دہشت گرد تنظیمیں اپنی ہی حکمت عملی کا شکار کیسے بن سکتی ہیں؟
القاعدہ، جسے اسامہ بن لادن نے قائم کیا تھا اور جو 11 ستمبر کے حملوں کی ذمہ دار تھی، اب عملاً اس مرکزی دہشت گرد تنظیم کی صورت میں موجود نہیں رہی جو کبھی ہوا کرتی تھی۔ دہشت گردی اور جہادی تشدد یقیناً ختم نہیں ہوئے، اور القاعدہ کا نام استعمال کرنے والے مسلح گروہ اب بھی مختلف خطوں میں سرگرم ہیں۔ تاہم، ان تمام تنظیموں کو خودکار طور پر اس نیٹ ورک کا تسلسل قرار نہیں دیا جاسکتا جس نے 11 ستمبر کے حملوں کی منصوبہ بندی کی اور انہیں انجام دیا۔ القاعدہ کا اصل مرکزی ڈھانچہ بڑی حد تک ختم ہوچکا ہے۔
یہ سمجھنا اہم ہے کہ ایسا کیسے ہوا، کیونکہ القاعدہ کا زوال محض امریکی فوجی طاقت کا نتیجہ نہیں تھا۔ انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں، خفیہ معلومات کے تبادلے اور اعلیٰ قیادت کے خاتمے نے یقیناً اہم کردار ادا کیا، لیکن تنظیم نے اپنی تزویراتی غلطیوں، اندرونی اختلافات اور انہی معاشروں میں حمایت کھونے کے باعث خود کو بھی کمزور کیا جن کے دفاع کا وہ دعویٰ کرتی تھی۔
11 ستمبر سے پہلے القاعدہ بڑے بین الاقوامی حملوں کی منصوبہ بندی اور انہیں انجام دینے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ 1990 کی دہائی میں امریکی مفادات کے خلاف متعدد حملوں کے بعد اس کی کارروائیاں 2001 کے حملوں پر منتج ہوئیں۔ تاہم، اس کے بعد مرکزی قیادت کی ہدایت پر بین الاقوامی کارروائیاں کرنے کی اس کی صلاحیت مسلسل کم ہوتی گئی۔ 11 ستمبر کے بعد پہلی دہائی کے اختتام تک عالمی جہادی سرگرمیوں کا مرکز القاعدہ کی مرکزی تنظیم سے ہٹ کر دوسری تنظیموں کی جانب منتقل ہونے لگا تھا۔
امریکی ردعمل نے اس عمل میں اہم کردار ادا کیا، اگرچہ اس کی حکمت عملی اکثر واضح نہیں تھی۔ 11 ستمبر کے بعد واشنگٹن نے صرف القاعدہ کے خاتمے تک اپنے مقصد کو محدود رکھنے کے بجائے بین الاقوامی دہشت گردی کو وسیع پیمانے پر اپنا دشمن قرار دے دیا۔ اس کے نتیجے میں شروع ہونے والی ”دہشت گردی کے خلاف جنگ“ اس تنظیم کے خلاف کارروائی سے کہیں آگے بڑھ گئی جو ان حملوں کی ذمہ دار تھی۔
عراق پر حملہ اس حوالے سے خاص طور پر اہم ثابت ہوا۔ امریکی قبضے سے پہلے القاعدہ عراق میں سرگرم نہیں تھی، لیکن بعد میں پیدا ہونے والی جنگی صورت حال نے جہادی تنظیموں کو بھرتیوں اور اپنی سرگرمیاں پھیلانے کے مواقع فراہم کیے۔ بالآخر انہی حالات میں وہ تحریک ابھری جو بعد میں داعش کی صورت اختیار کرگئی۔
اس کے باوجود مسلسل انسداد دہشت گردی کارروائیوں نے القاعدہ کو بتدریج کمزور کیا۔ مئی 2011 میں ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت نے تنظیم کو اس کے بانی اور علامتی رہنما سے محروم کردیا۔ اس کے کمپاؤنڈ سے ملنے والی دستاویزات سے بھی ظاہر ہوا کہ بن لادن اس وقت تنظیم کی کارروائیوں پر اس درجے کا عملی کنٹرول نہیں رکھتا تھا جس کا عمومی طور پر تصور کیا جاتا تھا۔ اس لیے اس کی ہلاکت القاعدہ کے لیے عملی اور نفسیاتی دونوں اعتبار سے بڑا دھچکا تھی۔
ڈرون حملوں نے بھی القاعدہ کی قیادت اور عملی صلاحیت کو مزید کمزور کیا، اگرچہ ان کے وسیع تر اثرات پیچیدہ رہے۔ ان کارروائیوں میں جنگجو مارے گئے اور کئی منصوبہ بند حملوں کو ناکام بنایا گیا، لیکن شہری ہلاکتوں اور ڈرون جنگ کے خلاف پیدا ہونے والی ناراضی نے شدت پسندی کو بھی ہوا دی اور بعض اتحادی ممالک کے عوام میں امریکا کے بارے میں منفی تاثر پیدا کیا۔ فوجی طاقت نے القاعدہ کو عملی سطح پر کمزور ضرور کیا، لیکن صرف فوجی طاقت اس کے حتمی زوال کی مکمل وضاحت نہیں کرتی۔
کم نمایاں اقدامات بھی شاید اتنے ہی اہم تھے۔ بین الاقوامی خفیہ معلومات کے تبادلے، دہشت گردوں کی مالی معاونت پر پابندیوں، حیاتیاتی شناخت کے نظام، معلوماتی ذخائر اور ممالک کے درمیان بہتر معلوماتی تعاون نے سرحد پار دہشت گرد نیٹ ورکس کے لیے خفیہ طور پر کام کرنا مشکل بنا دیا۔ مثال کے طور پر 2006 میں امریکی اور برطانوی خفیہ اداروں کے قریبی تعاون نے امریکا جانے والے مسافر طیاروں کو تباہ کرنے کی ایک سازش ناکام بنانے میں مدد دی۔
تاہم، القاعدہ کے زوال کی شاید سب سے اہم وجہ خود تنظیم کے اندر موجود تھی۔
القاعدہ کی حکمت عملی بڑی حد تک اس تصور پر قائم تھی کہ وہ مسلمانوں کو بیرونی دشمنوں سے بچانے والی قوت ہے۔ لیکن القاعدہ سے وابستہ تنظیموں کے حملوں میں بتدریج مسلمان شہریوں کی بڑی تعداد بھی ہلاک ہونے لگی۔ اس تشدد نے مسلم دنیا کو القاعدہ کے پیچھے متحد کرنے کے بجائے ان لوگوں کو اس سے دور کردیا جن کی حمایت تنظیم کے لیے ضروری تھی۔
اسامہ بن لادن خود بھی اس خطرے کو سمجھتا تھا۔ ایبٹ آباد سے ملنے والی خط و کتابت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے اس بات پر تشویش تھی کہ القاعدہ سے منسلک گروہوں کا اندھا دھند تشدد تنظیم کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ عوامی رائے میں تبدیلی نے بھی اس زوال کی عکاسی کی۔ 2003 سے 2011 کے درمیان انڈونیشیا، اردن، فلسطینی علاقوں اور پاکستان سمیت متعدد مسلم اکثریتی معاشروں میں بن لادن کی حمایت نمایاں طور پر کم ہوئی۔ مسلمانوں کو عالمی سطح پر متحرک کرنے والی انقلابی تحریک قائم کرنے کا اس کا خواب بتدریج دم توڑ رہا تھا۔
القاعدہ کو اپنے نام سے سرگرم تنظیموں پر قابو پانے میں بھی مشکلات کا سامنا رہا۔ عالمی نیٹ ورک قائم کرنے کی کوشش نے ایک بنیادی مسئلہ پیدا کیا: اختیارات کی تقسیم نے تنظیم کا جغرافیائی دائرہ تو بڑھا دیا، لیکن مرکزی قیادت کا تزویراتی کنٹرول کم ہوگیا۔ مقامی گروہوں کی اپنی قیادت، مفادات اور طریقہ کار تھے۔ بعض گروہوں نے ایسی حکمت عملیاں اختیار کیں جو القاعدہ کی مرکزی قیادت کے وسیع تر منصوبے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئیں۔
اس کی سب سے اہم مثال وہ تنظیم تھی جو بالآخر داعش بن گئی۔ ابتدا میں القاعدہ کی عراقی شاخ سے نکلنے والی اس تنظیم نے کہیں زیادہ جارحانہ حکمت عملی اختیار کی اور بالآخر القاعدہ سے الگ ہوگئی۔ 2014 تک داعش عراق اور شام کے بڑے علاقوں پر قابض ہوچکی تھی اور ہزاروں غیر ملکی جنگجو اس میں شامل ہوگئے تھے۔ یوں القاعدہ کو اچانک ایک ایسی نئی اور زیادہ نمایاں جہادی تحریک کا سامنا کرنا پڑا جو اس کی حریف بن چکی تھی۔
اس اختلاف نے ایک زیادہ گہرے تزویراتی مسئلے کو نمایاں کیا۔ القاعدہ کی قیادت سمجھتی تھی کہ انتہائی سفاکی بالآخر عوامی حمایت ختم کرسکتی ہے۔ ایمن الظواہری نے ابو مصعب الزرقاوی کو فرقہ وارانہ قتل اور خوفناک انداز میں لوگوں کو قتل کرنے سے خبردار کیا تھا کیونکہ اس طرح کا تشدد مسلم آبادی کو ان سے دور کرسکتا تھا۔ زرقاوی نے ان تنبیہات کو نظرانداز کردیا، اور بعد میں اس کی تنظیم سے ابھرنے والی تحریک نے القاعدہ کو پس منظر میں دھکیل دیا۔
