Dr Bilawal Kamran
پاکستان میں اصلاحات کی تجاویز کی کبھی کمی نہیں رہی، لیکن اصل مسئلہ ان اصلاحات پر سنجیدگی سے عمل درآمد کا ہے جو ریاستی نظم و نسق کو حقیقی معنوں میں بہتر بنا سکیں۔ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا یہ کہنا کہ ملک کا نظامِ حکمرانی عملاً ناکام ہو چکا ہے، ایک ایسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے جس کا مشاہدہ تقریباً ہر شہری روزمرہ زندگی میں کرتا ہے۔ عوامی خدمات کی ناقص فراہمی، انتظامی جمود، ادارہ جاتی کمزوری، احتساب کے غیر مؤثر نظام اور بڑھتی ہوئی بدانتظامی اس حقیقت کے نمایاں مظاہر ہیں۔ ان کی جانب سے نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں کے قیام کی تجویز نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے قدیم آئینی اور سیاسی مباحث کو زندہ کر دیا ہے۔
یہ بحث اپنی ذات میں نہ تو غیر ضروری ہے اور نہ ہی ناقابلِ قبول۔ ہر وفاقی ریاست کو وقتاً فوقتاً اس امر کا جائزہ لینا پڑتا ہے کہ آیا اس کی انتظامی تقسیم بدلتے ہوئے حالات، آبادی میں اضافے اور نئی معاشرتی ضروریات سے ہم آہنگ ہے یا نہیں۔ تاہم پاکستان کے لیے بنیادی سوال یہ نہیں کہ مزید صوبے بنائے جائیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ موجودہ صوبے اپنی آئینی اور انتظامی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں کیوں ادا نہیں کر سکے۔ اگر موجودہ ڈھانچہ عوامی توقعات پوری کرنے میں ناکام رہا ہے تو اس ناکامی کی اصل وجوہات کا تعین کیے بغیر نئی انتظامی تقسیم مطلوبہ نتائج پیدا نہیں کر سکتی۔
مزید صوبوں کے قیام کے حق میں بعض مضبوط دلائل موجود ہیں۔ دنیا کے متعدد ممالک نے آبادی میں اضافے، شہری پھیلاؤ اور انتظامی تقاضوں کے باعث اپنی داخلی انتظامی تقسیم میں تبدیلیاں کی ہیں تاکہ حکمرانی زیادہ مؤثر، جواب دہ اور عوام کے قریب ہو سکے۔ پاکستان کے صوبوں کی آبادی اور انتظامی ذمہ داریوں میں بھی گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ اس لیے اس موضوع پر سنجیدہ، مدلل اور آئینی حدود کے اندر رہ کر بحث کرنا ایک فطری عمل ہے۔
تاہم یہ تصور کہ صرف نئے صوبوں کے قیام سے حکمرانی بہتر ہو جائے گی، نہ تاریخی تجربات سے ثابت ہوتا ہے اور نہ ہی انتظامی علوم اس کی تائید کرتے ہیں۔ اچھی حکمرانی کا انحصار صرف جغرافیائی تقسیم پر نہیں بلکہ مضبوط اداروں، پیشہ ورانہ انتظامیہ، مؤثر احتساب اور شفاف فیصلہ سازی پر ہوتا ہے۔ اگر یہ عناصر کمزور ہوں تو چھوٹے سے چھوٹا انتظامی یونٹ بھی وہی مسائل پیدا کرے گا جو ایک بڑے صوبے میں موجود ہیں۔
پاکستان کا انتظامی بحران صوبوں کے بڑے ہونے سے پیدا نہیں ہوا بلکہ اس کی بنیادی وجہ ریاستی اداروں کی تدریجی کمزوری، اختیارات کا حد سے زیادہ ارتکاز، انتظامی غیر فعالیت اور عوامی ضروریات سے حکومتی نظام کا دور ہو جانا ہے۔ شہریوں کو جن مشکلات کا سامنا ہے، ان کا تعلق زیادہ تر ناقص ادارہ جاتی کارکردگی سے ہے، نہ کہ صوبائی حدود کی وسعت سے۔
اس تناظر میں آئین میں اٹھارویں ترمیم ایک تاریخی پیش رفت تھی۔ اس ترمیم کے ذریعے وفاق سے متعدد اختیارات صوبوں کو منتقل کیے گئے تاکہ وفاقی نظام زیادہ متوازن، مضبوط اور عوام دوست بن سکے۔ اس اصلاح کا بنیادی مقصد صرف وفاقی اختیارات میں کمی نہیں تھا بلکہ فیصلہ سازی کو عوام کے قریب لانا بھی تھا۔ افسوس کہ یہ عمل اپنی تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔
اختیارات اگرچہ وفاق سے صوبوں کو منتقل ہوئے، لیکن صوبوں نے انہیں مقامی حکومتوں تک منتقل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ نتیجتاً صوبائی حکومتیں تو مضبوط ہو گئیں، مگر ضلعی، شہری اور دیہی مقامی ادارے بدستور کمزور رہے۔ اس طرح مرکزیت صرف وفاقی دارالحکومت سے صوبائی دارالحکومتوں تک منتقل ہوئی، جبکہ عام شہری فیصلہ سازی کے عمل سے پہلے کی طرح دور ہی رہا۔
حقیقی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ہی غیر مرکزیت کا اصل مقصد ہوتی ہے۔ تعلیم، صحت، صفائی، پینے کے پانی کی فراہمی، شہری منصوبہ بندی، مقامی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور بلدیاتی خدمات جیسے شعبے مقامی سطح پر زیادہ مؤثر انداز میں چلائے جا سکتے ہیں، کیونکہ مقامی نمائندے عوام کی ضروریات اور مسائل سے براہِ راست آگاہ ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس دور دراز صوبائی دفاتر سے ان خدمات کی نگرانی اکثر غیر مؤثر ثابت ہوتی ہے۔
بدقسمتی سے بیشتر صوبائی حکومتوں نے مقامی حکومتوں کو حقیقی خود مختاری دینے میں دلچسپی نہیں دکھائی۔ بلدیاتی انتخابات میں تاخیر معمول بن چکی ہے، مالی وسائل کا اختیار صوبائی محکموں کے پاس مرتکز ہے اور بلدیاتی ادارے محدود اختیارات کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے پر مجبور ہیں۔ اس صورتِ حال میں شہری یہ تعین کرنے سے بھی قاصر رہتے ہیں کہ بنیادی خدمات کی خراب کارکردگی کا اصل ذمہ دار کون ہے۔
اس رویے کی سیاسی وجوہات بھی واضح ہیں۔ جب اختیارات، مالی وسائل اور ترقیاتی منصوبوں پر اختیار مقامی حکومتوں کو منتقل ہوتا ہے تو صوبائی حکومتوں کا سیاسی اثر و رسوخ بھی محدود ہوتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ بیشتر صوبائی حکومتیں عملی غیر مرکزیت کے بجائے اختیارات کو اپنے پاس رکھنے کو ترجیح دیتی رہی ہیں۔
اسی لیے یہ توقع حقیقت پسندانہ نہیں کہ صرف نئے صوبے بنا دینے سے حکمرانی خود بخود بہتر ہو جائے گی۔ اگر موجودہ صوبے اپنے اندر اختیارات تقسیم کرنے پر آمادہ نہیں تو نئے صوبے بھی غالب امکان یہی طرزِ عمل اختیار کریں گے۔ یوں ایک بڑے مرکز کے بجائے کئی چھوٹے مراکز وجود میں آ جائیں گے، مگر اختیارات کی مرکزیت برقرار رہے گی۔
پاکستان کی انتظامی تاریخ کا ایک قابلِ غور پہلو یہ بھی ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں مقامی حکومتوں کو نسبتاً زیادہ انتظامی اور مالی اختیارات حاصل تھے۔ اس مشاہدے کو کسی غیر جمہوری نظام کی تائید کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ اس تضاد کی نشاندہی کرتا ہے کہ منتخب حکومتیں جمہوریت کی داعی ہونے کے باوجود مقامی خود حکمرانی کو مضبوط بنانے میں خاطر خواہ پیش رفت نہ کر سکیں۔ حالانکہ مضبوط بلدیاتی ادارے ہر کامیاب جمہوری نظام کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستان کو درپیش اصل مسائل کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ سرخ فیتہ، غیر ضروری انتظامی پیچیدگیاں، سیاسی مداخلت، کمزور احتساب، بدعنوانی، غیر پیشہ ورانہ فیصلہ سازی اور ادارہ جاتی کمزوری نے ریاستی کارکردگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان مسائل کا تعلق انتظامی ثقافت سے ہے، نہ کہ صوبائی حدود سے۔ اگر یہی طرزِ حکمرانی برقرار رہا تو نئے صوبے بھی انہی مسائل کا شکار ہوں گے۔
اس لیے جامع انتظامی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ملک کو ایسی سرکاری خدمات درکار ہیں جو قابلیت، دیانت، پیشہ ورانہ مہارت اور جواب دہی کی بنیاد پر کام کریں۔ تقرری، تربیت، ترقی اور کارکردگی کے تمام مراحل کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد کرتے ہوئے شفاف اور میرٹ پر مبنی بنایا جانا چاہیے۔ ایک جدید ریاست کے لیے پیشہ ورانہ انتظامیہ بنیادی ضرورت ہے۔
اسی طرح مقامی حکومتوں کی ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافہ بھی ضروری ہے۔ صرف انتخابات کرا دینا کافی نہیں بلکہ بلدیاتی اداروں کو تربیت یافتہ عملہ، مناسب مالی وسائل، جدید انتظامی نظام اور فیصلہ سازی کے حقیقی اختیارات بھی فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں انجام دے سکیں۔
مالی غیر مرکزیت بھی اسی قدر اہم ہے۔ اگر مقامی حکومتیں اپنے وسائل کے لیے مکمل طور پر صوبائی حکومتوں کی محتاج رہیں گی تو وہ آزادانہ منصوبہ بندی اور عوامی خدمات کی فراہمی نہیں کر سکیں گی۔ انہیں مستقل مالی وسائل، شفاف مالیاتی نظام اور مقامی ضروریات کے مطابق اخراجات کی آزادی حاصل ہونی چاہیے۔
نئے صوبوں کے قیام کی صورت میں متعدد آئینی، انتظامی اور مالی مسائل بھی سامنے آئیں گے۔ آئینی ترمیم، وسیع سیاسی اتفاقِ رائے، اثاثوں اور واجبات کی تقسیم، سرکاری خدمات کی تنظیمِ نو، مالی وسائل کی نئی تقسیم اور نئے انتظامی ڈھانچوں کے قیام جیسے معاملات نہایت پیچیدہ اور طویل عمل کا تقاضا کرتے ہیں۔ ایسے وقت میں جب موجودہ صوبے ہی مالی مشکلات، امن و امان، تعلیم، صحت اور بلدیاتی انتظام جیسے بنیادی مسائل سے دوچار ہیں، ایک نئی انتظامی تقسیم غیر معمولی سیاسی اور مالی وسائل کی متقاضی ہو گی۔
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مستقبل میں نئے صوبوں کی ضرورت پیدا نہیں ہو سکتی۔ آبادی میں مسلسل اضافہ، علاقائی تفاوت اور انتظامی ضروریات کے پیشِ نظر ممکن ہے کہ آئندہ برسوں میں یہ ضرورت زیادہ واضح ہو جائے۔ تاہم کسی بھی آئینی تبدیلی سے پہلے ریاست کو اپنے موجودہ نظامِ حکمرانی کی بنیادی خامیوں کو دور کرنا ہوگا۔
پاکستان کی فوری ترجیح اختیارات کی حقیقی نچلی سطح تک منتقلی، مقامی حکومتوں کا مؤثر استحکام، صوبائی نظم و نسق کی اصلاح، سرکاری خدمات کی پیشہ ورانہ تشکیل، مؤثر احتساب، مالی شفافیت اور جدید انتظامی نظام کا فروغ ہونی چاہیے۔ جب یہ اصلاحات کامیابی سے نافذ ہو جائیں گی، تب یہ فیصلہ زیادہ معروضی انداز میں کیا جا سکے گا کہ آیا مزید صوبے واقعی ضروری ہیں یا نہیں۔
وفاقی وزیرِ داخلہ نے موجودہ نظام میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت کی جس انداز سے نشاندہی کی ہے، وہ قابلِ توجہ ہے۔ تاہم اصل امتحان اس بات کا ہے کہ آیا ریاست اپنی ناکامی کی حقیقی وجوہات کو پہچانتی ہے یا نہیں۔ اگر ادارے مضبوط، جواب دہ اور عوام دوست نہ بنائے گئے تو صرف نقشہ تبدیل کرنے سے نظام تبدیل نہیں ہوگا۔ پاکستان کو سرحدوں سے زیادہ اپنے نظامِ حکمرانی کی اصلاح کی ضرورت ہے، کیونکہ مضبوط ریاستیں نئی تقسیم سے نہیں بلکہ مضبوط اداروں، مؤثر انتظامیہ اور بااختیار عوامی اداروں سے وجود میں آتی ہیں۔









