بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

مکہ دفاعی اتحاد میں شمولیت کے لیے چھ سے زائد ممالک دلچسپی رکھتے ہیں، اسحاق ڈار

[post-views]
[post-views]

نائب وزیراعظم کا کہنا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے پُرعزم ہے، سہ فریقی دفاعی اتحاد کا ہنگامی اجلاس آئندہ ہفتے ہوگا

اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعہ کو کہا ہے کہ چھ سے زائد ممالک نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے قائم کردہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کے لیے دلچسپی ظاہر کی ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ جارحانہ نہیں بلکہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد بیرونی سلامتی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے اجتماعی دفاع کا ایک مشترکہ فریم ورک فراہم کرنا ہے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے 7 اگست کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت تینوں رکن ممالک میں سے کسی ایک پر حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

پاکستان سعودی عرب کے دفاع کا پابند ہے

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان معاہدے کے تحت سعودی عرب کے دفاع کے لیے پُرعزم ہے۔

انہوں نے کہا، ’’ہم سعودی عرب کے دفاع کے پابند ہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کا منشور بھی اجتماعی دفاعی انتظامات کے تحت ممالک کو ضروری اقدامات کی اجازت دیتا ہے۔

انہوں نے اس دفاعی انتظام کا موازنہ نیٹو کے اجتماعی دفاعی نظام سے بھی کیا۔

اسحاق ڈار کے مطابق اتحاد کا پہلا اجلاس 31 اگست کو منعقد ہوا تھا، جبکہ اس کا صدر دفتر سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا۔

پاکستان نے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو اتحاد کے پہلے سیکرٹری جنرل کے طور پر نامزد کیا ہے۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ سعودی عرب میں تازہ ترین سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے مکہ معاہدے کے تحت آئندہ ہفتے ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا جائے گا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو اب تک 17 سے 18 حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

چھ سے زائد ممالک اتحاد میں شمولیت کے خواہاں

وزیر خارجہ نے کہا کہ چھ سے زائد ممالک نے اس دفاعی انتظام میں شامل ہونے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جس سے مستقبل میں موجودہ تین رکنی اتحاد میں توسیع کا امکان پیدا ہوا ہے۔

تاہم انہوں نے ان ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے جو اتحاد میں شمولیت کے خواہاں ہیں۔

آبنائے ہرمز سے گزرنے پر فیس کی مخالفت

آبنائے ہرمز کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں سے کسی قسم کی فیس یا سروس چارج وصول نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں اس معاملے کا حل چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق مختلف فریق اپنے اپنے مفادات کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں۔

افغانستان سے شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

افغانستان کے حوالے سے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے لیے نیک خواہشات رکھتا ہے، تاہم افغان حکام کو یقینی بنانا ہوگا کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ کابل کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی اور پاکستانی حکام کی جانب سے فتنہ الہندوستان قرار دیے جانے والے عناصر کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔

اسحاق ڈار نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد اکتوبر سے بند ہے اور پاکستان اس بات سے آگاہ ہے کہ سرحد کی بندش کے باعث فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔

ان کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکی بڑھتے ہوئے علاقائی سکیورٹی خدشات کے درمیان مکہ دفاعی اتحاد کو مزید ادارہ جاتی شکل دینے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]