بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

طالبان کی موسیقی پر پابندی کے باوجود افغان ٹیکسی ڈرائیور ثقافتی روایات زندہ رکھنے کے لیے پُرعزم

[post-views]
[post-views]

کابل: افغانستان میں بعض ٹیکسی ڈرائیور طالبان حکومت کی موسیقی پر عائد پابندیوں کے باوجود اپنی گاڑیوں میں افغان لوک گیت اور علاقائی پاپ موسیقی چلا کر خاموشی سے ان پابندیوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، حالانکہ انہیں اخلاقی پولیس کی جانب سے روکے جانے کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔

2021 میں طالبان کی اقتدار میں واپسی سے قبل موسیقی کابل کے ریستورانوں، کیفے، دکانوں اور گلیوں میں روزمرہ زندگی کا ایک مانوس حصہ تھی۔ تاہم اب عوامی مقامات سے موسیقی تقریباً غائب ہو چکی ہے اور اس کی جگہ حکام کے منظور کردہ مذہبی اور ملی نغموں نے لے لی ہے۔

اس کے باوجود بعض ڈرائیور اپنی پسند کی موسیقی سنتے رہتے ہیں، لیکن سکیورٹی چیک پوسٹوں کے قریب پہنچتے ہی آواز کم کر دیتے ہیں یا موسیقی مکمل طور پر بند کر دیتے ہیں۔

موسیقی خاموش مزاحمت کی علامت بن گئی

28 سالہ ٹیکسی ڈرائیور روئین نے، جس نے سکیورٹی خدشات کے باعث صرف اپنا پہلا نام ظاہر کیا، بتایا کہ سکیورٹی اہلکاروں کے سامنے آنے پر وہ خصوصی احتیاط برتتا ہے۔

اس کے مطابق ڈرائیور چیک پوسٹوں پر کسی مشکل سے بچنے کے لیے موسیقی کی آواز کم کر دیتے ہیں یا اسے مکمل طور پر بند کر دیتے ہیں۔

ان پابندیوں پر عمل درآمد افغانستان کی وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرتی ہے، جس کے اہلکار کابل کی سڑکوں پر گشت کرتے ہیں۔

وزارت کے ضوابط کے تحت ڈرائیوروں کے لیے موسیقی چلانا یا سننا ممنوع ہے۔ حکام اسے ناجائز اور مسافروں کے لیے تکلیف کا باعث قرار دیتے ہیں۔

اگرچہ وزارت نے موسیقی چلانے پر عائد مخصوص سزاؤں سے متعلق سوالات کا جواب نہیں دیا، تاہم اس کے بعض دیگر ضوابط کی خلاف ورزی پر قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

روئین کے مطابق اخلاقی پولیس کے اختیارات کے باعث ڈرائیور کھلے عام موسیقی چلانے سے گریز کرتے ہیں۔

اس کے باوجود پابندیوں نے موسیقی سے اس کی وابستگی مزید بڑھا دی ہے۔ کابل کی مصروف سڑکوں پر گاڑی چلاتے ہوئے اس نے بتایا کہ پابندی کے بعد موسیقی میں اس کی دلچسپی پہلے سے کہیں زیادہ ہو گئی ہے۔

اس کے لیے موسیقی محض تفریح نہیں رہی۔ ایک ایسے ملک میں جہاں سینما اور کئی دیگر تفریحی سرگرمیوں پر پابندی ہے، موسیقی سننا ذاتی مزاحمت کے اظہار کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

چیک پوسٹوں کے خوف میں موسیقی سننے والے ڈرائیور

ایک اور ٹیکسی ڈرائیور نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ صرف اسی وقت موسیقی سنتا ہے جب گاڑی میں اکیلا ہو اور اردگرد کی ٹریفک کا شور موسیقی کی آواز کو نمایاں نہ ہونے دے۔

32 سالہ ڈرائیور کے مطابق ماضی میں موسیقی سننا ایک معمول کی سرگرمی تھی جس کے لیے کسی خاص احتیاط کی ضرورت نہیں ہوتی تھی، لیکن اب اس کے ساتھ مسلسل خوف وابستہ ہے۔

اس نے بتایا کہ دو مرتبہ چیک پوسٹوں پر اہلکاروں نے اس کی گاڑی سے یو ایس بی اور میموری کارڈ برآمد ہونے پر اسے روکا۔

جب اہلکاروں نے پوچھا کہ کیا ان میں موسیقی موجود ہے تو اس نے سچ بتا دیا۔ ڈرائیور کے مطابق اس کے بعد اہلکاروں نے دونوں آلات توڑ دیے۔

ان واقعات کے باوجود وہ افغان ثقافتی زندگی کے اس حصے کو محفوظ رکھنے کے لیے پُرعزم ہے جسے وہ ختم ہوتا نہیں دیکھنا چاہتا۔

اس کے مطابق موسیقی افغانستان کی ثقافتی شناخت کا ایک اہم عنصر ہے اور اسے خدشہ ہے کہ مسلسل پابندیاں اس روایت کو بتدریج عوامی زندگی سے مٹا سکتی ہیں۔

موسیقی کے آلات کے خلاف حکام کی کارروائیاں جاری

طالبان کی پابندیاں صرف گاڑیوں میں موسیقی چلانے تک محدود نہیں ہیں۔

وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے صوبائی دفاتر وقتاً فوقتاً ضبط کیے گئے موسیقی کے آلات جلانے کی اطلاعات بھی جاری کرتے ہیں۔

وزارت کے ترجمان سیف الاسلام خیبر کے مطابق ضبط کیے گئے موسیقی کے آلات کی مجموعی تعداد کے اعدادوشمار دستیاب نہیں ہیں۔

موسیقی سننے کا سلسلہ جاری رکھنے والے ٹیکسی ڈرائیوروں کے لیے آلات ضبط ہونے یا سزا ملنے کا خدشہ روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔

اس کے باوجود موسیقی سے وابستگی برقرار رکھنے کا ان کا فیصلہ افغان زندگی کی ایک مانوس ثقافتی روایت کو زندہ رکھنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، چاہے اس کے لیے انہیں خاموشی اور احتیاط ہی کیوں نہ اختیار کرنا پڑے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]