اسلام آباد – وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے پیر کو اس بات کا اعادہ کیا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان آئندہ انتخابات کی تاریخ کا فیصلہ کرے گا۔
نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پارلیمنٹ نے ایک قانون پاس کیا ہے جس کے مطابق الیکشن کمیشن کو نئے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کا اختیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتخابات کے حوالے سے قیاس آرائیاں ختم ہونی چاہئیں ، انہوں نے مزید کہا کہ ہم نگران حکومت کی مدت کو طول دینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کے طالب علم کی حیثیت سے وہ مسلم اقلیت کے حقوق کے تحفظ اور اسے اکثریت کے تسلط سے بچانے پر قائداعظم کا شکریہ ادا کریں گے۔
اقلیتوں کے خلاف بڑی ریاستوں کا رویہ دیکھنے کے بعد انہوں نے کہا کہ وہ دیکھ سکتے ہیں کہ مسلمانوں کے مذہبی اور ثقافتی تشخص کا تحفظ مشکل ہو جاتا اگر قائد مسلمانوں کے لیے ایک آزاد ریاست نہ دیتے۔
انہوں نے کہا کہ وہ قائداعظم کی آئین پسندی، ہمہ گیریت اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ان کی تعریف کرتے ہیں۔
وزیراعظم نے یقین دلایا کہ ا سمگلنگ کے خلاف کارروائی جاری رہے گی اور ریاست کی رٹ قائم کی جائے گی۔
وزیر اعظم کاکڑ نے کہا کہ پاکستان کے افغانستان کے ساتھ کثیر جہتی تعلقات ہیں اور اس کے ساتھ تجارت، دہشت گردی، سلامتی اور علاقائی رابطوں کے معاملات پر باقاعدہ بات چیت ہوتی ہے۔
ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے پاس اب جدید ترین ہتھیار، نائٹ ویژن عینک اور دیگر آلات موجود ہیں جس سے ان کی لڑنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔
Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گرد پاکستان کی ایک انچ سرزمین نہیں چھین سکتے اور سکیورٹی فورسز جوابی کارروائی کر کے حالات کو سنبھالیں گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ریاست دہشت گردوں کے خلاف اپنی مضبوطی کا مظاہرہ کرے گی کیونکہ کسی بھی حالت میں کسی کو تشدد کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پی ایم کاکڑ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر انتخابات میں حصہ لینے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔
9 مئی کے واقعات کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ شرپسندوں نے توڑ پھوڑ کی اور تمام واقعات کو مقامی اور بین الاقوامی میڈیا نے رپورٹ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ واقعات میں ملوث ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف تین بار منتخب وزیراعظم رہے اور جب وہ پاکستان آئیں گے تو ان کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کا سیاسی جماعتوں کی قیادت سے ملاقاتیں شروع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ خارجہ پالیسی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، چین دنیا کی سب سے بڑی معیشت بننے کی راہ پر گامزن ہے اور امریکہ کی قیادت میں مغربی دنیا اس کے بارے میں فکر مند ہے اور اس پر قابو پانا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان باہمی اتفاق کے وقت پاکستان کا دورہ کریں گے جب دونوں فریق سرمایہ کاری کے منصوبوں کا اعلان کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔








