اسلام آباد: پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات بحال کرانے اور سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک اور اعلیٰ سطحی وفد تہران بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔
اسلام آباد یا تہران کی جانب سے مجوزہ دورے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔ تاہم ایک سینئر حکومتی عہدیدار نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ ایران کے لیے ایک اور سفارتی وفد بھیجنے پر غور جاری ہے اور یہ دورہ جلد ہو سکتا ہے۔
وفد کی تشکیل کا اعلان ابھی نہیں ہوا، لیکن سفارتی اور حکومتی ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے وفد کی قیادت کیے جانے کا امکان ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کا کردار برقرار رکھنے کے ساتھ سعودی عرب کے لیے اپنے بڑھتے ہوئے دفاعی وعدوں کو بھی پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
حوثیوں کے حملوں سے سفارتی کوششوں کی اہمیت میں اضافہ
سعودی عرب اور ایران سے منسلک حوثیوں کے درمیان تازہ لڑائی نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو ایک نئے چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔
رواں ہفتے سعودی فورسز نے یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے، جبکہ حوثیوں نے سعودی سرزمین کی جانب میزائل اور ڈرون داغے۔ ان حملوں کے نتیجے میں سعودی توانائی تنصیبات اور بحیرۂ احمر و آبنائے باب المندب میں جہاز رانی کے راستوں کی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔
مجوزہ دورے سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان ٹیلی فون پر گفتگو بھی ہوئی تھی۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ اس وقت عباس عراقچی بیجنگ کے دورے پر تھے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بعد ازاں ایرانی حکام کو حوثیوں کے حملوں سے متعلق پاکستان کے خدشات سے آگاہ کیا اور تہران پر زور دیا کہ وہ گروہ کو روکنے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرے۔
اخبار کے مطابق اسلام آباد نے خبردار کیا کہ موجودہ صورت حال سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دفاعی وعدوں پر بھی اثرانداز ہو سکتی ہے۔
اگست میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدے کے بعد اسلام آباد کی سلامتی سے متعلق ذمہ داریوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ اس معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملہ تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔
پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اپنے عزم کا بارہا اعادہ کر چکا ہے۔ جمعے کو پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھی مملکت کی سلامتی کے لیے پاکستان کے عزم کو غیر مشروط قرار دیا تھا۔
تاہم سعودی عرب نے اب تک پاکستان سے فوجی مداخلت کی باضابطہ درخواست نہیں کی، جبکہ اسلام آباد سفارتی حل کی اہمیت پر زور دے رہا ہے۔
اس تناظر میں مجوزہ دورۂ تہران کے دو مقاصد ہو سکتے ہیں: حوثیوں کے حملوں سے متعلق پاکستان کے خدشات ایرانی حکام تک پہنچانا اور ایران و امریکا کے درمیان مذاکرات بحال کرنے کی کوششوں کو آگے بڑھانا۔
ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی کوششیں
پاکستان سات ماہ سے جاری تنازعے کے دوران ثالثی کی متعدد کوششیں کر چکا ہے، جن میں امریکی اور ایرانی نمائندوں کے درمیان بالواسطہ رابطوں کی میزبانی بھی شامل ہے۔
اسلام آباد مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ تنازعے کا حل فوجی کارروائیوں کے بجائے مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔
اہم بحری تجارتی راستوں پر جنگ کے اثرات نے ان سفارتی کوششوں کی ضرورت مزید بڑھا دی ہے۔
آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت بدستور نمایاں طور پر کم ہے، جبکہ آبنائے باب المندب کے اطراف سلامتی کی صورت حال بھی خراب ہوئی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جمعرات کو آبنائے ہرمز سے سامان لے جانے والے صرف چار بحری جہاز گزرے، جبکہ اس سے پہلے کے دس دنوں میں روزانہ اوسطاً 16 جہاز اس راستے سے گزرتے رہے تھے۔
علاقائی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے اور خلیجی ممالک پر سفارتی حل تلاش کرنے کا دباؤ بڑھا ہے۔
روئٹرز کے مطابق جمعے کو سفارتی رابطوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی آئی۔ ان کوششوں میں ایران کو سعودی توانائی تنصیبات پر حوثیوں کے حملے رکوانے کے لیے آمادہ کرنا بھی شامل تھا۔