بالآخر داعش نے بھی یہی غلطیاں کہیں بڑے پیمانے پر دہرائیں۔ عراق اور شام میں جنگجوؤں اور علاقوں کو ایک جگہ مرکوز کرکے اس نے خود کو روایتی فوجی طاقت کے لیے آسان ہدف بنا دیا۔ اس کی انتہائی سفاکی نے نظریاتی اور جغرافیائی سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر تقریباً ہر طرف اس کے دشمن پیدا کردیے۔ عراقی، کرد اور شامی افواج کے ساتھ کام کرنے والے بین الاقوامی اتحاد نے بالآخر داعش کی قائم کردہ علاقائی خلافت کا خاتمہ کردیا۔
لیکن اس مقابلے کے بعد القاعدہ دوبارہ اپنی سابق حیثیت حاصل نہ کرسکی۔ وہ اثر و رسوخ، نئی بھرتیوں اور تنظیمی یکجہتی سے محروم ہوچکی تھی۔ الظواہری نے بتدریج زیادہ غیر مرکزی حکمت عملی اختیار کی، جبکہ القاعدہ سے وابستہ تنظیموں نے مرکزی قیادت کی عالمی حکمت عملی پر عمل کرنے کے بجائے زیادہ تر مقامی تنازعات پر توجہ مرکوز کردی۔
جولائی 2022 میں کابل میں الظواہری کی ہلاکت نے مزید واضح کردیا کہ القاعدہ کی مرکزی تنظیم کس حد تک کمزور ہوچکی تھی۔ اس کی موت پر محدود عالمی ردعمل اس دور کے بالکل برعکس تھا جب القاعدہ کی قیادت کو غیر معمولی اہمیت حاصل تھی۔ بعد میں سیف العدل کو تنظیم کا بظاہر سربراہ سمجھا گیا، لیکن ایران میں اس کی موجودگی اور محدود عملی آزادی ظاہر کرتی ہے کہ القاعدہ اس نیٹ ورک سے کتنی دور جاچکی ہے جو کبھی مختلف براعظموں میں حملوں کو منظم کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
القاعدہ کی تاریخ دہشت گردی کے بارے میں ایک وسیع تر سبق بھی فراہم کرتی ہے۔ دہشت گرد تنظیمیں ہمیشہ صرف فوجی شکست کے نتیجے میں ختم نہیں ہوتیں۔ ان کی اپنی حکمت عملی کی ناکامی بھی ان کے زوال کا سبب بن سکتی ہے۔
فوجی کارروائیوں نے القاعدہ کے رہنماؤں کو ہلاک کیا اور اس کے نیٹ ورک کو نقصان پہنچایا۔ خفیہ اداروں کے تعاون نے بین الاقوامی دہشت گردی کی منصوبہ بندی مشکل بنائی۔ مالی پابندیوں نے تنظیموں کی عملی آزادی محدود کردی۔ لیکن القاعدہ نے شہریوں کو قتل کرکے، ممکنہ حامیوں کو خود سے دور کرکے، وابستہ گروہوں پر کنٹرول کھو کر، اندرونی تقسیم کا شکار ہوکر اور بڑے دہشت گرد حملوں کو دیرپا سیاسی کامیابی میں تبدیل کرنے میں ناکام رہ کر خود بھی اپنی بنیادیں کمزور کیں۔
یہ فرق آج بھی اہم ہے۔ افریقہ سے جنوبی ایشیا تک جہادی تنظیمیں بدستور سرگرم ہیں اور ان میں سے بعض مقامی حکومتوں اور شہریوں کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ لیکن القاعدہ کا نام استعمال کرنے والی ہر تنظیم کو ایک ہی مرکزی عالمی نیٹ ورک کا حصہ قرار دینا ایسی تنظیم کی طاقت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرسکتا ہے جس کا اصل مرکزی ڈھانچہ بڑی حد تک ختم ہوچکا ہے۔
11 ستمبر کے بعد شروع ہونے والی طویل مہم کے دوران امریکا اور اس کے اتحادیوں سے سنگین غلطیاں بھی ہوئیں، خصوصاً ایک مخصوص تنظیم کے خلاف جنگ کو دہشت گردی کے خلاف ایک غیر معینہ اور طویل جدوجہد میں تبدیل کرنا ایک بڑی تزویراتی غلطی ثابت ہوا۔ اس کے باوجود 11 ستمبر کے حملوں کی ذمہ دار تنظیم بالآخر اپنے تزویراتی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی۔
اس کے رہنما مارے گئے، اس کا بین الاقوامی نیٹ ورک بکھر گیا، عوامی حمایت کم ہوگئی اور اس سے وابستہ تنظیمیں بتدریج اپنے الگ مقاصد کے حصول میں مصروف ہوگئیں۔
القاعدہ کو اس کے دشمنوں نے کمزور ضرور کیا، لیکن بالآخر اس کی شکست کا بڑا سبب خود اس کے اندر موجود تھا۔ دہشت گرد تنظیمیں برسوں تک فوجی دباؤ برداشت کرسکتی ہیں، لیکن اپنی ہی حکمت عملی کی ناکامی سے بچنا ان کے لیے کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے۔









