غیر مستحکم کر رہا تھا۔

Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.

واقعے کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسکول کے سات بچے اور ایک مقامی شخص کیبل کار میں گورنمنٹ ہائی اسکول جا رہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق صبح 7 بج کر 45 منٹ پر گونڈولا کی ایک کیبل ٹوٹ گئی جس کی وجہ سے کیبل کار درمیان میں پھنس گئی۔ ابرار، عرفان، اسامہ، رضوان اللہ، عطاء اللہ، نیاز محمد، شیر نواز اور گل فراز لفٹ کے اندر پھنس گئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد بٹگرام کے ڈپٹی کمشنر نے ہزارہ کے کمشنر سے رابطہ کیا۔ ڈی سی نے ہیلی کاپٹر کا انتظام کرنے کا کہا۔ مزید یہ کہ وادی کاغان میں مقیم ایس ایس جی ٹیم سے بھی رابطہ کیا گیا جس کے بعد ہیلی کاپٹر 11 بج کر 45 منٹ پر پہنچا۔ دریں اثناء پاک فضائیہ کا ہیلی کاپٹر دوپہر 2 بجے جائے وقوعہ پر پہنچا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دو امدادی ٹیمیں اس وقت جائے وقوع پر موجود ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ قریبی مراکز صحت میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال بٹگرام کو بھی ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔

تحصیل الائی کے اسسٹنٹ کمشنر جواد حسین نے کہا کہ سڑک اور پل نہ ہونے کی وجہ سے بچے مقامی کیبل کار کے ذریعے اسکول جا رہے تھے۔

شروع میں این ڈی ایم اے نے اطلاع دی کہ بچے 1000 فٹ سے 2000 فٹ کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں تاہم بعد ازاں پاکستان آرمی نے 600 فٹ بلندی کا بتایا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos