نواز شریف کی 21 اکتوبر کو وطن واپسی یقینی ہے، شہباز شریف

[post-views]
[post-views]

لاہور – پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے پریس کانفرنس کے دوران اپنے بڑے بھائی اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی وطن واپسی سے متعلق سوالات پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف21 اکتوبر کو لاہور میں پہنچیں گے۔

یہ سوال کہ نواز شریف آرہے ہیں یا نہیں، بار بار نہ پوچھا جائے۔ اب یہ معاملہ ختم ہونا چاہیے۔ اس کی تصدیق اب ہو گئی ہے۔ نواز شریف انشاء اللہ 21 اکتوبر کو واپس آئیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی مسلم لیگ ن پارٹی کی لیگل ٹیم نے 21 اکتوبر کو نواز شریف کی پاکستان واپسی کو کلیئر کر دیا ہے اور ان کے بڑے بھائی قانون اور آئین کا سامنا کرنے کے لیے پاکستان واپس آئیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نواز حفاظتی ضمانت کے ساتھ میدان میں اتریں گے اور قانونی جنگ طے کرنے کے بعد تباہ شدہ معیشت کی بحالی کے لیے کام کریں گے۔

شہباز شریف نے تمام حلقوں سے غیرجانبدارانہ احتساب کے عمل کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اب تک احتساب سے صرف سیاستدان ہی گزریں ہیں ۔ اپنی 16 ماہ کی حکومت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے محدود وقت اور مشکل حالات میں بھی عوام کی خدمت کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے کسانوں کا ریلیف دیا جس سے پیداوار بڑھی، ہر شعبے میں ترقی ہوئی۔ ہماری حکومت نے 200 یونٹ بجلی استعمال کرنے والوں پر بوجھ نہیں ڈالا، اور غریب لوگوں کو مفت آٹا فراہم کرنے کے علاوہ موٹر سائیکل سواروں کے لیے پیٹرول سستا کرنے کا فیصلہ کیا۔

Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.

پی ٹی آئی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم حکومت کو مہنگائی پچھلی حکومت سے ورثے میں ملی تھی ۔ پی ٹی آئی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیا تھا ،بعد میں انہوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔انہوں نے پی ٹی آئی حکومت پر مریضوں کے لیے مفت ادویات کی سہولت ختم کرنے کا الزام لگایا۔

شہباز شریف نے آئی ایم ایف معاہدے کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے دیوالیہ ہونے سے بچنے کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیا، انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم آئی ایم ایف سے معاہدہ نہ کرتے تو پاکستان ڈیفالٹ ہو جاتا ۔

شہباز شریف نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف نے بھارتی دھماکوں کے جواب میں 6 ایٹمی تجربات کیے، انہوں نے ملک میں سی پیک جیسے منصوبے کا آغاز کیا، لوڈشیڈنگ اور دہشت گردی کا خاتمہ کیا پھر بھی ان کی حکومت کو ایک سازش کے تحت گرادیا گیا  اور نواز شریف کی برطرفی کے بعد ترقی کا سفر تعطل کا شکار ہو گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم سمجھوتہ کر لیتے تو نواز شریف کو جیل نہ بھیجا جاتا۔ سابق وزیر اعظم نے مسلم لیگ ن کے نعرے کے حوالے سے کہا، ”ووٹ کو عزت دو“ کا مطلب ہے ووٹر کو عزت دینا، اور اپنے منتخب لیڈر کو حکمرانی کے معاملات میں کسی مداخلت کے بغیر آزادانہ حکومت کرنے دینا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ گورننس کا تسلسل برقرار رکھنے والی قومیں ہر میدان میں ترقی کرتی ہیں، سیاسی اور معاشی استحکام کے بغیر ترقی نہیں ہو سکتی، ہماری حکومت نے دوست ممالک سے تعلقات بحال کیے ہیں، نواز شریف کے آنے کے بعد ان میں مزید بہتری کا امکان ہے۔ شہباز شریف نے اپنے دور حکومت میں صحافیوں کی جبری گمشدگی سے لاتعلقی اور لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے دور حکومت میں کسی صحافی کو اٹھائے جانے کے ایسے کسی واقعے کا علم نہیں۔

عام انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صاف اور شفاف انتخابات ہونے چاہئیں، انتخابات میں جس کو ووٹ ملے اسے حکومت بنانے دی جائے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان مقررہ وقت پر انتخابات کے انعقاد کے اپنے فرض کو پورا کرے گا۔ پیپلز پارٹی سے تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو اور ہماری سیاست کی نوعیت مختلف ہے، دونوں سیاسی قوتیں اپنے اپنے ایجنڈے پر الیکشن لڑیں گی، بلاول کو چھوٹا بھائی قرار دیتے ہوئے ان سے جلد ملاقات کریں گے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos