ریپبلک پالیسی، ایک فکری و تحقیقی ادارے کی حیثیت سے، حکمرانی اور عوامی پالیسی کا مطالعہ معاشرے سے الگ کرکے نہیں کرتی۔ حکمرانی اس معاشرے سے آزاد ہو کر کام نہیں کرتی جس میں وہ قائم ہوتی ہے۔ اسے ثقافت، تاریخ، سماجی رویوں، ادارہ جاتی روایات اور خود معاشرے کے ارتقا سے تشکیل ملتی ہے۔ اس لیے حکمرانی کو سمجھنے کے لیے صرف آئین، قوانین، اداروں اور انتظامی ضابطوں کا مطالعہ کافی نہیں، بلکہ ان لوگوں اور سماجی اقدار کو سمجھنا بھی ضروری ہے جو ان اداروں کو عملی معنویت فراہم کرتے ہیں۔
معاشرے وقت کے ساتھ ارتقا کرتے ہیں۔ قبل از جدید دور سے جدید معاشرے کی طرف سفر صرف سیاسی اور معاشی اداروں کو تبدیل نہیں کرتا بلکہ سماجی توقعات، انفرادی رویوں اور اقتدار کے ساتھ لوگوں کے تعلق کو بھی بدل دیتا ہے۔ بادشاہت، افسر شاہی، جمہوریت اور جدید عوامی انتظامیہ جیسے نظاموں کو ان ثقافتی اور تاریخی حالات کا جائزہ لیے بغیر مکمل طور پر نہیں سمجھا جا سکتا جن میں انہوں نے ترقی کی۔
اسی لیے ریپبلک پالیسی حکمرانی کو سخت اور جامد قواعد و اداروں کے مجموعے کے بجائے ایک جامع نظام سمجھتی ہے۔ قوانین رسمی ڈھانچے قائم کر سکتے ہیں، لیکن یہ ثقافت ہے جو بڑی حد تک طے کرتی ہے کہ یہ ڈھانچے عملی طور پر کس طرح کام کریں گے۔ ایک ہی انتظامی نظام مختلف معاشروں میں مختلف نتائج پیدا کر سکتا ہے، کیونکہ ادارے بالآخر انسان ہی چلاتے ہیں اور وہ اپنے معاشرے کی اقدار، توقعات اور عادات کو اپنے ساتھ سرکاری اداروں میں لے کر آتے ہیں۔
پاکستان اس کی ایک اہم مثال ہے۔ پاکستانی معاشرے میں روایتی طور پر طاقت، سماجی حیثیت اور سرکاری شان و شوکت کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ سرکاری اختیار کو صرف اس کے ساتھ وابستہ ذمہ داری کی وجہ سے اہم نہیں سمجھا جاتا بلکہ اس سے حاصل ہونے والی سماجی حیثیت بھی لوگوں کے لیے کشش رکھتی ہے۔ سرکاری گاڑیاں، پروٹوکول، اثر و رسوخ، اہم لوگوں تک رسائی اور تعلقات طاقت اور کامیابی کی علامت بن سکتے ہیں۔ طاقت کی اس کشش کے ساتھ ساتھ دولت اور مہنگا طرزِ زندگی بھی سماجی حیثیت کے اہم پیمانے بنتے جا رہے ہیں۔
یہ سماجی رویے لازماً سرکاری اداروں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں کیونکہ سرکاری افسر معاشرے سے باہر کی مخلوق نہیں ہوتے۔ وہ بھی انہی خاندانوں، برادریوں اور سماجی ماحول سے آتے ہیں جہاں باقی لوگ رہتے ہیں۔ سرکاری ملازمت اختیار کرنے کے بعد وہ اچانک اپنے اردگرد موجود سماجی توقعات اور اقدار سے لاتعلق نہیں ہو جاتے۔
اگر معاشرہ طاقت، سرپرستی، تعلقات اور مادی کامیابی کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے تو سرکاری افسر بھی ان چیزوں کے اظہار کے لیے دباؤ محسوس کر سکتے ہیں۔ خاندان، رشتہ دار، دوست اور سماجی حلقے ایک سرکاری افسر سے توقع کر سکتے ہیں کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے، دوسروں کے کام کروائے، سرکاری اداروں تک رسائی فراہم کرے یا اپنے سرکاری عہدے کے مطابق ایک نمایاں طرزِ زندگی اختیار کرے۔ ایسی صورت میں کسی افسر کے انفرادی طرزِ عمل اور اس کے اردگرد موجود وسیع سماجی ثقافت کے تعلق کو سمجھنا ضروری ہو جاتا ہے۔
شادی اور خاندانی توقعات اس کی ایک اہم مثال پیش کرتی ہیں۔ ایک ایسے نوجوان سرکاری افسر کو تصور کریں جو سترہویں درجے میں اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کر رہا ہو۔ اس کی جائز تنخواہ اور مالی وسائل محدود اور واضح ہو سکتے ہیں، لیکن خاندان یا ازدواجی زندگی سے وابستہ توقعات اس سے ایسے مہنگے طرزِ زندگی، شاندار رہائش، قیمتی لباس، گاڑیوں، بلند سماجی حیثیت اور طاقت کے نمایاں اظہار کا مطالبہ کر سکتی ہیں جو اس کی جائز آمدن سے کہیں زیادہ ہوں۔ یہاں سوال صرف اس افسر کی ذاتی دیانت کا نہیں رہتا بلکہ یہ بھی اہم ہو جاتا ہے کہ معاشرہ اس کے گرد کس نوعیت کے دباؤ اور ترغیبات پیدا کر رہا ہے۔
اس تعلق کو کسی حد تک طلب اور رسد کے معاشی تصور کے ذریعے بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ سماجی رویہ معاشی منڈی کے بالکل مساوی نہیں، لیکن سماجی طلب بھی بعض رویوں کے لیے ترغیبات پیدا کر سکتی ہے۔ اگر اثر و رسوخ، سرپرستی، غیر معمولی دولت اور سرکاری اختیار کے ناجائز استعمال کو معاشرے میں پذیرائی حاصل ہو تو افسران کے لیے ایسے رویے اختیار کرنے کی ترغیب پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اگر پیشہ ورانہ قابلیت، دیانت، سادہ طرزِ زندگی، میرٹ اور عوامی خدمت کو زیادہ سماجی احترام حاصل ہو تو سرکاری افسران کے سامنے ترغیبات کا ایک مختلف نظام پیدا ہوتا ہے۔
اس دلیل کا مقصد بدعنوانی کا جواز پیش کرنا یا کسی فرد کو اس کی ذاتی ذمہ داری سے بری کرنا نہیں۔ ہر سرکاری افسر قانون کے مطابق کام کرنے اور پیشہ ورانہ و اخلاقی اصولوں کی پابندی کا ذمہ دار ہے۔ تاہم بدعنوانی کے مؤثر تجزیے کے لیے انفرادی غلط کاری سے آگے بڑھ کر اس ماحول کو بھی سمجھنا ضروری ہے جس میں ایسے رویے جنم لیتے ہیں۔ اگر معاشرہ مسلسل سرکاری افسران سے ان کے جائز وسائل سے بڑھ کر طرزِ زندگی اختیار کرنے یا سرکاری اختیار کو ذاتی اور خاندانی مفادات کے لیے استعمال کرنے کی توقع رکھے تو انتظامی اصلاحات کہیں زیادہ مشکل ہو جاتی ہیں۔
اسی وجہ سے سرکاری ملازمت کے نظام کی اصلاح کو سماجی اصلاح سے مکمل طور پر الگ نہیں کیا جا سکتا۔ بھرتی کے طریقۂ کار، ترقی کے نظام، احتسابی ڈھانچے اور انتظامی قواعد کو بہتر بنانا ضروری ہے، لیکن صرف یہ اقدامات حکمرانی کو تبدیل نہیں کر سکتے اگر اردگرد کا معاشرہ میرٹ کے مقابلے میں سرپرستی، سماجی رتبے کے غیر ضروری اظہار اور طاقت تک رسائی کو زیادہ اہمیت دیتا رہے۔
ریاست بھی اس صورتحال کی بڑی ذمہ داری رکھتی ہے۔ ثقافت اداروں کو متاثر کرتی ہے، لیکن ادارے بھی ثقافت کی تشکیل کرتے ہیں۔ حکومتیں قوانین بناتی، ترغیبات کا تعین کرتی اور اپنی پالیسیوں کے ذریعے یہ پیغام دیتی ہیں کہ کون سے رویے قابلِ قبول ہیں۔ ایک مؤثر ریاست کو ایسے ادارے قائم کرنے چاہییں جو پیشہ ورانہ طرزِ عمل کی حوصلہ افزائی کریں اور بدعنوانی، سرپرستی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کو مشکل اور نقصان دہ بنائیں۔
پاکستان کی سیاسی ثقافت میں بڑے اور نمایاں منصوبوں، عوامی پروگراموں کو شخصیات سے منسلک کرنے اور سرکاری وسائل و سہولیات کی ایسی تقسیم کے ذریعے سرپرستی کے رجحانات کو تقویت ملتی رہی ہے جنہیں سیاسی شخصیات سے جوڑا جا سکتا ہے۔ جب شہری سرکاری وسائل کو غیر جانب دار اداروں کے ذریعے فراہم کیے جانے والے اپنے حقوق کے بجائے بااثر شخصیات کی طرف سے دی جانے والی مراعات سمجھنے لگیں تو ریاست اور معاشرے کے تعلق میں سرپرستی کی ثقافت مزید گہری ہو جاتی ہے۔
اس لیے حکمرانی کی اصلاح کو دونوں سمتوں میں آگے بڑھنا ہوگا۔ معاشرے کو دولت، پروٹوکول، اثر و رسوخ اور سرکاری عہدے سے وابستہ اپنی اقدار پر نظرثانی کرنا ہوگی، جبکہ ریاست کو ایسے ادارے تشکیل دینا ہوں گے جو میرٹ، پیشہ ورانہ اہلیت، شفافیت اور مساوی سلوک کو فروغ دیں۔ ثقافتی تبدیلی کے بغیر صرف ادارہ جاتی اصلاح اور ادارہ جاتی اصلاح کے بغیر صرف ثقافتی تبدیلی کافی ثابت ہونے کا امکان نہیں۔
اس پوری بحث کا بنیادی سبق یہ ہے کہ حکمرانی دراصل ریاست، اداروں اور معاشرے کے باہمی تعلق کا نام ہے۔ افسر شاہی سماجی اقدار کی عکاسی کرتی ہے، لیکن وہ ان اقدار کو متاثر بھی کرتی ہے۔ سیاسی ادارے عوامی توقعات کا جواب دیتے ہیں، لیکن وہ ان توقعات کو تبدیل بھی کر سکتے ہیں۔ ثقافت حکمرانی کو متاثر کرتی ہے اور حکمرانی بتدریج ثقافت کو تبدیل کرتی ہے۔
لہٰذا حکمرانی کے معیار کو محض قوانین پڑھ کر یا اداروں کے انتظامی خاکوں کا جائزہ لے کر نہیں سمجھا جا سکتا۔ اگر ہم یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ ادارے ایک مخصوص انداز میں کیوں کام کرتے ہیں تو ہمیں اس معاشرے کو بھی سمجھنا ہوگا جس کے اندر وہ موجود ہیں۔ اگر پاکستان اپنی حکمرانی میں اصلاح چاہتا ہے تو اسے اداروں اور ترغیبات کی اصلاح کے ساتھ ساتھ طاقت، سرپرستی، دولت اور سرکاری عہدے کے گرد موجود سماجی ثقافت کا بھی ازسرِنو جائزہ لینا ہوگا۔









