تحریر: ششی تھرور
جب مبصرین بھارتی سیاست میں نسلِ زیڈ کی بغاوت کی اہمیت، بینکی پور اور ڈاٹیا کے ضمنی انتخابات سے ملنے والے اشاروں اور ان تشویش ناک علامات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ بظاہر ناقابلِ شکست بھارتیہ جنتا پارٹی اب اپنے انتخابی مفروضوں کو، حتیٰ کہ ہندی خطے میں بھی، یقینی نہیں سمجھ سکتی، تو وقت آگیا ہے کہ ہم حالیہ ہفتوں کے واقعات سے یہ بھی جائزہ لیں کہ باقی لوگ ان سے کیا سبق سیکھ سکتے ہیں۔
’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کی تحریک ذات یا فرقہ وارانہ یکجہتی کے روایتی مراکز سے نہیں نکلی، نہ ہی یہ کسی معروف سیاسی حکمتِ عملی کے ماہرین کے بنائے ہوئے جدید طریقۂ کار کا نتیجہ تھی۔ اس کا آغاز ایک ایسے تحقیر آمیز لمحے سے ہوا جس نے پورے بھارت میں ایک حساس رگ کو چھیڑ دیا۔ جب بھارت کے چیف جسٹس سوریہ کانت نے بظاہر بے روزگار نوجوانوں اور سماجی ذرائع ابلاغ کے کارکنوں کو ’’کاکروچ اور طفیلیے‘‘ قرار دے کر نظرانداز کیا تو انہوں نے غیر ارادی طور پر ایک مایوس نسل کو اس کی شناخت فراہم کردی۔
طنزیہ ڈیجیٹل جوابی مہم کے طور پر شروع ہونے والی یہ تحریک تیزی سے ملک گیر سیاسی قوت میں تبدیل ہوگئی۔ امتحانی پرچوں کے بڑے پیمانے پر افشا، من مانی طور پر امتحانات منسوخ کیے جانے اور روزگار کے مسلسل بحران سے دوچار لاکھوں نوجوان بھارتیوں کی گہری بے چینی کو آواز دے کر کاکروچ جنتا پارٹی نے وہ کام کر دکھایا جس میں مرکزی سیاسی اتحاد برسوں سے ناکام رہے تھے۔ اس نے قومی بیانیے پر گرفت حاصل کی، ملک بھر میں اسی نوعیت کے احتجاج کو جنم دیا اور حکومت کو ایک بڑی پسپائی پر مجبور کیا، جس کا اختتام وزیرِ تعلیم کے استعفے پر ہوا۔
بھارت کی روایتی حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے لیے یہ واقعہ ایک بیداری کی گھنٹی ہے۔ یہ نوجوانوں کو متحرک کرنے کی ہماری موجودہ حکمتِ عملیوں کے بارے میں جدید شہری متحرک کاری کے اہم اسباق فراہم کرتا ہے۔ ہم سب نے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے، اور پولیس تھانے میں ایف آئی آر درج کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے چھرّے والی بندوق کے ایک متاثرہ شخص کے ساتھ راہل گاندھی کا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ انہوں نے اس پکار کو سن لیا ہے۔ نوجوانوں کے درمیان ان کی موجودہ مہم نے قومی سطح پر توجہ حاصل کی ہے۔
مرکزی حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے اس عوامی بے چینی کو بروقت محسوس نہ کر پانا بھارتی سیاست کے ایک مستقل اندھے پن کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے حزبِ اختلاف کا سیاسی بیانیہ زیادہ تر ذات پر مبنی انتخابی حساب کتاب اور سیکولر آئینی نظام کے مجرد دفاع کے درمیان جھولتا رہا ہے۔ اگرچہ دونوں سیاسی جدوجہد کے اہم محور ہیں، لیکن ان کے باعث بھارت کے بڑھتے ہوئے متوسط طبقے اور بہتر مستقبل کے خواہش مند نوجوانوں کی فوری اور مادی پریشانیوں کو نظرانداز کیا گیا۔
وہ نوجوان جو جنتر منتر جیسے احتجاجی مقامات پر جمع ہوئے اور جنہوں نے ڈیجیٹل پلیٹ فارم بھر دیے، وہ اعلیٰ سطح کی سیاسی بیان بازی سے متحرک نہیں ہوئے تھے۔ ان کی بے چینی ایک ایسے مخصوص بحران سے جڑی تھی جس نے ان کی روزمرہ زندگی کو متاثر کیا: برسوں کی تعلیمی محنت کا ضائع ہوجانا، منافع خور کوچنگ کے نظام کے باعث خاندانوں پر بڑھتا ہوا مالی بوجھ، اور سرکاری بے حسی کا ایسا ماحول جو معمول کے مطابق ان کی شکایات کو سست اور محض انٹرنیٹ پر شور مچانے والے نوجوانوں کی آواز قرار دے کر مسترد کردیتا تھا۔
جب روایتی رہنماؤں نے ان مسائل کو اٹھانے کی کوشش کی تو ان کی تنقید کو عموماً معمول کی جماعتی سیاست اور سیاسی موقع پرستی سمجھ کر نظرانداز کردیا گیا۔ اس کے برعکس کاکروچ جنتا پارٹی نے کسی اقتدار کی خواہش رکھنے والی جماعت کے طور پر بات نہیں کی۔ درحقیقت، نام کے باوجود یہ کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے، بلکہ اس نے خود کو متاثرہ نوجوانوں کی حقیقی اجتماعی آواز کے طور پر پیش کیا۔
حزبِ اختلاف کی اس توانائی کو اپنے اندر جذب نہ کر پانے کی بنیادی وجہ شدید ادارہ جاتی رکاوٹیں ہیں، خصوصاً اوپر سے نیچے تک قائم نیم جاگیردارانہ جماعتی ڈھانچوں میں موجود اختیار کی اجارہ داری۔ جنتر منتر پر موجود بیشتر نوجوانوں کی طرح کسی عام، باصلاحیت نوجوان کے لیے، جس کا کوئی سیاسی خاندانی پس منظر یا مالی وسائل نہ ہوں، حزبِ اختلاف کے ذریعے مرکزی سیاست میں داخل ہونے کا کوئی واضح راستہ موجود نہیں۔
یہاں تک کہ ایسی جماعتوں کی قائم شدہ طلبہ تنظیموں یا نوجوانوں کے شعبوں کے ذریعے داخل ہونے کا راستہ بھی اکثر کوئی بامعنی اختیار فراہم نہیں کرتا۔ بڑی جماعتوں کے نوجوان کارکن اکثر ایسی پہلے سے طے شدہ تصویری سرگرمیوں تک محدود رہتے ہیں جن میں انہیں مضبوطی سے قائم قیادت کے پیچھے کھڑا ہونا، سماجی ذرائع ابلاغ پر سینئر رہنماؤں کی تشہیر کرنا یا جلسوں کے لیے افراد کی تعداد اور انتظامی قوت فراہم کرنا ہوتا ہے۔ تمام حزبِ اختلاف کی جماعتوں میں موجود اوپر سے مسلط ’’اعلیٰ قیادت‘‘ کا کلچر نوجوانوں کو اس وقت تک کوئی حقیقی کردار نہیں دیتا جب تک وہ ’’جونیئر‘‘ رہتے ہیں۔
ہمیں ان نوجوانوں کے نفسیاتی مسئلے کو بھی تسلیم کرنا ہوگا جو بہتر مستقبل کے خواہش مند ہیں اور فطری طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی صلاحیتیں ہمیشہ ان سیاسی وارثوں اور مضبوط سیاسی رہنماؤں کے مقابلے میں محدود رہیں گی جو معروف نام رکھتے ہیں اور سیاسی سرپرستی کے وسیع نیٹ ورک پر اختیار رکھتے ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی نے ان تمام رکاوٹوں کو مکمل طور پر نظرانداز کردیا۔ اس نے شمولیت کی حد کو صفر تک کم کردیا، طنزیہ اہلیت کے ایسے اصول اپنائے جنہوں نے شہری شرکت کو ایک کھیل کی شکل دے دی، اور نوجوان شہریوں کو یہ احساس دلایا کہ وہ محض پیدل سپاہی نہیں بلکہ ایک تحریک کے شریک تخلیق کار ہیں۔
مزید برآں، جب زیادہ تر حزبِ اختلاف کی جماعتیں اپنے روایتی طریقۂ کار، تشہیری نظام اور درجہ بند فیصلہ سازی کی پابند رہیں، تو کاکروچ جنتا پارٹی نے ڈیجیٹل مہارت اور تیزی کا مظاہرہ کیا۔ اس نے ایک توہین آمیز لفظ کو دوبارہ اپنے حق میں استعمال کیا اور ثقافتی فہم اور مسلسل طنزیہ مواد کے ذریعے اسے فخر کی علامت بنا دیا۔
اگر بھارت کی حزبِ اختلاف اس تحریک سے سامنے آنے والی وسیع بے چینی کو مؤثر سیاسی متحرک کاری میں تبدیل کرنا چاہتی ہے تو اسے اپنے ڈھانچے اور عملی طریقۂ کار میں بنیادی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔
سب سے پہلے، تمام جماعتوں کو اپنے داخلی نظام کو جمہوری بنانا ہوگا۔ نوجوان رہنماؤں کے لیے حقیقی راستے پیدا کرنا ہوں گے اور ایسے کھلے مواقع فراہم کرنے ہوں گے جہاں نوجوان منتظمین اور پالیسی کے محققین کو سیاسی خاندانی پس منظر کے بجائے صلاحیت اور میرٹ کی بنیاد پر حقیقی فیصلہ سازی کا اختیار حاصل ہو۔
دوسرا، حزبِ اختلاف کو زیادہ تر مجرد نعروں یا مخصوص شعبہ جاتی مفادات، مثلاً ذات کی بنیاد پر سیاست، سے آگے بڑھ کر ایسے ٹھوس حکومتی مسائل کی طرف جانا ہوگا جو تمام بھارتیوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ ہمارے سیاسی منشور ایسے واضح مطالبات پر مبنی ہونے چاہئیں جن میں امتحانی پرچوں کے افشا پر سخت فوجداری ذمہ داری، سرکاری ملازمتوں میں بھرتی کے لیے قانونی مدت کا تعین، اور عارضی و آزادانہ نوعیت کے کام کرنے والے کارکنوں اور طلبہ کے لیے حقیقی معاشی تحفظ شامل ہو۔ حالیہ بحران کے دوران کانگریس اس طریقۂ کار کے سب سے قریب نظر آئی۔
تیسرا، حزبِ اختلاف کی جماعتوں کو کاکروچ جنتا پارٹی جیسی فطری طور پر ابھرنے والی شہری معاشرتی تحریکوں کو اپنے قبضے میں لینے یا انہیں بدنام کرنے کے بجائے ان کے اثر کو بڑھانے والی قوت کے طور پر کام کرنا چاہیے۔ انہیں پارلیمانی سوالات، قانونی معاونت اور انتظامی مدد فراہم کرنی چاہیے، لیکن اس کے بدلے کارکنوں سے یہ مطالبہ نہیں کرنا چاہیے کہ وہ خود کو کسی مخصوص جماعت کے تابع کریں یا اس کے جھنڈے تلے مارچ کریں۔
آخر میں، حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کو روایتی اور گھسی پٹی تقاریر ترک کرکے ایسی براہِ راست، حقیقی اور ثقافتی طور پر ہم آہنگ زبان اختیار کرنی ہوگی جو فرسودہ سیاسی بیان بازی کے بجائے نظام کی ناکامیوں کو تسلیم کرے۔ راہل گاندھی اور اکھلیش یادو جیسے رہنماؤں نے، قابلِ تحسین طور پر، حالیہ عرصے میں اس سمت میں زیادہ پیش رفت کی ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کی تحریک نے ثابت کردیا ہے کہ بھارت کے نوجوان سیاسی طور پر بے حس ہونے سے بہت دور ہیں۔ ان کے اندر جمہوری توانائی کا ایک بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے، جو ایسے راستوں کا منتظر ہے جہاں ان کی ذہانت کا احترام کیا جائے، ان کی ثقافت کی عکاسی ہو اور ان کی امنگوں کو جگہ دی جائے۔
جب تک روایتی حزبِ اختلاف کی جماعتیں اپنے دروازے نہیں کھولتیں، اپنے درجہ بند ڈھانچوں کو تبدیل نہیں کرتیں اور اس نئی حقیقت کے مطابق خود کو نہیں ڈھالتیں، نوجوانوں کی متحرک کاری کی آئندہ لہریں بھی ان کے ہاتھ سے نکلتی رہیں گی۔
یہ ہماری سیاسی میراث نہیں بننی چاہیے کہ ہم اس لیے غیر متعلق ہوگئے کیونکہ ہم نے نوجوانوں کی آواز سننے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا۔
مصنف لوک سبھا میں تھرواننت پورم سے کانگریس کے چوتھی مرتبہ منتخب رکن ہی









