پاکستان کو قطر سے مائع قدرتی گیس کی دو کھیپیں ملنے کی توقع ہے، جس سے ملک میں گیس کی رسد پر دباؤ کم ہوگا اور عالمی فوری منڈی سے مہنگی گیس خریدنے کی ضرورت میں بھی کمی آسکتی ہے۔
بلومبرگ کے مطابق قطری مائع قدرتی گیس لے جانے والا جہاز المرونہ رواں ہفتے کے آغاز میں آبنائے ہرمز عبور کرچکا ہے اور جمعرات تک پاکستان پہنچنے کی توقع ہے۔ قطری گیس لے جانے والا ایک اور جہاز بھی آئندہ چند روز میں اس اہم آبی گزرگاہ سے گزر کر پاکستان کی جانب روانہ ہوگا۔
ان کھیپوں کی آمد ایسے وقت میں اہم ہے جب جغرافیائی و سیاسی کشیدگی اور عالمی فوری منڈی میں بلند قیمتوں کے باعث پاکستان کو مائع قدرتی گیس کی فراہمی یقینی بنانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ نئی کھیپیں پاکستان کو ہنگامی بنیادوں پر زیادہ مہنگی گیس خریدنے سے بچا سکتی ہیں۔
تاہم رسد کی صورت حال بدستور مشکل ہے۔ پاکستان نے منگل کو ستمبر کے لیے مائع قدرتی گیس کی ایک کھیپ خریدنے کا ٹھیکہ نہیں دیا کیونکہ کسی بھی فراہم کنندہ کی جانب سے پیشکش موصول نہیں ہوئی۔ یہ صورت حال عالمی منڈی میں رسد کی مسلسل تنگی کی نشاندہی کرتی ہے۔
پاکستان نسبتاً مستحکم اور مناسب قیمت پر گیس کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے قطر کے ساتھ طویل مدتی معاہدوں پر بڑی حد تک انحصار کرتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے اطراف دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی اور علاقائی توانائی کی ترسیل میں رکاوٹوں کے بعد اس انحصار کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
جولائی 2026 میں پاکستان کے لیے مقرر قطر کی مائع قدرتی گیس کی ایک کھیپ علاقائی رکاوٹوں کے باعث منسوخ کردی گئی تھی، جبکہ قطر نے معاہداتی ذمہ داری پوری نہ کرسکنے کی ہنگامی شق نافذ کردی تھی۔ اس تعطل کے باعث پاکستان کو ہنگامی بنیادوں پر گیس کی فراہمی کے انتظامات، متبادل ایندھن اور عالمی فوری منڈی سے زیادہ مہنگی کھیپوں کی خریداری پر غور کرنا پڑا۔
قطر سے متوقع تازہ کھیپیں پاکستان کو فوری طور پر کچھ ریلیف فراہم کرسکتی ہیں، تاہم آبنائے ہرمز کے اطراف جاری عدم استحکام کے باعث ملک کی مائع قدرتی گیس کی رسد بدستور مزید رکاوٹوں کے خطرے سے دوچار ہے۔








