پاکستان کو تخصصی انتظامی نظام کی ضرورت کیوں ہے؟

[post-views]
[post-views]

ریپبلک پالیسی کی کتاب Fixing the Executive Branch of Government in Pakistan پر ماہرِ معیشت سے خصوصی گفتگو۔

ریپبلک پالیسی کا مؤقف ہے کہ مینجمنٹ اور تنظیمی علوم میں ترقی نے جدید انتظامیہ کے تقاضے بدل دیے ہیں۔ ایک ایسا یکساں سول سروس نظام، جس میں جنرل کیڈر کے افسران یکساں پے اسکیل کے تحت کام کرتے ہیں، ہر تخصصی شعبے میں مؤثر انتظامی قیادت فراہم نہیں کر سکتا۔

صحت اور تعلیم جیسے محکموں کو ایسے منتظمین کی ضرورت ہے جو متعلقہ شعبے میں مہارت اور اس کے تقاضوں کی سمجھ رکھتے ہوں۔ یہی اصول دیگر تخصصی محکموں پر بھی لاگو ہوتا ہے، جہاں مؤثر انتظام کے لیے پیشہ ورانہ علم اور انتظامی صلاحیت دونوں ضروری ہیں۔

بنیادی مسئلہ محض افسران کی تعیناتی نہیں، بلکہ ان کی مہارت اور متعلقہ ادارے کی ضروریات کے درمیان مطابقت ہے۔ ہر تخصصی محکمے کے انتظامی تقاضے مختلف ہوتے ہیں۔ اس لیے اداروں کی قیادت کا تعین سول سروس میں تعیناتی کے یکساں طریقہ کار کے بجائے متعلقہ شعبے کی نوعیت اور ضروریات کے مطابق ہونا چاہیے۔

تخصصی انتظامیہ کی طرف منتقلی سے پیشہ ورانہ علم کو ادارہ جاتی نظم و نسق میں مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔ اس تصور کی بنیاد یہ ہے کہ مؤثر گورننس کے لیے ایسے منتظمین ضروری ہیں جو اپنے اداروں کے بنیادی فرائض کے ساتھ انہیں چلانے کے انتظامی اصولوں سے بھی واقف ہوں۔

ریپبلک پالیسی کی کتاب Fixing the Executive Branch of Government in Pakistan انتظامی اصلاحات کا یہی تصور پیش کرتی ہے۔ ان خیالات کو سمجھنے کے لیے ہماری خصوصی گفتگو سنیے اور مجوزہ اصلاحات کی تفصیلی وضاحت کے لیے کتاب ضرور پڑھیے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]