اسلام آباد: احتساب قوانین میں متنازع ترامیم کو ختم کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو 500 ملین روپے سے کم کے وائٹ کالر جرائم میں ملوث سیاستدانوں اور بڑے لوگوں پر ہاتھ ڈالنے کا دوبارہ اختیار دے دیا ہے، جس میں تقریباً 1800 افراد کے کیس دوبارہ کھول گئے ہیں۔
تاہم نیب سینکڑوں مقدمات میں اس وقت تک کارروائی نہیں کر سکے گا جب تک بیورو میں ڈپٹی چیئرمین اور پراسکیوٹر جنرل کی دو اہم آسامیوں پر تقرری نہیں کی جاتی۔
بظاہر، سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں سابق وزرائے اعظم نواز شریف، عمران خان، شہباز شریف، یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، شاہد خاقان عباسی اور شوکت عزیز کے علاوہ سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولے جائیں گے۔
Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.
نیب اب بھی مقدمات کی تعداد کا جائزہ لے رہا ہے۔ اندازے کے مطابق 1,800 مقدمات دوبارہ سے کھولے جائیں گے۔
دیگر بڑی شخصیات جن کے مقدمات دوبارہ کھولے جائیں گے ان میں سابق وزراء خواجہ سعد رفیق، خواجہ آصف، رانا ثناء اللہ، جاوید لطیف، اکرم درانی، سلیم مانڈوی والا، شوکت ترین، پرویز خٹک، عامر محمود کیانی، خسرو بختیار اور فریال تالپور کے علاوہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز اور سندھ سید مراد علی شاہ بھی شامل ہیں۔
یہ بھی توقع ہے کہ قومی احتساب آرڈیننس 1999 میں ترمیم کو دوبارہ تقویت مل سکتی ہے اگر سپریم کورٹ پیر کو سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) ایکٹ 2023 کے کیس کی سماعت کے دوران نئے چیف جسٹس قاضی فائز سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کی طرف سے فیصلہ کیے گئے تمام مقدمات کو کالعدم قرار دیتےہیں۔