تاہم واشنگٹن اور تہران کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ کے جلد خاتمے کی امید ظاہر کر چکے ہیں، لیکن مذاکرات تاحال بحال نہیں ہوئے۔
پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے تزویراتی تعلقات برقرار رکھتے ہوئے ایران اور امریکا دونوں کے ساتھ سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔
تجارتی جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کی پاکستان کی مذمت
پاکستان نے آبنائے باب المندب میں تجارتی بحری جہازوں پر حوثیوں کے حملے فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
بحرین کی جانب سے بلائے گئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر رسمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی ادارے میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے خبردار کیا کہ ان حملوں کے بحری سلامتی اور علاقائی استحکام پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے حوثیوں پر زور دیا کہ وہ تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرہ بننے والی کارروائیاں بند کریں۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ ایسے حملے خطے میں امن اور ترقی کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر سعودی عرب کو درپیش خطرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مملکت حوثیوں کی جارحیت کا سامنا کر رہی ہے۔
یہ اجلاس رواں ہفتے سلامتی کونسل میں اس اہم آبی گزرگاہ کو درپیش خطرات اور عالمی تجارت پر ان کے اثرات سے متعلق دوسری بڑی نشست تھی۔
حوثیوں کا 24 گھنٹوں میں 26 سعودی فضائی حملوں کا دعویٰ
دوسری جانب یمن کے حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ان کے زیرِ کنٹرول علاقوں پر 26 فضائی حملے کیے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حوثیوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ان کے زیرِ قبضہ علاقوں پر سعودی حملوں کی تعداد 300 تک پہنچ گئی ہے۔
یہ دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حوثیوں اور ریاض کی حمایت یافتہ یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے درمیان لڑائی جاری ہے۔
عالمی تجارت میں شدید رکاوٹوں پر عالمی تجارتی تنظیم کا انتباہ
مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعے سے بین الاقوامی رسد کا نظام بھی دباؤ کا شکار ہے۔
عالمی تجارتی تنظیم کی ڈائریکٹر جنرل نگوزی اوکونجو ایویالا نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی رکاوٹیں عالمی سطح پر خوراک اور کھاد کی قیمتوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔
جنیوا میں عالمی تجارتی تنظیم کے عوامی فورم کے موقع پر انادولو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کا تنازعہ تنظیم کے 166 رکن ممالک کے لیے ایک بڑا امتحان ہے، تاہم عالمی تجارتی نظام اب بھی مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ان کے مطابق جغرافیائی و سیاسی دباؤ کے باوجود رواں سال عالمی اشیائی تجارت میں توقعات سے زیادہ 4.6 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ دنیا کی مجموعی تجارت کا 72 فیصد اب بھی عالمی تجارتی تنظیم کے قواعد کے تحت ہو رہا ہے۔
تنظیم نے ابتدائی طور پر پورے سال کے لیے اشیائی تجارت میں 1.9 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی تھی، جبکہ پہلی سہ ماہی میں ترقی کی شرح 3.2 فیصد رہی، جو توقعات سے زیادہ تھی۔
سعودی فضائی اڈے پر حملے میں اطالوی فوجی طیارے کو نقصان
اٹلی کے وزیر دفاع گویڈو کروسیٹو نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب کے ایک فضائی اڈے پر حملوں کے دوران اطالوی فوجی طیارے کو نقصان پہنچا۔
انادولو نے اطالوی خبر رساں ادارے انسا کے حوالے سے بتایا کہ وزیر دفاع کے مطابق طائف کے فضائی اڈے کو متعدد مرتبہ نشانہ بنایا گیا۔ اس اڈے پر داعش کے خلاف بین الاقوامی فوجی کارروائی کے سلسلے میں اطالوی اہلکار بھی تعینات ہیں۔
انہوں نے تصدیق کی کہ اڈے کے ایک دور دراز حصے میں کھڑے اطالوی ایف-2000 طیارے کو حملے میں نقصان پہنچا۔
واقعے میں کوئی اطالوی فوجی اہلکار زخمی نہیں ہوا، جبکہ اطالوی دستے کے زیرِ استعمال دیگر گاڑیوں یا تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی اطلاع بھی نہیں ملی۔
وزیر دفاع نے کہا کہ انہوں نے سلامتی کی بدلتی ہوئی صورت حال، اہلکاروں کے تحفظ اور ممکنہ عملی اقدامات کا مزید جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔
ان کے مطابق اطالوی فوجیوں کے تحفظ کے لیے ضروری حفاظتی اقدامات پہلے ہی نافذ کیے جا چکے ہیں اور حکام صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔









