اصل سوال صرف یہ نہیں کہ پاکستان کو کتنے صوبوں کی ضرورت ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا اس کا سیاسی نظام چھوٹی وفاقی اکائیوں کو زیادہ جواب دہ، نمائندہ اور مؤثر بنا سکتا ہے۔
تحریر: لو پُری
9 ستمبر 2026
پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث ایک مرتبہ پھر سیاسی ایجنڈے پر آگئی ہے۔ حامیوں کا مؤقف ہے کہ 24 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک کو صرف چار صوبوں کے ذریعے مؤثر انداز میں چلانا مشکل ہے، خصوصاً جب صرف پنجاب کی آبادی دنیا کے کئی ممالک سے زیادہ ہے۔ ان کے خیال میں چھوٹی وفاقی اکائیاں انتظامی کارکردگی بہتر بنا سکتی ہیں، حکومت کو عوام کے قریب لاسکتی ہیں اور نظرانداز علاقوں کو زیادہ مؤثر سیاسی نمائندگی فراہم کرسکتی ہیں۔
یہ مؤقف ان علاقوں میں زیادہ اہمیت رکھتا ہے جہاں کئی دہائیوں سے الگ صوبائی حیثیت کے مطالبات موجود ہیں۔ جنوبی پنجاب، بہاولپور اور ہزارہ کا ذکر نئے صوبوں کی بحث میں اکثر کیا جاتا ہے۔ اسی طرح دیگر علاقوں کی انتظامی اور سیاسی نمائندگی کے حوالے سے بھی بحث سامنے آتی رہی ہے۔
تاہم پاکستان میں صوبوں کا سوال محض نقشے پر نئی سرحدیں کھینچنے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
پاکستان میں صوبائی شناخت کا زبان، ثقافت، تاریخ اور سیاسی طاقت سے گہرا تعلق ہے۔ اس لیے صوبائی حدود میں کسی بھی تبدیلی سے نمائندگی، وسائل اور شناخت سے متعلق مشکل سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ نیا صوبہ ایک برادری کے لیے انتظامی رسائی بہتر بنا سکتا ہے، لیکن اسی وقت کسی دوسری برادری کے لیے نئے خدشات بھی پیدا کرسکتا ہے۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ ایسی تنظیمِ نو وفاق کو مضبوط کرے، نہ کہ نئی سیاسی شکایات کو جنم دے۔
اس معاملے میں ایک آئینی تقاضا بھی موجود ہے۔ کسی موجودہ صوبے کی حدود میں تبدیلی کے لیے آئینی ترمیم ضروری ہے۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 239(4) کے تحت اگر کوئی آئینی ترمیم کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی کرتی ہو تو اسے صدر کی منظوری کے لیے اس وقت تک پیش نہیں کیا جاسکتا جب تک متعلقہ صوبائی اسمبلی اپنی کل رکنیت کے کم از کم دو تہائی اکثریت سے اس کی منظوری نہ دے۔ آئینی ترمیم کے لیے پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں بھی مطلوبہ دو تہائی حمایت درکار ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ نئے صوبوں کا قیام بنیادی طور پر ایک سیاسی سوال ہے۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان وسیع اتفاقِ رائے اور اس صوبے میں خاطر خواہ سیاسی حمایت کے بغیر بڑی علاقائی تنظیمِ نو ممکن نہیں جس کی حدود تبدیل ہونا ہوں۔
اس کے مالی اثرات بھی اتنے ہی اہم ہیں۔
پاکستان کے وفاقی نظام میں قومی مالیاتی کمیشن کے ذریعے اہم مالی وسائل وفاقی اکائیوں کے درمیان تقسیم کیے جاتے ہیں۔ نئے صوبوں کے قیام کی صورت میں وفاقی محصولات کی تقسیم پر ازسرِنو غور کرنا ہوگا۔ نئی صوبائی حکومتوں کے لیے اسمبلیاں، سیکریٹریٹ، انتظامی محکمے اور دیگر ادارے بھی درکار ہوں گے۔ اگر اس عمل کی محتاط منصوبہ بندی نہ کی گئی تو چھوٹے صوبے بنانے کا نتیجہ اضافی اخراجات کے ساتھ موجودہ افسر شاہی کے ڈھانچوں کی نقل تیار کرنے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔
نئے صوبوں کے حامیوں کا جواب یہ ہے کہ یہ اعتراض فیصلہ سازی کو عوام کے قریب لانے کے ممکنہ فوائد کو نظرانداز کرتا ہے۔ چھوٹے صوبے عوام کے لیے صوبائی انتظامیہ تک رسائی آسان بنا سکتے ہیں اور حکومتوں کو علاقائی ترقی کی ضروریات پر زیادہ توجہ دینے کا موقع فراہم کرسکتے ہیں۔ صوبائی دارالحکومتوں سے دور علاقوں میں اکثر یہ شکایت پائی جاتی ہے کہ سیاسی اثرورسوخ، سرکاری سرمایہ کاری اور انتظامی توجہ طاقت کے روایتی مراکز تک محدود رہتی ہے۔
لیکن چھوٹے صوبے خود بخود بہتر حکمرانی کی ضمانت نہیں دیتے۔
ناقص حکمرانی کا شکار ایک بڑا صوبہ تقسیم ہوکر ناقص حکمرانی کے شکار کئی چھوٹے صوبوں میں بھی تبدیل ہوسکتا ہے۔ اگر سیاسی سرپرستی، کمزور ادارے، افسر شاہی کا ضرورت سے زیادہ اختیار اور محدود جواب دہی برقرار رہیں تو صوبائی سرحدوں کی تبدیلی عوام کی زندگی بہتر بنانے کے بجائے محض سیاسی عہدوں کی نئی تقسیم بن سکتی ہے۔
اسی لیے نئے صوبوں کی بحث کو مقامی حکومتوں کے سوال سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔
عوام کی روزمرہ زندگی پر براہِ راست اثر انداز ہونے والی بہت سی خدمات، جن میں بلدیاتی انتظام، صفائی، مقامی بنیادی ڈھانچا اور علاقائی ترقی شامل ہیں، مؤثر مقامی اداروں کے ذریعے زیادہ بہتر انداز میں فراہم کی جاسکتی ہیں۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 140 اے صوبوں کو مقامی حکومتوں کا نظام قائم کرنے اور سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داری اور اختیار منتخب مقامی نمائندوں کو منتقل کرنے کا پابند کرتا ہے۔
اس کے باوجود مقامی حکومتیں تاریخی طور پر پاکستان کے نظامِ حکمرانی کے کمزور ترین حصوں میں شامل رہی ہیں۔ صوبائی حکومتیں بامعنی اختیارات اور مالی وسائل نچلی سطح تک منتقل کرنے سے اکثر گریزاں رہی ہیں۔ چنانچہ نئے صوبوں کے بعض مطالبات صرف نئی وفاقی اکائیوں کی خواہش کا اظہار نہیں بلکہ صوبائی دارالحکومتوں میں طاقت کے ضرورت سے زیادہ ارتکاز کے خلاف بے اطمینانی کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔
اس لیے مقامی حکومتوں کو کمزور رکھتے ہوئے نئے صوبے قائم کرنا مسئلے کے صرف ایک حصے کا حل ہوسکتا ہے۔
اس بحث کا ایک اور اہم پہلو وفاق کے اندر نمائندگی ہے۔ نئے صوبوں کے قیام سے قومی اداروں، خصوصاً سینیٹ میں سیاسی نمائندگی تبدیل ہوگی، جہاں صوبوں کو مساوی نمائندگی حاصل ہے۔ مزید وفاقی اکائیوں کا قیام پاکستان کے وفاقی ڈھانچے میں سیاسی طاقت کے موجودہ توازن کو بھی تبدیل کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ صوبائی تنظیمِ نو کو محض انتظامی اقدام نہیں سمجھا جاسکتا۔
پاکستان کو انتظامی عدم مرکزیت اور وفاقی تنظیمِ نو کے درمیان واضح فرق کرنا ہوگا۔
خدمات کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے انتظامی اکائیاں قائم کی جاسکتی ہیں اور ضروری نہیں کہ انہیں آئینی طور پر تسلیم شدہ وفاقی اکائیوں میں تبدیل کیا جائے۔ اس کے برعکس صوبہ ایک سیاسی اور آئینی اکائی ہے، جسے نمائندگی، قانون سازی کے اختیارات، مالی حقوق اور وفاق کے اندر ایک متعین آئینی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔
یہ فرق نئے صوبوں سے متعلق قومی بحث کے مرکز میں ہونا چاہیے۔
دنیا کے مختلف وفاقی نظاموں کا تجربہ وفاقی اکائیوں کی مثالی تعداد یا حجم کے لیے کوئی ایک متفقہ اصول فراہم نہیں کرتا۔ بڑی وفاقی ریاستیں مختلف داخلی انتظامات کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ وفاقی اکائیوں کے پاس قابلِ عمل ادارے، مناسب مالی وسائل، بامعنی سیاسی نمائندگی اور واضح آئینی اختیارات موجود ہوں۔
لہٰذا پاکستان میں بحث کو موجودہ صوبوں کو محض تقسیم کرنے کے نعروں سے آگے بڑھنا چاہیے۔ کسی بھی سنجیدہ تجویز کو کئی بنیادی سوالات کا جواب دینا ہوگا: نئے صوبے کی حدود طے کرنے کے لیے کیا معیار ہونا چاہیے؟ تاریخ، زبان، آبادی، جغرافیہ یا انتظامی کارکردگی میں سے کس عنصر کو زیادہ اہمیت دی جائے؟ محصولات اور اثاثے کیسے تقسیم ہوں گے؟ پارلیمان میں نمائندگی پر کیا اثر پڑے گا؟ نئے صوبائی ادارے کیسے قائم کیے جائیں گے؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ کیا اس تبدیلی سے شہریوں کو واقعی بہتر حکمرانی میسر آئے گی؟
ان سوالات کا جواب افسر شاہی کی عجلت میں کی گئی منصوبہ بندی کے بجائے سیاسی مذاکرات اور اتفاقِ رائے سے تلاش کرنا ہوگا۔
پاکستان کے پاس یہ جائزہ لینے کی معقول وجوہ موجود ہیں کہ آیا اس کا موجودہ صوبائی ڈھانچا ایک بڑی اور تیزی سے شہری بنتی ہوئی آبادی کی ضروریات کے لیے اب بھی موزوں ہے۔ تاہم نئے صوبوں کا قیام سیاسی عہدوں کی تقسیم یا مزید افسر شاہی کے ڈھانچے کھڑے کرنے کی ایک اور مشق نہیں بننا چاہیے۔
اصل مقصد زیادہ مضبوط وفاقیت ہونا چاہیے: وفاقی سطح پر بہتر نمائندگی، باصلاحیت صوبائی ادارے اور حقیقی معنوں میں بااختیار مقامی حکومتیں۔
نئے صوبوں کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ نہیں ہوگا کہ پاکستان کے نقشے پر کتنی نئی لکیریں کھینچی جاتی ہیں، بلکہ یہ ہوگا کہ کیا یہ لکیریں سیاسی اختیار، عوامی وسائل اور جواب دہ حکومت کو شہریوں کے زیادہ قریب لاتی ہیں۔









