واشنگٹن — امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے غزہ کی پٹی پر دوبارہ قبضہ کرنے کا کوئی بھی اقدام ایک ’بڑی غلطی‘ ہو گی۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیلی فوج زمینی حملے کی تیاری کر رہی ہے۔
اسرائیل، 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کا بدلہ لینے کے لیے، عسکریت پسند گروپ کے خلاف اعلان جنگ کر چکا ہے، اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مسلسل بمباری جاری ہے۔ بمباری کے نتیجے میں دس لاکھ سے زیادہ لوگوں کے بے گھر ہونے کی اطلاعات ہیں ۔
سی بی ایس کے نیوز پروگرام 60 منٹس کے ذریعے یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ امریکی اتحادی کے غزہ پر کسی بھی قبضے کی حمایت کریں گے، بائیڈن نے جواب دیا: میرے خیال میں یہ ایک بڑی غلطی ہوگی۔
Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.
انہوں نے مزید کہا کہ حماس تمام فلسطینی عوام کی نمائندگی نہیں کرتی۔ لیکن حملہ کرنا اور شدت پسندوں کو نکالنا ایک ضروری ضرورت ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حماس – جسے بائیڈن نے بزدلوں کا ایک گروپ کے طور پر بیان کیا ہے – کو مکمل طور پر ختم کیا جانا چاہیے، تو انھوں نےہاں میں جواب دیا۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ لیکن ایک فلسطینی اتھارٹی کی ضرورت ہے۔ فلسطینی ریاست کے لیے ایک راستہ ہونا ضروری ہے۔انہوں نے دو ریاستی حل کے لیے دیرینہ امریکی مطالبے کا اعادہ بھی کیا۔
ساٹھ منٹ کے صحافی سکاٹ پیلی نے بھی بائیڈن سے پوچھا کہ کیا وہ جنگ میں امریکی فوجیوں کی شمولیت کی پیش گوئی کر سکتے ہیں۔بائیڈن نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ یہ ضروری ہے۔








